مائیگرین یا آدھے سر کا درد مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ کیوں ہوتا ہے؟

رانی عندلیب
مائیگرین یا آدھے سر کا درد سے مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ فیملی پلاننگ ادویات کا استمال کرنا اور ہارمونز میں بار بار آنے والی تبدیلیاں ہیں۔
‘جب سر درد شروع ہوتا ہے تو اس درد کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا یہ درد صرف وہی بندہ محسوس کر سکتا ہے جو خود اس کرب سے گزرا ہو’
یہ کہنا ہے پشاور شہر کی 25 سالہ راحیلہ کا، راحیلہ مزید کہتی ہیں کہ مائی گرین ان کو اس وقت ہوتا ہے جب تیز دھوپ میں باہر نکلتی ہیں اور با نسبت سردیوں کے گرمیوں میں یہ درد زیادہ شدید ہوتا ہے۔ زیادہ شور سے بھی مائی گرین ہوتا ہے اور اس صورت میں دل کرتا ہے کہ سر دیواروں کے ساتھ ٹکراؤں، یا پتھروں سے کہ سر درد ٹھیک ہو جائے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ مائی گرین کا درد اس کی بائیں طرف آتا ہے یعنی بائیں سر، بائیں آنکھ، بائیں جبڑے، بائیں طرف کی دانتوں اور بائیں کان پر. ‘پھر مجھے پتہ نہیں چلتا کہ درد اصل میں کس جگہ پر ہے۔
یہ درد ایسا ہوتا ہے کہ اگر صبح شروع ہو جائے تو رات تک ہوتا ہے یا پھر اگلی صبح تک اس کے لیے راحیلہ مختلف پین کلر استعمال کرتی ہیں جو آج کل مارکیٹ میں اسانی سے دستیاب ہیں۔ اس درد کا اپنا دورانیہ ہے جو دوائیوں کے کھانے سے عارضی طور پہ افاقہ تو ہوتا ہے لیکن مستقل نہیں۔
فرزانہ کا تعلق چارسدہ سے ہے، مائیگرین کے حوالے سے وہ کہتی ہیں ‘اب تو فرزانہ مائی گرین کی عادی ہو چکی ہے’
ان کا مزید کہنا ہے کہ جب بھی اسے مائی گرین کا درد آتا ہے تو انہیں پہلے سے پتہ چل جاتا ہے. ان کا دماغ سن ہو جاتا ہے یا ماہوری کے آنے سے پہلے انکو ہلکا سر درد شروع ہو جاتا ہے اور ماہواری کے شروع دنوں میں یہ درد شدید ہوجاتا ہےاور ماہواری کے آخری دنوں تک رہتا ہے۔ درد کش ادویات استعمال کرتی ہوں لیکن آفاقہ نہیں ہوتا، دل خراب ہوتا ہے لیکن الٹیاں نہیں ہوپاتی جس سے طبعیت اور بھی خراب ہو جاتی ہے، اب تو معدہ بھی خراب ہو گیا ہے۔
پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ماہر ذہنی امراض ڈاکٹرمحمد کہتے ہیں کہ تیز سر درد، یا بلڈ پریشر سے جو سر درد ہوتا ہے اسی طرح مائی گرین بھی سر درد کا ایک قسم ہے جو عموما ٹینشن کی وجہ سے ہوتا ہے. اس کے علامات اور شدت باقی سر درد سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔
ڈاکٹر کا کہنا ہے ‘اگر مائیگرین کو آسمانی بجلی کہا جا ئے تو بے جا نہ ہوگا’. یہ درد عموماً سر کے ایک سائیڈ پہ ہوتا ہے، دائیں یا بائیں۔ کبھی کبھار یہ سامنے پیشانی یا سر کے پچھلے حصے پر بھی ہو سکتا ہے لیکن زیادہ تر مائی گرین کے مریض کو یہ درد ایک سائیڈ پرہوتا ہے۔
پشاور شامی روڈ سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ نازش کو مائیگرین کا مسئلہ پچھلے 12 سال سے ہے اور ان کے صرف دائیں آدھے سر اور چہرے پر ہوتا ہے. اس دوران دائیں آنکھ میں اتنا شدید درد ہوتا ہے کہ ہر چیز دھندلی نظر آتی ہے اور ساتھ میں الٹیاں بھی کرتی ہیں۔
نازش کا کہنا ہے کہ اب اس پہ کوئی بھی پین کلر اثر نہیں کرتا. کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر نےانجکشن لگانا شروع کردئے لیکن اس سے بھی افاقہ نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر محمد اسرار نے اس سلسلے میں کہا کہ مائی گرین سے دل کا خراب ہونا، الٹیا آنا، بات کرنے میں دقت پیش آنا، شور کو برداشت نہ کرنا، زیادہ روشنی کو برداشت نہ کرنا جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ بعض مریضوں کو یہ شکایت بھی ہوتی ہے کہ سر درد سے نظر کمزور ہو گئی ہے، بعض مریض کا کہنا ہوتا ہے کہ سر درد کی شدت اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا رہتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا مائی گرین خواتین کو ہی ہوتاہے؟ کے جواب میں ڈاکٹر نے بتایا کہ مائی گرین درد مردوں کو بھی ہو سکتا ہے لیکن خواتین میں اس کی زیادہ شرح ان میں ہامونل چیجنز ہیں۔ ایک بڑی وجی زیادہ مقدار میں مانع حمل ادویات کا استمال بھی ہے۔ ماہواری کے آنے سے پہلے بھی خواتین میں خون کی کمی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے مائیگرین حملہ کرتا ہے.
مردوں میں یہ زیادہ تر شراب نوشی، سگریٹ نوشی یا دوسرے نشہ آور چیزوں کے استمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ماہر ذہنی امراض کے مطابق مائیگرین کی 100 فیصد سٹڈی نہیں ہوئی ہے تاہم اس کے دیگر کچھ ٹریگرز ہیں جو ذیل میں دئے گئے ہیں۔
1،جس بندے کی نیند پوری نہیں ہوتی
2، حد سے زیادہ سونا
3،بے وقت سونا
4،زیادہ پریشانی سے
مرد و خواتین میں یہ درد کسی بھی عمر میں آ سکتا ہے لیکن مڈل ایج کے لوگوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے. ڈاکٹر کے مطابق مائی گرین کا ایشو زیادہ تر موروثی بھی ہوتا ہے مثلاً والدین میں سے کسی ایک میں اگر مائی گرین ہو تو وہ خود بخود بچوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔
مائیگرین علاج کے حوالے سے ڈاکٹر نے کہا کہ مائگرین کے مریض سے پورا ڈیٹا اور ہسٹری لی جاتی ہے. ان کا ایم آر آئی اور سٹی سکین کروایا جاتا ہے اس کے بعد ان کاعلاج کیا جاتا ہے۔ بعض ڈاکٹرز اسے معدے کی خرابی بھی بتاتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button