‘نشہ انسان کو ماں باپ اور رشتہ داروں سے دور کرتا ہے’

 

سٹیزن جرنلسٹ مصباح الدین اتمانی

‘ماں کی خدمت کا وقت آیا تو میں عیاشیوں میں پڑھ گیا، دوستوں کے کہنے پر سرکاری ملازمت چھوڑ کر متحدہ عرب امارت چلا گیا لیکن وہاں مجھے کمپنی سے نکالا گیا’

یہ کہنا تھا صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے چوبیس سالہ نثار احمد کا جو پشاور کے حاجی کیمپ اڈہ میں کھانے کی تلاش میں سرگرداں تھا۔
‘واپس پاکستان ایا تو گھر والوں سے لڑائی ہوئی اور میں پشاور چلا آیا یہاں دوبارہ نشہ شروع کر دیا تو مجھے میرے غلطی کا احساس ہوگیا’ نثار احمد نے بتایا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے میری زندگی بڑی اچھی گزر رہی تھی، میں سرکاری ملازم تھا، پیسے کما کر والدین کا ہاتھ بٹھاتا تھا، میں نماز کا پابند تھا، گھر والے سب مجھ سےخوش تھے لیکن پھر دوستوں نے مشورہ دیا کہ نوکری چھوڑکر دوبئ چلے جاتے ہیں۔
نثار احمد نے بتایا کہ میں نے گھر والوں کو نظرانداز کر کے دوستوں کا کہا مان لیا اور میں دوبئ چلا گیا جہاں جلد مجھے کمپنی سے نکالا گیا ، واپس گھر ایا تو گھر والوں سے لڑائی ہو گئی اور میں پشاور نکل ایا، اس نے کہا کہ میں نے نشہ چھوڑا تھا لیکن پشاور میں حالات دیکھ کر میں نے دوبارہ نشہ شروع کر دیا۔
نثار احمد کے مطابق پشاور میں اچھے لوگ بھی ہیں لیکن یہاں نشائیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے روڈوں پر پڑے کچھ لوگ انجکشن لگا رہے ہیں کوئی ہیروئن میں مبتلا ہے تو کوئی پوڈر کے نشے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں حالات دیکھ کر مجھے میری غلطی کا احساس ہو رہا ہے گھر والوں کی بات ماننی چاہیئے، معاشرے میں موجود اچھے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہیئے۔

نثار احمد کے مطابق وہ بڑی عزت والے زندگی گزار رہے تھے لیکن اج غلط صحبت کیوجہ سے وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔
قوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 15سے 64سال عمر کے تقریباً 35 کروڑ افراد منشیات کے عادی ہیں، جبکہ پاکستان میں 76لاکھ سے زائد افراد منشیات استعمال کرتے ہیں جن مین 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے 55اور دیگر صوبوں کے 45فیصد افراد نشے کے عادی ہیں اور اس تعداد میں سالانہ 5لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔
نثار احمد نے کہا کہ میں نے پشاور میں کئی مقامات پر اپنے لئے کام ڈھونڈھنے کی کوشش کی ہیں لیکن مجھے دیکھ کر لوگ نظرانداز کرتے ہیں کہ میں نشئی ہوں، اب میں نے عہد کر لیا ہے کہ میں خود کو بدل کریہاں سے جاؤں گا۔

نثار احمد نے اپنی بات اگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ نشہ ماں باپ، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں سے انسان کو الگ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاج کرنے سے کچھ نہیں ہوتا بندے کو اپنا دل مضبوط کرنا چاہیئے۔ میں شرم کے مارے فیملی والوں کے ساتھ رابطہ نہیں کر سکتا انشاءاللہ میں بہت جلد خود کو بدلونگا۔
نثار احمد نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ وقت والدین کا سہارہ بننے کا ہے ان والدین کا جنہوں نے مجھے پیدا کیا ہے، میں ان نشوں سے نکل کر اپنے والدین کی خدمت کرنا چاہتا ہوں ، انہوں نے کہا کہ بڑے بھائی نے مجھے سمجھایا کاش میں اس کی بات سمجھ لیتا۔ انہوں نے کہا کہ باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوتا عمل کرنے سے سب کچھ ہوتا ہے میں عمل کر کے دکھاوں گا اور دوسروں کیلئے ایک مثال بنوں گا۔
ایک اندازے کے مطابق خیبرپختونخواہ منشیات کے بڑھتی ہوئی رحجان میں دیگر صوبوں کی مقابلے میں پہلے نمبر ہے جس کی کئ وجوہات بتائیں گئے ہیں، جس میں بدامنی، معاشی بدحالی اور افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدات ہیں۔
نثار احمد کے مطابق پاکستان میں نیو جنریشن میری طرح غلط کاموں میں لگی ہیں ان سے یہی کہنا چاہونگا کہ وہ نشہ چھوڑ کر والدین کی خدمت کریں۔
اپنی بربادی کا زمہ دار اپنے دوستوں کو ٹھہراتے ہوئے نثار احمد نے بتایا کہ جب میں بری صحبت میں گیا تو گھر اور رشتہ دار بھول گیا ، دو تین ہفتے ہوئے ہیں کہ میں پشاور آیا ہوں اس علاقے کا ماحول دیکھ کر سچے دل سے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button