‘کانوں کے بجائے دانتوں سے بھی موبائل فون پر باتیں سنی جاسکتی ہیں’

 

واصف علی خان

الیکٹرک میگنیٹک فیلڈ کے ذریعے کانوں کے بجائے دانتوں سے بھی موبائل فون پر باتیں اور میوزک سنی جاسکتی ہیں۔

سوات کے تحصیل خوازہ خیلہ کے چالیار گاؤں سے تعلق رکھنے والا تیرا سالہ انوراللہ کو خود بھی یقین نہیں تھا کہ انسان کانوں کے بغیر کوئی آواز بھی سن سکتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت پتہ چلا جب وہ ایک ایسے پراجیکٹ پر کام کر رہا تھا کہ جب کسی چیز کی آواز کے ساتھ حرکت ہوتی ہے یا نہیں۔

” جب میں وائر دانتوں کے ذریعے کاٹ رہا تھا تو اچانک میں نے آواز سنی پہلے پہل تو میں کافی ڈر گیا کہ یہ آواز کس نے دی۔ پوری تسلی سے اردگرد دیکھنے کے بعد جب کوئی نظر نہیں آیا تو میں نے اپنا کام دوبارہ جاری رکھا۔ جب دوبارہ وائر دانتوں سے لگا تو بالکل اسی طرح کی آواز سنائی دی تو دیکھا کہ وائر کی پین کمپیوٹر پہ لگا ہوا تھا اور میوزک چل رہا تھا ”

انور اللہ نے بتایا کہ اس صورتحال میں میوزک کے آواز نے میرے دماغ تک رسائی حاصل کی اس وقت بظاہر میوزک کی کوئی آواز نہ تھی. اس وقت میرے ذہن میں خیال آیا اگر الیکٹرک میگنیٹک فیلڈ اور وائر کے ذریعے دماغ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں تو قوت سماعت سے محروم افراد موبائل فون پر باتیں کیوں نہیں سن سکتے؟

ٹی این این سے بات کرتے ہوئے انوراللہ نے کہا کہ اس کے بعد میں نے وہ پراجیکٹ وہی پر چھوڑ کر اس پر کام شروع کیا اور اس پر توجہ دی جس کے لئے خودساختہ آلہ ‘ ای ایم ایس ٹرانسمیٹر’ تیار کر لیا ہے جن کو موبائل فیچر بلوٹوتھ سے منسلک کرکے اس سے میوزک اور باتیں سنی جا سکتی ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوا تو قوت سماعت سے محروم افراد کے لئے یہ ایک بہت بڑا تحفہ ہو گا جس پر کام جاری ہے اور عنقریب وہ قوت سماعت سے محروم افراد کو خوش خبری دے گے۔

انور اللہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ ابھی خود ساختہ آلہ ‘ای ایم ایس ٹرانسمیٹر’ کو کڑا ( bracelet) کی طرح ایک شکل دے رہے ہے جو موبائل فیچر بلوٹوتھ سے منسلک ہوگی وہ قوت سماعت سے محروم یا کمزور افراد کے ہاتھوں پر باندھ کر وہ باتیں سن سکیں گے، کڑے میں موجود ٹرانسمیٹر الیکٹرک میگنیٹک فیلڈ ہڈیوں کے ذریعے آواز کی دماغ تک رسائی ہوگی اور وہی کڑے میں موجود مائک کے ذریعے آواز جواب کی صورت میں واپس بھی جاسکیں گی۔

یاد رہے کہ انور اللہ نے اس سے پہلے ایک واٹر ٹربائن بنایا تھا جو پانی کے بہاؤ کے وجہ سے چلنے پر اٹھارہ وولٹ بجلی پیدا کرتا تھا. جن کی وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھی اور کئی قومی چینل کے مارننگ شوز میں ان کی کارکردگی کو سراہنے کے لئے ان کو بلایا گیا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button