بین الاقوامی

رات کے اوقات میں مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ کو بند رکھنے کا فیصلہ

 

سعودی حکومت نے رات کے اوقات میں مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ نماز عشاء کے ایک گھنٹے بعد بند کردی جائیں گی اور نمازِ فجر سے ایک گھنٹے قبل کھولی جائیں گی۔

خیال رہے کہ حرم شریف میں زائرین کو کورونا سے محفوظ رکھنے کو یقینی بنانے کی خاطر صفائی کی گئی اور جراثیم کش ادویات ڈالے گئے جس کی وجہ سے صحن شریف میں طواف کا عمل روک دیا گیا ہے۔

عمرہ زائرین کو بالائی منزلوں پر منتقل کرکے مطاف خالی کروالیا گیا ہے، حرم کے صحن میں طواف رُک گیا ہے تاہم بالائی منزلوں پر طواف جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق مطاف بھی عارضی طور پر بند رہے گا جب تک عمرہ منسوخ ہے جبکہ صحن میں بھی عارضی طور پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی صرف مسجد کے اندر نماز پڑھی جائے گی۔

حرمین پریزیڈینسی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’عارضی پابندی کے دوران خانہ کعبہ اور صحن میں طواف پر پابندی ہوگی، حرمین میں نمازوں کی ادائیگی صرف اندر ہی کی جائیگی،عارضی پابندی کے دوران صفا، مروہ کے درمیان سعی بھی معطل رہے گی‘۔

حرمین پریزیڈینسی کے مطابق احرام پہنے زائرین کی مسجد الحرام کے صحن میں داخلے پر پابندی ہوگی، حرمین شریفین میں اعتکاف، آرام، غذائی اشیاء لانے پر پابندی ہوگی، آب زم زم کی سبیلوں کو بھی بند کردیا جائے گا۔

حرمین پریزیڈینسی کے مطابق مسجد نبویﷺ کا پرانا حصہ بشمول روضہ پاک ﷺ اورجنت البقیع کو بند کردیا گیا ہے، حرمین شریفین کے بند حصوں میں جراثیم کش ادویات کا سپرے جاری رہے گا‘۔

حرمین شریفین پریزیڈنسی کے مطابق 1979 میں حرم شریف پر قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طواف کا عمل روکا گیا ہے۔ یاد رہے سعودی وزارت داخلہ نے گزشتہ روز اپنے شہریوں اور مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے بھی عمرہ ادا کرنے اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت پر پابندی عائد کردی تھی۔

اس سے قبل سعودی حکومت بیرون ملک سے آنے والے عمرہ زائرین اور سیاحوں پر بھی پابندی عائد کردی تھی جس کا مقصد مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنا اور زائرین کے جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button