‘ہسپتال بندش کی وجہ سے میرے لخت جگر نے میری گود میں جان دے دی’

 

‘ہسپتال اور سڑکوں کی بندش کی وجہ اپنا لخت جگر کھو چکی ہوں اور میں یہ نہیں چاہتی کہ دوبارہ لاک ڈاون کی وجہ سے کوئی ماں میری طرح کرب سے گزرے’
جنوبی وزیرستان تحصیل شوال کی عافیہ کہتی ہے کہ جب کورونا کی لہر کے دنوں میں جب پہلا لاک ڈاون لگا تھا اس دوران انکا بیٹا بیمار پڑ گیا تھا، انکو پہلے جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین لے جایا گیا اور وہاں سب ہسپتال بند ہونے کی وجہ سے پھر ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دیاگیا ۔
‘ جب وہ ڈیرہ اسماعیل خان ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو معائنے کے بعد پتہ چلا کہ میرے بیٹے کا گردہ خراب ہونے کی وجہ سے سوجھ گیا ہے اس بچے کے گردے کو آپریشن کے ذریعے نکالنا پڑے گا’
عافیہ نے مزید کہا کہ ڈاکٹر نے ایک مہینے کی دوائی دی اور کہا کہ اس دوائی کو ایک مہینے تک دیتے رہنا ہے ۔ ایک مہینے کے بعد جب آپریشن کا وقت قریب آیا تو کورونا لاک ڈاون کی وجی سے ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا بچے کی تکلیف زیادہ ہونے کی وجہ سے پھر دو دن کے بعد پھر ڈاکٹر کے پاس چلے گئے اس امید پر کہ شاید ڈیوٹی پر موجود ہو پیدل سفر کر کے بچے کو لے مین روڈ پر پہنچے تو کوئی گاڑی موجود نہیں تھی جس پر سوار ہوکر مکین پہنچتے ادھر بیٹے کی حالت بگڑتی رہی اور ایک دن آدھی رات گھر سے پیدل نکل آئے کہ شاید مکین میں ایمرجنسی کچھ دوائی تو مل جب مکین کے قریب ہی تھے کہ میرا لخت جگر نے میرے گود میں بھی جان دے دی۔
ملک بھر میں کورونا کیسز بڑھنے پر لاک ڈاون کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ لیکن عافیہ نہیں چاہتی کہ دوبارہ ویسے حالات بن جائے اور کوئی اور ان کی طرح ایسے کرب سے گزرے۔

عافیہ کی طرح پشاور کی 20 سالہ سائرہ بھی لاک ڈاؤن کے متاثرین میں شامل ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران سائرہ کا ایک کینسر زدہ ٹانگ کاٹا گیا ہے ، سائرہ کہتی ہیں کہ اگر لاک ڈاؤن نافذ نہ ہوتا تو شائد ان کا ٹانگ کٹنے سے بچ جاتا۔ "لاک ڈاون سے پہلے مجھے کینسر جیسی موذی مرض لاحق ہو گیا. لیکن اتنا زیادہ نہیں تھا. بلکہ اس مرض کا ابتدا تھا پاؤں کے ایک انگلی میں یہ بیماری تھی. لاہور میں کینسر کے ہسپتال میں میرا علاج جاری تھا لیکن لاک ڈاؤن کے باعث علاج رکنے کی وجہ سے مرض بڑھتا گیا اور بالآخر اس سٹیج تک پہنچ گیا کہ ڈاکٹروں نے کہ ٹانگ کاٹنے کے علاوہ ان کے پاس دوسرا کوئی چارہ نہیں ہے”
ملک بھر کی طرح لاک ڈاون کے دوران خیبرپختونخوا میں بھی تمام سرکاری اور نجی ہسپتال بند تھے۔ اس دوران صوبے کے تین بڑے ہسپتالوں لیڈی ریڈنگ ہسپتال. خیبر ٹیچینگ ہسپتال. اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بھی چھ مہینوں تک او پی ڈیز پر پابندی تھی جس کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق 21 لاکھ تک مریض علاج سے محروم رہیں. اس کے ساتھ 54 ہزار روٹین کے آپریشن بھی نہیں ہوئے. صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ کے ترجمان عاصم کا کہنا ہے. کہ صرف اس ہسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں 5 ہزار تک مریضوں کا معائینہ او پی ڈیز میں ہوتا تھا اور دو ہزار تک ایمر جنسی میں مریضوں کو طبی علاج معالجے کی سہولت دی جاتی تھی جبکہ لاک ڈاؤن کے دوران او پی ڈیز مکمل بند تھے جبکہ ایمرجنسی میں بھی خاطرخوا کمی دیکھی گئی۔


سرکاری اور نجئ ہسپتال کورونا لاک ڈاون کے دوران بند ہونے کی صورت میں مریض بہت سے مشکلات سے دوچار ہوئے، لیکن دوسری جانب اس دوران بہت سی تعداد میں ہسپتال اور فلاحی اداروں نے مریضوں کی آن لائن یا واٹس ایپ پر علاج اور معالجے کا سلسلہ جاری رکھا.
ان ڈاکٹروں میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے پلمو نو لو جی کے ماہر ڈاکٹر ظفر اقبال بھی شامل تھے. ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ اپنے ساتھی ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر روزانہ تین گھنٹوں تک واٹس ایپ پر الخدمت فاونڈشن نامی فلاحی ادارے کے تعاون سے مریضوں علاج اور ان کو دوائی تجویز کرتا۔ ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ اس دوران متعدد مریضوں نے علاج کے لئے رابطہ کیا جن میں معمولی بیماریوں کے لئے وہ دوائیاں تجویز کرتے رہے لیکن جن لوگوں کو ٹیسٹ، ایکس رے وغیرہ کی ضرورت تھی وہ لوگ پھر بھی علاج سے محروم رہے۔

الخدمت فاؤنڈیشن کے علاوہ خیبر پختون خواہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور چند دیگر فلاحی اداروں نے بھی آن لائن یعنی ٹیلی میڈیسن کا آغاز کیا تھا جس میں ہزاروں مریضوں کی علاج کی گئی تھی۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قاسم احمد کے مطابق ٹیلی میڈیسن کی مدد سے 64000 مریضوں کو طبعی مدد فراہم کی گئی ہیں ۔
ڈاکٹر قاسم نے بتایا کہ انکا طریقہ کار یہ تھا کہ ایک نمبر پبلک ہوتا تھا جو ایک وقت میں 16 موبائلز کے ساتھ منسلک ہوتا تھا،کال آنے کے بعد معتلقہ ڈاکٹر کو فاروڈ کیا جاتا تھا،کال کے بعد انکو ادوایات تجویز کیا جاتا تھا۔
آن لائن علاج کو عام لوگوں نے کافی سراہا جس میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے محمد حسین بھی ہیں کہتے ہیں کہ لاک ڈاون سے پہلے انکو کڈنی سٹون کا مسئلہ درپیش تھا، لاک ڈاون کے دنوں تکیلف میں کافی اضافہ ہوا، لیکن او پی ڈیز سروس بند تھی،
موبائل پر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ایک ڈاکٹر سے رابطہ کیا جس پر انہوں نے ادویات تجویز کر دی جس کیوجہ سے انکو کافی آفاقہ ہوا۔
ایک طرف اگر ٹیلی میڈیسن سروسز کو سراہا جا رہا ہیں تو دوسری طرف کچھ لوگ ان لائن علاج سے غیر مطمئن بھی دکھائی دے رہے ہیں،
ضلع اورکزئی سے تعلق رکھنے والے عبدالرحیم اورکزئی کہتے ہیں کہ لاک ڈاون کی دوران لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو کال کیا،اسکی والدہ کو تکلیف تھی، ڈاکٹر نے آن لائن جو جو ادویات تجویز کر دی اسکے استعمال سے انکی والدہ کی تکیلف میں مزید اضافہ ہوا تھا۔

اس سٹوری کے لیے جنوبی وزیرستان سے رضیہ محسود، پشاور سے رانی عندلیب اور باجوڑ سے مصباح الدین اتمانی نے معلومات فراہم کی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button