کوہاٹ: افغان مہاجرین کو نئے پی او آر کارڈز کے حصول میں مشکلات کا سامنا

 

شمس افغان

کوہاٹ میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کو نئے پی او آر کارڈز کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ افغان مہاجرین نے اس سلسلے میں یو این ایچ سی آر سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ملک شاہ محمود خان نے اس حوالے سے ٹی این این کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے افغان مہاجرین کیلئے کارڈز کا جو پروگرام شروع کیا گیا ہے اس کو ہم سراہتے ہیں لیکن اس میں ہمیں کچھ مشکلات کا سامنا ہے، پہلا یہ کہ رش بہت زیادہ ہے جو نمبر فراہم کیا گیا ہے وہ لگتا نہیں ہے اور جب رابطہ ہو جاتا ہے تو صرف اس فرد کو نمبر دیا جاتا ہے اور اگر ان کے بیٹے ہیں تو ان کو الگ الگ کال کرنا اور نمبر  لینا پڑتا ہے جو بہت مشکل ہے،فیملی کا صرف ایک سربراہ مقرر کیا  جائے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ یہ ہم کو الگ الگ بٹھا کر ہم سے افغانستان کے مختلف علاقوں کے حوالے سے پوچھتے ہیں تو جو ہماری نئی نسل ہے ان کو ان چیزوں کا نہیں پتہ، یہ اگر گھر کے ایک ہی سربراہ کو بلا لیتے تو ان کے پاس ساری معلومات ہوتی ہیں۔

تیسری بڑی بات ہم اف

غان خواتین کے حوالے  سے سخت ہیں لیکن اب ہماری مجبوری ہے لہذا خواتین کی تصاویر بنانے کیلئے مرد کی بجائے خواتین فوٹو گرافر بٹھائی جائے تاکہ ہماری خواتین بلاججھک جاکر نئے پی او آر کارڈز بنوا سکیں۔

ملک شاہ محمود خان نے کہا کہ وہ تمام قوانین مانتے ہیں اور اس پر عملد در آمد بھی کریں گے لیکن جہاں کمی ہے وہاں حکومت کو ضرور یاد دلائیں گے۔

ملک شمس الدین نے ٹی این این کو بتایا کہ ہم فراہم کردہ نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش میں تھے لیکن ہمارا رابطہ نہیں ہوا اب جب رابطہ ہوا تو ہمیں بتا رہے ہیں کہ کوہاٹ کا ڈیٹا مکمل ہو چکا ہے ہم حیران ہے یہ ڈیٹا کیسے مکمل ہوا کوہاٹ میں مقام تمام افغان مہاجرین تو رہ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تو صرف دن میں پانچ گھر کر لیتے ہیں یہ بہت کم ہیں۔

پی او آرز کارڈز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ملک اول خان نے بتایا کہ انٹری میں معذور افراد کیلئے کوئی طریقہ کار نہیں بنایا گیا ہے معذور افراد کیلئے وہاں جانے کا کوئی بندوبست نہیں.

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر افغان مہاجرین آن پڑھ ہیں اور وہ نمبر ملانے اور آن لائن انٹری کرنے کے طریقہ کار سے ناواقف ہیں، اس کے علاوہ خواتین کو سہولت فراہم کرنے کیلئے خواتین کا سٹاف موجود نہیں ہیں جو افسوسناک ہے۔

انہوں نے حکومت اور یو این ایچ سی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے پی او آر کارڈز کے حصول میں انکو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ دور کئے جائے تاکہ انکو آسانی سے پی او آر کارڈز مل سکیں۔

 

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button