”تیسری بیٹی کی پیدائش پر تو میری زندگی عذاب بن گئی”

صباعلی/ لائبہ حسن
‘پہلی بیٹی کی پیدائش پر میری ساس کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک نہیں تھا، جب دوسری بیٹی پیدا ہوئی تو گھر میں رہنا مشکل ہو گیا جبکہ تیسری بیٹی کی پیدائش پر تو میری زندگی عذاب بن گئی۔’
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان سے تعلق رکھنے والی پانچ بیٹیوں کی ماں مسرت کا کہنا ہے کہ ان کی پانچویں بیٹی پیدا ہوئی تو سسرال والوں کا رویہ اور بھی خراب ہونے لگا جبکہ کھانے پینے کے ساتھ چالیسویں میں بھی ان کی ٹھیک طرح سے دیکھ بھال بھی نہیں کی گئی۔
ٹی این این سے بات کرتے ہوئے مسرت نے بتایا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بھی لوگ لڑکی کی پیدائش پر نہ صرف خفگی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ لڑکی کی ماں کو قصوروار بھی ٹھہراتے ہیں حالانکہ بیٹی ہو یا بیٹا دونوں ماں کے جگر کے ٹکڑے ہوتے ہیں لیکن اس بات کو ہر کوئی نہیں سمجھتا۔
وہ کہتی ہیں میری ہر بیٹی کی پیدائش پر مجھے قصوروار سمجھا گیا، ہر دن میرے ساتھ اس بات پر لڑائی جھگڑے ہوتے تھے کہ تم نے کیوں بیٹی کو جنم دیا، میں روتی تھی اور دعا کرتی تھی کہ یا اللہ مجھے بھی ایک بیٹے عطا کر دے، اب میری پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔
مسرت کے مطابق وہ اکیلی عورت نہیں جو اس قسم کے حالات سے گزری ہیں کیونکہ ایسی بہت سی خواتین ہیں جنہیں گھروں میں اس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
‘لڑکیاں تو پرائے گھر کی ہوتی ہیں’
خیبر پختونخوا میں خواتین کےحقوق کیلئے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم (د حوا لور) کی انتظامی افسر خورشید بانو کے مطابق ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھی ہوتی ہے کہ بیٹیاں تو پرائے گھر کی ہوتی ہیں اس لئے جب بھی کسی کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوتی ہے تو بیٹی کو اسی وقت سے نظر انداز کرنا شروع کر دیا جاتا ہے جبکہ بیٹی کی پیدائش پر اس کی ماں کو کوئی مبارک باد بھی نہیں دیتا۔
بقول خورشید بانو لڑکی کو پیدائش سے لیکر مرنے تک ہر جگہ نظر انداز کیا جاتا ہے اور لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کو کم اہمیت دی جاتی ہے، اس لئے نہ تو وہ اعلی تعلیم حاصل کر سکتی ہیں نہ خود اپنا فیصلہ کر سکتی اور نہ ہی شادی کے بعد اپنے حقوق سے واقف ہوتی ہیں اور نہ ہی گھر والے ان کو جائیداد میں حصہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر لڑکیوں اور خواتین میں احساس کمتری پایا جاتا ہے۔
علمائے دین کیا کہتے ہیں؟
مردان کے علاقے شیرخان کالونی سے تعلق رکھنے والے مفتی محمد جان نے حدیث شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اولاد اللہ تعالی ٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی اس نعمت ( بیٹی اور بیٹا) کی قدر اور شکر ادا کرے،’ جس نے بھی اپنی بیٹی کی صحیح پرورش کی اور اسے اچھا کھلایا تو یہ والدین کیلئے آخرت میں اجر کا ذریعہ ہے۔
ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں؟
پشاور سے تعلق رکھنے والی نیورو فزیکل تھراپسٹ ڈاکٹر ایمان سمیہ خٹک کے مطابق بیٹی اور بیٹے کی پیدائش کا انحصار مرد کے کروموسوم پر ہوتا ہے کیونکہ بچہ بننے میں ماں باپ کے کروموسوم ایک دوسرے ملتے ہیں جس میں ایکس کروموسوم ماں جبکہ وائے کروموسوم باپ سے آتے ہیں اس دوران اگر باپ سے وائے کروموسوم آ جائے تو بیٹا پیدا ہوتا ہے اور اگر ایکس کروموسوم آئے تو بیٹی کی پیدائش ہوتی ہے اسی وجہ سے بیٹا یا بیٹی کی پیدائش کا انحصار مرد پر ہوتا ہے۔
سمیہ کے مطابق بیٹا ہو یا بیٹی، والدین کو چاہیے کہ دونوں کی اچھی پرورش کریں تاکہ کل کو وہ بھی اپنی اولاد کی اچھی پرورش کر سکیں۔