رضوان، سکول میں مسلسل پہلی پوزیشن والا لنڈیکوتل کا سبزی فروش بچہ

محراب شاہ آفریدی

مسلسل پانچ سالوں سے سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والا گیارہ سالہ بچہ غربت کے ہاتھوں لنڈی کوتل بازار میں سبزی کی دکان پر نوکری کرنے پر مجبور ہے۔

ساتویں جماعت کا کے طالبعلم رضوان کو گذشتہ سال غربت کے باعث نجی تعلیمی ادارے سے نکال کر ایک مقامی سرکاری سکول میں داخل کیا گیا تاکہ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ محنت مزدوری بھی کر سکے۔ رضوان کے والد بھی یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہیں مگر چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا اعلی تعلیم حاصل کر سکے۔

اپنے غریب والدین کا ہاتھ بٹانے کیلئے سکول کی چھٹی کے بعد لنڈی کوتل کے ایک سبزی فروش کی دکان پر جز وقتی کام کرنے والے رضوان نے گذشتہ برس ٹیلنٹ ہنٹ کے پروگرام میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

کمپیوٹر سافٹ ویئر انجینئر بننے کے خواہاں رضوان ایک نہات پراعتماد بچہ ہے جو بغیر کسی تردد کے فرفر انگریزی بولتا ہے، نصابی و غیرنصابی سرگرمیوں (تقریری مقابلوں) میں اپنی غیرمعمولی کارکردگی پر اسے سول اور فوجی حکام کی جانب سے کئی ایوارڈ اور اسناد بھی دیئے گئے۔

لنڈی کوتل کے ایک مرغی فروش کی دکان پر ملازمت کرنے والے رضوان کے والد جان اکبر کے مطابق ان کے بیٹے میں آگے بڑھنے کی کی صلاحیت موجود ہے، وہ نہیں چاہتے کہ ان کا بیٹا پڑھائی کی بجائے محنت مزدوری کرنے مگر غربت کے ہاتھوں وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔

جان اکبر  نے حکومت و دیگر اعلی حکام سے اس سلسلے میں تعاون اور امداد کی اپیل کی ہے۔

سبزی فروش قاری جان زادہ کے مطابق رضوان روزانہ چار سے پانچ گھنٹے تک ان کی دکان پر کام کرتا ہے اور وہ اسے یومیہ پچاس روپے دیتے ہیں جو اس کے گھر کے خرچ یا تعلیمی خرچہ کے لئے کافی نہیں ہوتے۔

رضوان کے استاد محد شریف کے مطابق رضوان پورے  سکول میں سب سے تابعدار اور منکسر المزاج لڑکا ہے۔

محمد شریف کو یقین ہے کہ ایک رضوان بڑا آدمی بن کر انسانیت کی خدمت کرے گا کیونکہ اسے قدرت نے قیادت کی صلاحیتوں، ٹیلنٹ اور تعلیمی مہارت سے نوازا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button