خیبر پختونخواکورونا وائرس

"اپنا سکول بیچ کر اب 10 ہزار پر دوسرے سکول میں نوکری کر رہا ہوں”

 

سلمیٰ جہانگیر

‘کرونا لاک ڈاون میں میرا سکول بری طرح متاثر ہوا، مجھے اور میرے سٹاف کو اس وقت سخت معاشی مسائل کا سامنا تھا اسی لیے مجبورا میں نے اپنے سکول کسی اور کے حوالے کردیا’

یہ کہنا ہے ضلع بونیر کی تحصیل چغرزئی سے تعلق رکھنے والے عظمت کا جنہوں نے 2013 میں پرائمری لیول کا ایک پرائیویٹ سکول شروع کیا۔ بودال گاؤں میں یہ سکول اگست 2020 تک چلتا رہا۔

سکول کے مالک عظمت نے بتایا کہ انکے سکول میں طلباء کی تعداد 150 تھی، جن میں زیادہ تر بچوں کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا، کچھ بچے یتیم تھے، اسکے علاوہ وہ بچے بھی ان کے ساتھ زیر تعلیم تھے جو کہ گورنمنٹ نے واؤچر سکیم کے تحت ان کو دیئے تھے، یہ بچے 2018 سے 2020 تک انکے ساتھ رہے، ان بچوں کی کوئی فیس انکو نہیں دی گئی تھی۔

‘میرے سکول میں 8 اساتذہ تھے، ایک چچا بطور ہیلپر ہمارے ساتھ کام کر رہا تھا، اس سارے سٹاف کی روزی روٹی کا انحصار یہی سکول تھا، مارچ سے ستمبر تک کرونا کا جو دور چلااس میں ہماراسکول بہت متاثر ہوا اس دوران ہمیں بہت سخت حالات کا سامنا تھا، میرے سکول میں جتنے بھی اساتذہ تھے سب کے رزق کا وسیلہ بند ہو گیا، ہم والدین کو فیس کا کہہ نہیں سکتے تھے اور نہ ہی والدین یہ برداشت کر سکتے تھے اور نا ہی میرا ضمیر مجھے اس بات کی اجازت دے رہا تھا کہ والدین پر اس مشکل وقت میں فیسز کا بوجھ ڈال دوں، اساتذہ کو تنخواہ دینے کا میرے پاس کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تھا’ عظمت نے افسردہ ہوتے ہوئے بتایا۔

انہوں نے کہا کہ ویسے تو جب سے لاک ڈاؤن شروع ہو اتھا تب سے وہ بذات خود اور انکے سکول سے منسلک اساتذہ معاشی مسائل سے دوچار تھے لیکن رمضان اور عید کے دنوں میں انکی پریشانی دوبالا ہوگئی کیونکہ اس دوران اخراجات بڑھ گئے تھے۔ اساتذہ کے مشکلات کو دیکھتے ہوئے عظمت نے انکے لیے چندہ کیا، فلاحی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کیا  جنہوں نے تھوڑی بہت ہماری مدد کی لیکن سب کچھ برداشت سے باہر تھا۔

عظمت کے مطابق آخرکار انہوں نے اساتذہ کو اور جگہوں میں کام کرنے کی اجازت دے دی کیونکہ وہ انکو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتے تھے، عظمت نے سکول مقامی لوگوں کے حوالے کیا اور اب خود ایک پرائیوٹ ادارے میں 10000 روپے ماہانہ پر کام کر رہا ہے اور زندگی گزار رہا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button