‘گرمی نہیں لیکن گرمی کے ملبوسات کو کافی پسند کرتی ہوں’

 

انیلا نایاب

پاکستان میں موسم گرما کا آغاز ہو چکا ہے باقی موسموں کے مقابلے میں گرمی کا موسم طویل ہوتا ہے۔ گرمی کی آمد تو اپنی جگہ لیکن گرمی کے ساتھ ہی میرے ذہن میں لان کے خوب صورت اور دیدہ زیب ملبوسات آجاتے ہیں سردی کے مقابلے میں مجھے گرمی کے ملبوسات زیادہ پسند ہے اسلئے گرمی کے آغاز ہی سے میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس سال لان میں کونسا رنگ زیادہ ان ہےاور رنگ کے ساتھ ساتھ کپڑوں کی سلائی پر بھی کافی غور کرتی ہوں اور یہی کوشش ہوتی ہے کہ رنگوں کے انتخاب کے ساتھ ہی سلائی بھی بہتر ہو رنگ اور سلائی کے ساتھ میں ان باتوں کا بھی خیال رکھتی ہوں کہ قد رنگت اور جسامت کے اعتبار سے کونسا فیشن اچھا رہے گا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال سفید اور مسٹرڈ کلر ان ہیں سفید رنگ چہرے پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے اس لیے میں سفید رنگ کے دوپٹے کو زیادہ ترجیح دیتی ہوں۔
لمبے قد کی لڑکیوں پر شارٹ قمیض موٹی لڑکیوں پر فراک اور چھوٹے قد والی لڑکیوں پر لمبی قمیض بالکل بھی نہیں جچتے تو کوشش کریں کہ جس طرح آپ دکھتی ہے اس حساب سے کپڑوں کے ڈیزائن بنایا کریں تاکہ خوبصورت نظر آسکیں۔
ہر لڑکی کی طرح میری بھی کوشش ہوتی ہے کہ گرمی کے ملبوسات سب سے منفرد ہو چاہے وہ رنگ ہو یا سلائی ہو
جس سال جو رنگ زیادہ پسند کیا جاتا ہے اس رنگ کی قیمت اور رنگوں سے مختلف ہوتی ہے دوکاندار کا کہنا ہوتا ہے چونکہ یہ رنگ اور رنگوں کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا جاتا ہے اس لیے اس کی قیمت بھی زیادہ ہے بعض دوکاندار تو اس سال لان کی مہنگائی کو کرونا سے جوڑ رہے ہیں، جب میں نے مسٹرڈ(سرسوں)رنگ کی قمیض خریدنی چاہی تو دوکاندار کا یہی کہنا تھا کے اس رنگ کی قیمت اور رنگوں سے زیادہ ہے کیونکہ آجکل اس رنگ کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے ویسے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کے رنگ کی بھی قیمت ہوتی ہے؟
ایک طرف لان کے کپڑے کی مہنگائی تو دوسری طرف اس کی سلائی بھی آسمان سے باتیں کرتی ہے ایک عام سادہ سوٹ کی سلائی 1500 روپے ہے تو خود سوچیے کے ڈیزائنر سوٹ کی سلائی کتنی مہنگی ہوگئی سلائی مہنگی ہوگئی ہے۔
یہ تو تھی میری پسند اب بات کرتے ہیں اور خواتین کی بات کہ وہ کیا اہتمام کرتی ہیں گرمی کے ملبوسات کے لیے۔
گرمی کے آمد کے ساتھ ساتھ ہی عورتیں بازاروں کا رُخ کرتی ہے اور ان کی خریداری میں لان کے ملبوسات ضرور شامل ہوتے ہیں آج کل خواتین عام لان کے بجائے ڈیزائن لان میں زیادہ دلچسپی لیتی ہے حالانکہ عام لان اور ڈیزائین لان میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا لیکن پھر بھی آج کل ہر خاتون کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ڈیزائنر سوٹ زیب تن کریں ڈیزائنر سوٹ کی پسندیدگی کی دو بڑے وجوہات ہیں ایک تو یہ دیکھنے میں انتہائی خوب صورت ہوتے ہیں دوسری بات سلوانا انتہائی آسان ہوتا ہے
ہر دوکان میں کافی تعداد میں مختلف قسم کے اسٹائلش پرنٹس موجود ہوتے ہیں ہلکے کپڑے جس میں لان لیلن اور کاٹن موسم گرما کی خاص ضرورت ہے۔
ان دنوں میں گرمی خاص عروج پر ہوتی ہے اور اس گرمی سے بچاؤ کے لیے خواتین ہلکے ملبوسات زیب تن کرتی ہے جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ آرام دہ بھی ہو۔
موسم گرما میں خوبصورت اور ہلکے کپڑوں کے ساتھ ساتھ خواتین ہلکے رنگوں کے انتخاب پر بھی زور دیتی ہے خاص طور ہلکا سبز ہلکا نیلا ہلکا گلابی اور سفید ہلکے رنگوں کے ساتھ ساتھ گرمیوں میں ہلکے ڈیزائن اور پرنٹ کو پسند کیے جاتے ہیں۔
پشاور کی رہائشی رابعہ کا کہنا ہے کہ مجھے گرمی کا موسم پسند نہیں ہے لکین گرمی کے ملبوسات کو کافی پسند کرتی ہوں لان کے کپڑوں کے ہلکے رنگ جو آنکھوں کو کافی اچھے لگتے ہیں موسم سرما کے مقابلے میں موسم گرما کے کے کپڑوں کے رنگ ڈیزائن اور پرنٹ زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں۔
لان کے کپڑوں میں ہر ایک ڈیزائن بہت خوب صورت ہوتا ہے اور واضح طور پر نظر اتا ہے گرمی سے بچاؤ کے لیے کپڑوں کے رنگ کافی اہمیت رکھتے ہے کچھ رنگ ایسے ہوتے ہیں جن کو پہن کر آپ خود کو ٹھنڈا اور کئی ایسے رنگ ہوتے ہیں جن میں آپ خود کو گرم محسوس کرتے ہیں۔
ہر رنگ کا اپنا تاثیر ہوتا ہے کچھ رنگوں کا تاثیر ٹھنڈا جبکے کچھ کا تاثیر گرم ہوتا ہے اسلئے کپڑوں کا انتخاب کرتے وقت رنگوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے جو موسم گرما کی گرمی کی شدت کو کم کرنے میں مدد دیں۔ سفید ہلکا نیلا ہلکا گلابی ہلکا سبز فیروزے ان رنگوں کے تاثیر ٹھنڈے ہوتے ہیں
ہلکے رنگ ہر عمر کے خواتین پر جچتے ہیں ان رنگوں میں شخصیت باوقار نظر آتی ہے گرمی کی شدت کی کمی کے ساتھ ساتھ خواتین کی شخصیت کے وقار کو بڑھاتی ہے۔
رنگوں کے انتخاب کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کپڑا کس قسم کا ہے کپڑا پسینہ جذب بھی کرتا ہے کہ نہیں بعض ایسے لان بھی ہوتے ہیں جن میں ہوا نہیں گزرتی اور نہ ہی پسینہ جذب کرتا ہے مصنوعی دھاگے سے بنے ملبوسات پیسنے کو جذب نہیں کرتا اور پیسنے کے نشانات بغلوں اور پیٹ پر نمایاں نظر آتے ہیں جو دیکھنے میں کافی برے نظر آتے ہیں۔
گرمی میں ہلکے کپڑوں ٹھنڈے رنگوں کے ساتھ ساتھ ملبوسات کی سلائی پر بھی خاص توجہ دینی چاہیے فٹنگ والی قمیض کے بجائے اگر کھلا کرتا اور پاجامہ کے بجائے اگر پلازو ہو تو پہنے والی خاتون کافی بہتر محسوس کرینگی گرمی کے موسم میں خواتین چھوٹے آستینوں کو ترجیح دیتی ہے حالانکہ گرمی میں پورے آستین بہتر ہوتے ہیں نہ صرف ہاتھوں کا رنگ خراب ہونے سے بچتا ہے بلکہ ہاتھ گرمی سے بھی محفوظ ہوتے ہیں۔
آجکل لان کے ایسے ڈیزائن اور پرنٹ بازار میں موجود ہیں جو عام دنوں کے علاوہ عید اور تقریبات میں بھی پہنے جا سکتے ہیں تو سوچ سمجھ کر شاپنگ کیجئے اور پیارے ڈیزائن کے لان خریدیئے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button