صحت

چارسدہ میں خناق کی بیماری پھیلنے لگی، تین بچوں نے جانیں گنوا دی

 

رفاقت اللہ رزڑوال

خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں محکمہ صحت حکام نے تائید کی ہے کہ علاقہ شابڑہ میں خناق کی بیماری سے تین بچے جاں بحق ہوگئے۔ محکمہ صحت کے مطابق یہ وائرس ضلع نوشہرہ کے رہائشی سے بچوں میں منتقل ہوا ہے۔
بچوں کے والدین نے بچوں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بچوں کو دو دن قبل گلے کی انفیکشن ہوئی جس سے بچوں کو سانس کی تکلیف ہوئی اور چند گھنٹے بعد بچوں کی سانس کی نالی بند ہونے سے وہ جان گنوا بیٹھے۔

ضلع چارسدہ کے علاقہ شابڑہ کے 12 سالہ جاں بحق طالب علم عبداللہ کے والد طارق نے بتایا کہ ان کو پہلے بخار ہوا  جسے قریبی عطائی کے پاس لے گیا جہاں پر انہیں ادویات دی گئی مگر اس سے ان کا گزارہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ  بعد میں بیٹے کو قریبی ملا کے پاس دم کیلئے لے گیا جس کے چند گھنٹے بعد عبداللہ جان کی بازی ہارگیا۔

طارق نے مزید بتایا کہ ان کا گاؤں شابڑہ بڑے وسیع علاقے پر پھیلا ہوا دیہاتی علاقہ ہے مگر ہزاروں کی آبادی کیلئے یہاں پر کوئی بھی طبی سہولیات موجود نہیں جس کی وجہ سے اکثر مریض معمولی مرض سے اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔

عبداللہ کے والد طارق نے بتایا "میرا بیٹا تو اس دنیا سے چلا گیا جس کی موت نے ان کی ماں کو بھی بے حال کردیا ہے مگر ہماری دعا ہے کہ یہ دن اللہ کسی کو نہ دکھائے۔ اسکے لئے ضروری ہے کہ باقی بچوں کیلئے ویکسینیشن کا بھرپور انتظام کیا جائے”۔

علاقہ شابڑہ میں تین بچوں کی اموات نے دیگر مکینوں کو خوف زدہ کر دیا ہے۔ اموات کے بعد ضلعی انتظامیہ نے گورنمنٹ پرائمری اور مڈل سکولوں کو ایک ہفتہ کے لئے بند کر کردیا ہے اور سکولوں کو بی ایچ یو کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے جہاں پر محکمہ صحت کا عملہ بچوں کو ویکسینیشن دینے میں مصروف ہیں۔

ویلیج کونسل شابڑہ کے ناظم یوسف خان نے ٹی این این کو بتایا کہ یہاں پر تین بچوں کی اموات نے علاقہ مکینوں میں خوف کی فضا پیدا کی ہے مگر اس کا حل یہ ہے کہ فوری طور پر پورے علاقے میں ویکسینیشن کا عمل جاری رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا علاقہ سیلاب زدہ ہے جس کے ارد گرد دریائے خیالی اور دریائے جیندے بہتا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے علاقے میں مختلف قسم کے جراثیم پائے جاتے ہیں جس سے بچے اور بڑے مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں مگر یہاں پر کوئی طبی سہولیات موجود نہیں ہے۔

یوسف خان نے بتایا ” ہمارا علاقہ تین بڑے بڑے دیہاتی گاؤں پر مشتمل ہیں جہاں پر لاکھوں کی تعداد میں لوگ رہتے ہیں۔ دیہاتی لوگ ہیں قریبی عطائیوں سے علاج کرواتے ہیں جس کا نتیجہ نقصان ہی ہوتا ہے تاہم اگر کسی بی ایچ یو کا قیام ہوگیا تو شائد لوگوں کی صحت محفوظ رہیں”۔

محکمہ صحت کے مطابق چارسدہ میں خناق کے 30 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں علاقہ تنگی، عمرزئی، درگئی، دوسہرہ اور شابڑہ شامل ہیں۔ علاقہ شابڑہ میں آٹھ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں تین بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت حکام نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں دس بیڈز قائم کئے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ضلع چارسدہ میں ویکسینیشن کا عمل شروع کیا ہے اور حالات قابو میں ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فرہاد خان ویکسینیشن کے موقع پر موجود تھے جہاں پر انہوں نے ٹی این این کو بتایا کہ یہ وائرس ضلع نوشہرہ سے منتقل ہوا ہے مگر ایک ماہ سے 15 سال تک بچوں کو ویکیسنیٹ کر رہے ہیں۔
"دراصل خناق کی ویکسین دو سال تک کی عمر کو بچوں کو لگائی جاتی ہے مگر دیہاتی علاقوں میں شعور کی کمی کی وجہ سے والدین اکثر بچوں کو ویکسین نہیں دیتے جس کی وجہ سے وہ وائرس کا آسانی سے شکار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے تمام والدین سے اپیل کی ہے کہ بچوں کو بروقت تمام بیماریوں کی ویکسین بروقت فراہم کرے تاکہ بچے محفوظ رہیں”۔

ڈاکٹر فرہاد کا کہنا ہے کہ یہ ایک وائرل ڈیزیز ہے اور سکولوں میں اکثر بچے ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں جہاں سے متاثرہ بچے سے صحت مند بچے متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسکی علامات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے گلے میں انفیکشن پیدا ہوتی ہے جس سے بچہ تیز بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے اور بعد میں گلے کی سانس کی نالی میں ایک جلی سے پیدا ہوتی ہے جس سے سانس لینے میں کافی دشواری ہوجاتی ہے اور سانس بند ہونے سے انسان جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button