خیبر پختونخوالائف سٹائل

خیبرپختونخوا میں سیلابی صورتحال: خواتین اور بچے رو رہے ہیں، مرد حالات کا جائزہ لینے دریاؤں کے کنارے کھڑے ہیں

رفاقت اللہ رزڑوال

خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر تباہی مچا دی ہے۔ بارشوں اور لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے صوبے کے مختلف اضلاع میں اب تک 5 افراد کے جاں بحق جبکہ بچیوں اور خواتین سیمت 7 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ چارسدہ کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال سے لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق مردان کے تحصیل تحت بھائی میں مکان کی چھت گرنے کے باعث ایک ہی خاندان کے دو بچے جاں بحق جبکہ واقعہ میں دو بچیاں اور دو خواتین زخمی ہوئی ہیں۔

لوئر دیر کے انتظامیہ کے مطابق علاقہ لاجبوک اونڈیسہ میں مکان پر پہاڑی تودہ گرنے سے 75 سالہ حمیم جان نامی شخص اور ان کا 15 سالہ نواسہ آصف خان جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اسی طرح سوات کے تحصیل کبل میں بھی لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے 17 سالہ لڑکی جاں بحق جاں بحق ہوئی ہے۔ چارسدہ میں ایک بچی جبکہ باجوڑ میں شوہر اور بیوی کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب ضلع چارسدہ میں مون سون کی حالیہ بارشوں کی وجہ سے متعدد علاقے زیر آب آگئے ہیں اور مال مویشیوں بھی پانی میں بہہ گئے ہیں۔

سیلابی پانی میں محصور لوگوں کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں پانی کے اضافے سے کھیتوں اور گھروں میں پانی داخل ہوگیا جبکہ ضلعی انتظامیہ نے اب تک ان متاثرہ افراد کیلئے کوئی اقدامات نہیں اُٹھائے ہیں۔ دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں کے دورے کئے جارہے ہیں اور وہاں پر نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیلاب میں محصور ضلع چارسدہ کے علاقہ گوہر آباد کے رہائشی ملک اول خان نے بتایا کہ دریائے جیندی میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے جس کے باعث علاقے کے لوگوں نے اپنے بچوں اور مال مویشیوں کو اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔

ملک اول خان نے ٹی این این کو بتایا “پانی میں مسلسل اضافے کی خوف سے گھروں میں بچے اور خواتین رو رہے ہیں، علاقے کے بیشتر گھر کچے ہیں جس کی وجہ سے لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔ علاقے کے سارے مرد دریاؤں کے کنارے پر کھڑے ہوکر پانی کا اندازہ لے رہے ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ تاحال ضلعی انتظامیہ کا کوئی بھی ذمہ دار آفسر نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کوئی امداد نہیں کی ہے اور نہ انکے حال کے بارے میں پوچھا ہے۔دریائے جیندی میں پانی کی اضافے کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ پر تیار فصلیں بھی زیر آب آگئی ہیں جس سے کاشتکاروں کے مطابق کروڑوں روپے کے نقصانات ہوئے ہیں۔

دریائے جیندے کے کنارے 30 ایکڑ زمین کی کاشتکار یوسف شاہ نے ٹی این این کو بتایا کہ دریا کے پانی سے آبادی کو محفوظ رکھنے کے لئے کچھ عرصہ پہلے ضلعی حکومت نے مٹی کے پشتیں تعمیر کی تھیں مگر چند لالچی لوگوں نے ان پشتوں کی مٹی ہی کو بیچ دیا جس کا خمیازہ اب تمام علاقہ بھگت رہا ہے۔
یوسف شاہ نے بتایا ” میں نے ایک لاکھ روپے کی تخم بوئی تھی، اسی طرح ہزاروں روپے مزدوروں پر خرچ کئے مگر سیلاب نے تمام فصل تباہ کردی”

انہوں نے کہا کہ بارشوں کی مزید پیش گوئی ہوئی ہے، اگر بارش اس طرح برستی رہے تو مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔
دوسری جانب سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے ضلعی انتظامیہ کے افسران نے متاثرہ علاقوں کے دورے شروع کئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کے ترجمان حمیداللہ نے ٹی این این کو بتایا کہ اب تک ملنے والے اطلاعات کے مطابق تحصیل شبقدر میں ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک بچی زخمی جبکہ تحصیل تنگی میں دیوار گرنے سے دو گائے ہلاک ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم نے ضلع میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف مقرر کیا ہوا ہے جس کے ماتحت محکمہ ریونیو، تحصیل میونسپل اور ریسکیو 1122 کے ادارے کام کر رہے ہیں اور جہاں پر نقصانات کے حوالے سے اطلاعات مل رہی ہیں وہاں پر امدادی سامان پہنچانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے اور فی الحال حالات قابو میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضلع چارسدہ میں تین دریائیں موجود ہیں جن میں کسی میں بھی فی الحال ‘خطرناک’ سیلاب کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ انکے مطابق سردریاب میں 150 ہزار کیوسک، دریائے خیالی میں 1 لاکھ جبکہ دریائے جیندی میں 28 ہزار کیوسک پانی کی بہاؤ کی صلاحیت ہے۔ اس وقت سردریاب اور خیالی میں نچلے جبکہ جیندی میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔

حمیداللہ کا کہنا کہ ضلعی انتظامیہ بالائی علاقوں کے انتظامیہ سے رابطے میں ہے اگر وہاں پر مزید بارشیں ہوتی ہے تو زیریں علاقوں میں طغیانی اور سیلابوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ محکمہ موسمیات خیبرپختونخوا کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، خیبر، کرم، کوہاٹ، ہنگو، بالائی وہ زیریں دیر، چترال، شانگلہ، ملاکنڈ، باجوڑ، سوات، مہمند، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور بونیر کے اضلاع میں مزید بارشوں کا امکان موجود ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button