خیبرپختونخوا کی جامعات میں وی سیز کی عدم تعیناتی کا معاملہ سینیٹ پہنچ گیا

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز سمیت دیگر اہم پوسٹوں پر عدم تعیناتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اسے کمیٹی کو بھجوانے کی ہدایت کردی ہے۔

جمعرات کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر جاوید عباسی نے عوامی اہمیت کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں تعلیم کا نظام ذبوحالی کا شکار ہے خیبر پختونخوا میں اس وقت پبلک سیکٹر کی 31یونیورسٹیاں ہیں اور 2012میں منظور ہونے والے ایکٹ کے تحت یونیورسٹیوں کو مالی اور انتظامی خودمختاری دی گئی تھی اور یونیورسٹیوں میں صوبائی حکومتوں کی مداخلت کو کم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا اب صوبائی حکومت ایک ایکٹ لارہی ہے جس میں یونیورسٹیوں کی مالی اور انتظامی خودمختاری کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ 5سالوں سے کئی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر،رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی نشستیں خالی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پوری دنیا میں اعلیٰ تعلیم کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے مگر پاکستان میں اعلیٰ تعلیم پستی کی جانب گامزن ہے انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ ایجوکیشن کمیٹی کو بھیجا گیا ہے اور صوبائی حکومت نے بتایا ہے کہ ہم اس سلسلے میں طریقہ کار وضح کر رہے ہیں ہم اپنے تعلیم کے ساتھ کیا تماشہ کر رہے ہیں اگرہم نے اس مسئلے کو آج توجہ نہ دی تو ہم مذید خراب صورتحال کی جانب جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یونیورسٹیوں کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے یونیورسٹیوں کے معاملات اس وقت بھی وفاق کے پاس ہیں اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے ان معاملات پر رپورٹ لی جائے۔

جس پر وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے آج علم کے مقابلے میں ہم مغرب سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی تعلیمات کو بھلا دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایوان میں ایک رجحان دیکھا ہے کہ ہر چیز کیلئے ہم کمیٹیاں بنانے کی بات کرتے ہیں اس معاملے کو تعلیم کمیٹی میں بھجوایا جائے جس پر ڈپٹی چیئرمین نے معاملے کو ایجوکیشن کمیٹی بھجوانے کی ہدایت کردی ہے۔

واضح رہے خیبر پختونخوا کی 8 یونیورسٹیاں مستقل وائس چانسلر کے بغیر چل رہی ہیں جبکہ 20 رجسٹرار بھی نہیں ہے۔

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close