”ہنر کور” شدت پسندی کے ماحول میں آرٹ و موسیقی کا گھر
ہنر کور میں رباب، ستار، ہارمونیم، گٹار، اور طبلہ وغیرہ جیسے تمام آلات دستیاب؛ طلباء سکیچنگ، پینٹنگ اور تصویر نگاری کی تربیت لیتے ہیں، ادارہ علاقائی ثقافت کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

ملاکنڈ کے علاقے تھانہ میں "ہنر کور” (کور پشتو میں گھر کو کہتے ہیں) کے نام سے ایک آرٹ اکیڈیمی قائم کی گئی ہے جو موسیقی اور آرٹ کی تدریس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے ایک مثبت اور تخلیقی پلیٹ فارم کے طور پر بھی سامنے آ رہی ہے۔ ہنر کور میں رباب، ستار، ہارمونیم، گٹار، اور طبلہ وغیرہ جیسے موسیقی کے تمام آلات دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ طلباء کو سکیچنگ، پینٹنگ اور تصویر نگاری کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ یہ ادارہ اپنی خدمات کے زریعے علاقائی ثقافت کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
ہنر کور کے بانی اور روح رواں، امجد شہزاد، خود بھی شاعر، موسیقار اور مصنف ہیں۔ ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے بتایا : "ہنر کور کا آغاز 22 سال پہلے کیا۔ ابتدا میں مشاعرے اور سٹڈی سرکلز منعقد کرتے تھے لیکن 2009 میں حالات کشیدہ ہونے کے بعد ہم نے بطور مزاحمت امن مشاعروں اور موسیقی کے پروگرام کر کے معاشرے کو جوڑنے کی کوشش کی۔ اُس وقت ہم نے مزاحمت کی اور انتہاپسندی کے خلاف کھڑے ہوئے۔ آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے مشن میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔”
امجد شہزاد کے مطابق ہنر کور میں نہ صرف فزیکل کلاسز بلکہ آن لائن کلاسز بھی ہوتی ہیں؛ ” اِن کلاسز میں دوردراز علاقوں کے طلباء اور سماجی دباؤ کے باعث ادارے میں آنے سے معذور رہنے والوں کے علاوہ زیادہ تر خواتین اور بیرون ملک رہائش پذیر پشتون طلبہ شامل ہوتے ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: یکم جنوری 2025 سے لائف انشورنس سکیم شروع کرنے کا فیصلہ
چیلینجز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 2009 میں کشیدگی کے دوران ہنر کور کو کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا: "شدت پسندوں کی جانب سے مجھے دھمکی آمیز کالز موصول ہوئیں، اور کہا گیا ‘یہ کفر کا سامان ختم کرو، ورنہ انجام برا ہوگا’ حتیٰ کہ ایک دن جاسوس بھکاری کے روپ میں اکیڈیمی آیا اور اندر کا جائزہ لینے کے بعد رات کو مجھے کال کر کے دھمکیاں دینا شروع کر دیں مگر میں اپنے مشن پر قائم رہا۔”
ہنر کور کی ایک اور اہم شخصیت بریخنا شہزاد، امجد شہزاد کی بہن، ایک باصلاحیت پینٹر ہیں۔ ان کی پینٹنگز ہنر کور کی دیواروں کی زینت ہیں اور زیادہ ترخواتین کے حقوق کی عکاسی کرتی ہیں۔ بریخنا نے بتایا: "ہمارے معاشرے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عورت یا تو گھر کی ہوتی ہے یا قبر کی، لیکن ہمیں یہ سوچ تبدیل کرنی ہو گی۔”
ہنر کور سے تربیت حاصل کرنے والے کئی طلبہ اپنے شوق کو عملی شکل دے چکے ہیں۔ بچپن سے پنسل آرٹ کا شوق رکھنے والے عباد نے بتایا کہ ہنر کور نے ان کی صلاحیتوں کو نکھارا اور اب وہ ایک ماہر پنسل آرٹسٹ ہیں اور کئی علاقائی اور قومی مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔
اسی طرح زرغون یوسفزئی ایک ماہر رباب نواز بن چکے ہیں جن کا کہنا تھا: "میں ہنر کور کے قریب رہتا ہوں جہاں سے پروفیشنل انداز میں رباب بجانا سیکھا۔ اب میں شوقیہ رباب بجاتا ہوں، اور دوستوں کا پسندیدہ رباب نواز ہوں۔”
عوامی نیشنل پارٹی کے سابق امیدوار برائے صوبائی اسمبلی اظہار خان ہنر کور جیسے اداروں کو معاشرے کے محسن سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ایسی اکیڈیمیز کے قیام کے لیے فنڈز مختص کرے؛ لیکن افسوس کی بات ہے کہ اِس ملکِ خداداد میں حکومت صحت اور پانی کی فراہمی جیسی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتی، آرٹ اور موسیقی کا فروغ تو بہت دور کی بات ہے۔
اس معاملے پر حکومتی موقف جاننے کے لیے ایم پی اے شکیل احمد خان سے رابطہ کرنے کی بار بار کوشش کی گئی تاہم ان کا موبائل فون بند پایا گیا۔
موسیقی اور آرٹ کے علاوہ، ہنر کور میں سٹڈی سرکلز کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ شریک ہوتے ہیں؛ اور اختتام تقریباً ہمیشہ محفل موسیقی سجا کر کیا جاتا ہے۔ ان سٹڈی سرکلز میں مختلف موضوعات پر گفتگو کی جاتی ہے۔
اِن سٹڈی سرکلز میں باقاعدگی سے شرکت کرنے والے اعزاز احمد نے بتایا کہ ہنر کور میں پشتو املا، آرکیالوجی، اور ذہنی بیماریوں جیسے مختلف موضوعات؛ پر سٹڈی سرکلزکا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں متعلقہ ماہرین کو مدعو کیا جاتا ہے: "ہنر کور ملاکنڈ جیسے علاقے میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور امن کو فروغ دینے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے؛ ایسے ادارے پورے ملک میں قائم ہونے چاہئیں۔”