‘سلیمانی چائے، ثنا مکی سے کورونا کا علاج، ہسپتال میں زہر کا انجکشن’ ایسی غیرمستند معلومات نے اپنا کام کر دکھایا ہے

عبدالقیوم افریدی
خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف پروپیگنڈے ،غیر مستند معلومات اور جعلی ویڈیوز کی بھر مار نے نہ صرف اس وبا کے خلاف رواں مہم کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے بلکہ ان کی وجہ سے لوگوں کے اندر خوف بھی پیدا ہوگیا ہے۔
پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا میں سوشل میڈیا پر کورونا وائرس کے حوالے سے جو غیرمستند معلومات پھیلی گئی ہیں ان میں زیادہ تر اس وائرس سے بچاؤ اور اس کے علاج کے متعلق تھے۔
‘کورونا کا علاج سلیمانی چائے سے ممکن ہے، ثنامکی کے پتے اس کے علاج میں کارآمد ہیں، ادرک، پیاز، لہسن کا استمال اس وائرس سے بچاؤ میں مفید ہیں’۔ یہ اور اس سے ملتے جلتے سینکڑوں غلط اور غیرمستند معلومات پر مبنی ویڈیوز اور مسیجز سوشل میڈیا پر گردش کرتے آ رہے ہیں
اس کے علاوہ چند ایسے غلط معلومات بھی پھیلائے گئے جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف پیدا ہوگیا اور انہوں نے ہسپتالوں میں علاج سے گریز کرنے لگیں جیسے کہ دوسری بیماریوں کے مریضوں کو کورونا لسٹ میں ڈالنا، کورونا کے مثبت مریضوں کو زہر کا انجکشن لگنا اور کورونا سے ہونے والی اموات پر حکومت کو باہر ممالک سے پیسے ملنا۔
اس سے نہ صرف لوگوں میں خوف مزید بڑھ گیا بلکہ اس مرض کے خلاف رواں مہم کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے پچاس سالہ عالمزیب خان بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے اسی ڈر اور خوف کی وجہ سے اپنے بیمار بیٹے کو ہسپتال نہیں لیکر گیا کہ کہیں ان کو زہر کا انجکشن نہ لگایا جائے اور گھر کے اندر ٹوٹکوں کے ذریعے علاج کی کوشش کی ۔
عالمزیب خان نے ٹی این این کو بتایا کہ سولہ سالہ صدام خان جو پہلے سے جھٹکے کا مریض ہے کورونا وائرس کے دنوں میں سخت بیمار ہوگیا۔ ان دنوں گلی ،محلوں اور بازاروں میں یہ بات عام تھی کہ بیمار کو ہستپا ل لے جانے پر زہر کا انجیکشن لگایا جاتا ہے یا اسے کورونا کے لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے تو انہوں نے بھی ان باتوں اور خوف کی وجہ سے بیمار بیٹے کو ہسپتال کی بجائے گھر میں رکھا۔
عالمزیب نے کہا جب اسکے بیٹے کی حالت مزید بگڑگئ تو بعد میں ٹیلی میڈیسن کے ذریعے اسکا معائنہ کیا لیکن اس سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔
کورونا لاک ڈاون کے دنوں میں اس قسم کی خبریں بدقسمتی سے زیاتر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرپوسٹ اور شیئر ہوتی رہی ہیں ۔
اس حوالے سے جب ٹی این این نے پشاور سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا ایکسپرٹ شفیق گیگیانی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اکثر و بیشتر خبروں کی چھان بین نہیں ہوتی جس کی جو مرضی وہ سوشل میڈیا پر پوسٹ اور شیئر کرتے ہیں ایسے میں کوئی خبر پوسٹ کرتے ہوئے یہ خیال ضرور رکھنا چاہئے کہ اس خبر میں کتنی صداقت ہے۔

شفیق گیگیانی نے کہا کہ کسی کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ خبر غلط ہے تو اس کو رپورٹ کرنی چاہئے۔ اب حکومت نے اسکے لئے پاکستانی الیکٹرانک ایکٹ (پیکا) بھی پاس کیا ہے جس میں کئی ایک سزا وں کا تعین کیا گیا ہے اگر کوئی اس طرح کے غلط معلومات سوشل میڈیا پر پھیلائے خاص کر صحت کے حوالے سے غلط معلومات پوسٹ کرے اسکے لئے سخت سزاوں کا تعین کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ اس قانون کو اصل معنوں میں نافذ بھی کرے۔
انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں مرکزی میڈیا کی بھی ذمہ داری ہوتی ہیں کہ صحیح انفارمشن لوگوں کے ساتھ شیئر کریں ۔
کورونا وائرس کے حوالے سےغلط معلومات اور افواہوں نے زور پکڑ لیا تو ایسے میں مختلف میڈیا کے ادروں کی جانب سے اس قسم کے خبروں پر کام کرنے کےلئے مخصوص رپورٹر کو ڈیوٹی تفویض کی گئی جس میں پشاور کے روزنامہ مشرق اخبار کے سینئر ہیلتھ رپورٹر ذاہد میروخیل بھی شامل ہیں۔
ذاہد میروخیل نے ٹی این این کو بتایا کہ ان دنوں کورونا کے حوالے سے افواہیں اور غلط معلومات اتنی پھیل گئی تھی کہ تعلیم یافتہ لوگ بھی ان پر یقین کرنے لگے تھے اور یہ افواہیں اب بھی ختم نہیں ہوئی۔ میروخیل نے بتایا کہ جب کورونا وائرس خیبر پختونخوا میں پھیل گیا تو کچھ ایسے ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگے جس میں لوگ ایک الگ انداز میں مر رہے ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے یہاں بھی لوگوں بھی کافی خوف پھیل گیا۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ وہ ویڈیو جعلی بھی تھیں پھربھی وہ اپنا کام کرچکی تھی۔ بات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ مریض کو ہسپتال جاتے ہی ڈاکٹرز زہر کا انجیکشن لگاتے ہیں ،اسے کورونا مریضوں کے لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے جبکہ ائی سی یو ون وے ٹکٹ ہے۔ انہیں غلط معلومات اور افواہوں کی وجہ سے ہی لوگ ہسپتالوں کو جانے سے کتراتے لگے تھے۔
زاہد میروخیل نے بتایا کہ ملک میں جب کورونا وائرس سے مرنے والوں کے جنازوں کی ویڈیوز عام ہوگئی تو اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور لوگ مزید خوف میں مبتلا ہوگئے۔
حکومت کی جانب سے ایس او پیز کے تحت کورونا سے مرنے والوں کے جنازے میں چند لواحقین کے علاوہ کسی کو نہیں چھوڑا جا رہا تھا، میت کو بھی ہسپتال میں غسل دے کر مخصوص تابوت میں بند کردیا جاتا اور کسی کو دیکھنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی تھی۔ تدفین کے لئے صحیح طریقہ نہیں اپنایا گیا تھا۔ بعد میں ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا کہ یہ وائرس مردے سے زندہ لوگوں میں منتقل نہیں ہوتا لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور لوگوں کے زہنوں میں اس سے متعلق غلط مفروضے پختہ ہوگئے تھے۔
اس حوالے سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بھی صحافی ذاہد میروخیل کے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت اور ہسپتال انتظامیہ کو چاہئے کہ اس طرح کے افواہوں اور غلط معلومات کو روکنے کےلئے لوگوں میں آگاہی پھیلائیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ہسپتال کی او پی ڈیز بند تھی لیکن ایمرجنسی سروس میں بھی مریضوں کی تعداد انتہائی کم ہوتی تھی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button