لائف سٹائل

باجوڑ دھماکہ: خیبر پختونخوا میں ہر قسم عوامی اجتماعات پر پابندی عائد

انور خان

باجوڑ میں جے یو آئی ورکرز کنونشن پر خودکش حملے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے متعقلہ اداروں کو جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر میں متعقلہ ڈپٹی کمنشرز کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی سیاسی اور غیر سیاسی اجتماعات پر مکمل پابندی ہو گی۔

محکمہ داخلہ نے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈویژنل کمشنرر کو مراسلہ جاری کرکے احکامات پر عمل درآمد کرنے کی ہدایات کی ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پابندی صوبے میں امن و امان کی سنگین صورت حال اور دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر عائد کی گئی ہے جبکہ کسی بھی جماعت یا گروہ کو سکیورٹی اقدامات پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اجتماعات پر پابندی باجوڑ میں ہونے والے دھماکے کے بعد لگا دی گئی ہے۔ افغان بارڈر سے متصل قبائلی ضلع باجوڑ کے ہیڈکوارٹر خار میں گزشتہ روز جمیعت علماء اسلام کے ورکرز کنونش میں خودکش دھماکہ ہوا تھا۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 150 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے میں زخمی ہونے متعدد افراد اب بھی ڈسٹرک ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار، تیمرہ گرہ ہسپتال، لیڈی ریڈنگ اور سی ایم ایچ پشاور میں زیر علاج ہیں۔

پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث سہولت کاروں کی گرفتاری کے لئے سکیورٹی ادارے مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ خودکش دھماکے میں جمیعت علماء اسلام کے کئی مقامی رہنما بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند ہفتوں سے دھشتگردی کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں جس میں باڑہ تحصیل پر خودکش حملہ، حیات آباد پشاور میں ایف سی اور جمرود میں مسجد کے اندر خودکش دھماکہ شامل ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق وقوعہ کے روز کنونشن کی سکیورٹی پر پولیس اہلکار تعینات تھے جبکہ جے یو آئی کے ذیلی تنظیم انصار السلام کے رضاکار بھی سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے جبکہ دھماکے کے وقت پنڈال میں چار سو سے پانچ سو کی تعداد میں کارکن موجود تھے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button