قیدیوں سے ملاقات پر پابندی کے باوجود لوگ جیل کے سامنے کیوں بیٹھے رہتے ہیں؟

 

عبد القیوم آفریدی

پشاور سنٹرل جیل کے سامنے درجنوں لوگ موجود ہیں جن میں تقریبا سپین داڑھی رکھنے والا ایک شخص سب سے زیادہ فکرمند دکھائی دے رہا جو کہ کبھی جیل کے سکیورٹی گارڈ کے پاس جاتا اور کبھی فون کالز پر کسی سے انتہائی عاجزانہ انداز میں بات کر رہا ہوتا ہے۔ ان کا نام عمر خان ہے جن کی عمر تقریبا ساٹھ سال ہے اور درہ آدم خیل کا رہائشی ہیں، انہوں نے ہاتھوں میں کپڑوں کا ایک شاپر پکڑا ہوا ہے۔ شاپر میں ان کے بیٹے کے کپڑے ہیں جنہیں پولیس چند دن پہلے گرفتار کرچکی ہے۔ عمر خان نے بیٹے کے لئے کپڑے اور چند دوسری ضروری اشیاء لائی ہیں لیکن انہیں بتایا گیا کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر قیدیوں سے ملاقات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اب وہ سکیورٹی گارڈ کو منتیں کر رہا ہے اور فون پر ان کے لئے کوئی سفارشیں بھی ڈھونڈ رہا ہے کہ یہ کپڑے ان کے بیٹے تک پہنچائے جائے لیکن گیٹ پر مامور عملہ ان کی کوئی بات سننے کو تیار دکھائی نہیں دے رہی۔

عمرخان کا کہنا ہے کہ اندر ایک دوست کو 15سو روپیہ اس غرض سے دیئے تھے کہ انکے بیٹے کا کورونا ٹیسٹ کرے گا لیکن اس شخص نے انکے پیسے کھا لئے انہوں نے کہا کہ چار گھنٹے سے باہر انتظار کیا لیکن پولیس والے کہتے ہیں کہ قیدی سے ملاقات پر پابندی ہے۔ عمر خان نے غمزدہ ہوکر کہا کہ بیٹے عرفان کی والدہ بھی ساتھ ملنے ارہی تھی لیکن انہوں نے منع کیا کیونکہ وہ بوڑھی ہے اور میں خود بھی مشکل سے یہاں پر ایا ہوں لیکن ملاقات پر پابندی کی وجہ سے میں نہیں مل پایا اور اب یہاں سے جارہا ہوں۔

جیل کے سامنے کھڑے زیادہ تر لوگ عمر خان کی طرح بے خبری میں یہاں آئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اس سے پہلے لاعلم تھے کہ قیدیوں سے ملاقات پر پابندی عائد کی گئی ہیں۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے مطابق پاکستان کے جیلوں میں اس وقت 80 ہزار کے قریب قیدی مختلف جیلوں میں موجود ہے۔جس میں 1200 خواتین اور لڑکیاں جبکہ ایک ہزار کے قریب اٹھارہ سال سے کم عمر بچے شامل ہے۔

اسی طرح محکمہ جیل خانہ جات خیبر پختونخوا کے ڈپٹی ڈاریکٹر حشمت علی کے مطابق صوبے میں میں 11 ہزار 362 افراد کی گنجائش ہے جبکہ موجودہ حالات میں 12 ہزار 48 مرد اور 185خواتین اور لڑکیاں شامل ہے۔

خیبر پختونخوا میں کورونا کی دوسری لہر شروع ہوتے ہی حکومت نے ایک دفعہ پھر قیدیوں کے ساتھ ملاقات پر پابندی کا اعلان کیا ہے لیکن پشاور میں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد جیل میں قید اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ملاقات کےلئے باہر انتظار میں کھڑے رہتے ہیں پر عمر خان کی طرح واپس گھر لوٹ جاتے ہیں۔

عمر خان کی طرح پشاور ہشتنگری کی رہائشی افغان خاتون بھی اپنے بیٹے سے ملاقات کےلئے بچوں کو ساتھ لیکر آئی ہیں لیکن وہ بھی نہ مل پائی۔ عزیزہ نامی خاتون نے کہا کہ گزشتہ سات ماہ سے انہوں نے اپنے بھائی کو نہیں دیکھا اب ائے ہیں تو جیل میں ملاقات کےلئے پولیس اجازت نہیں دے رہے انہوں نے کہا کہ انکے ساتھ انصاف کیا جائے انہوں نے کہا کہ ایک طرف بازار ،مارکیٹ اور دکانیں کھلی ہیں لیکن دوسری جانب اپنے پیاروں سے ملاقات کی وجہ سے کورونا پھیل رہاہے یہ کیسا انصاف ہے؟

پشاور سنٹر جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے ٹی این این کو بتایا کہ کہ کورونا شروع ہونے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا کہ جیل میں قیدیوں سے ملاقات پر پابندی ہوگی تو اسلئے رشتہ داروں کو انکے قیدیوں سے ملنے پر پابندی ہے ، بیت اللہ نے مزید بتایا کہ حکومت نے قیدیوں کی کورٹ پروڈکشن پر بھی پابندی لگائی ہے ملزم کا کیس عدالت میں کاغذات لیکر پیش کیا جاتا ہے اور فیصلے کے مطابق ان پر عمل کیا جاتا ہے۔

بیت اللہ نے مزید بتایا کہ جیل کے اندر انہوں نے قدیوں میں کورونا کی عدم پھیلاﺅ کےلئے ماسک ،صابن ،سینٹائزر سمیت دیگر حفاظتی سامان مہیا کی ہے جبکہ اپس میں فاصلے کو بھی برقرار رکھا جارہاہے تاکہ کورونا نہ پھیلے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر لحاظ سے جیل کے اندر کورونا ایس او پیز پر عمل پیرا ہے اور اللہ کے فضل سے تاحال جیل میں کسی قسم کا کورونا کیس سامنے نہیں آیا انہوں نے اپیل کی انکے ساتھ تعاون کیا جائے تاکہ کورونا وائرس پر قابو پاسکے۔

ایک طرف اگر حکومت اپنا موقف پیش کررہی ہے تو دوسری جانب جیل میں قیدیوں کے رشتہ دار بھی سوالات اٹھا رہے ہیں کہ ایک طرف بازار، دکانیں کھلی ہیں جبکہ حکومت اور اپوزیشن ملک کے طول و عرض میں جلسے اور جلوسوں کا انعقاد کر رہی ہے ،اگر حکومت چاہے تو ایسے میں کورونا ایس او پیز پرعمل کرکے رشتہ داروں کو انکے قیدیوں سے ملاقات ممکن بناسکتی ہے۔

سماجی کارکن شفیق گگیانی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ کرونا وائرس ملنے سے پھیلتا ہے لیکن چونکہ قیدی پہلے ہی سے ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں تو ایسے میں اگر انکے رشتہ دار بھی ان سے نہ مل سکے تو انکو بہت ساری ذہنی پریشیانیاں لاحق ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقنی بنا کرقیدیوں کو انکے رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت دے سکتی ہے۔

شفیق گگیانی نے کہا کہ حکومت ایسے اقدامات اٹھائے جس کے تحت 6 میٹر کے فاصلے، ماسک اور سینی ٹائزرز کے استعمال کو یقینی بنا کرملاقاتوں کی اجازت دے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ حکام کو اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جیل میں کتنے قیدیوں کی گنجائش ہے اور کتنے قیدیوں کو جیل میں رکھا گیا ہے تاکہ جیل میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button