خیبر پختونخوا، ‘8 ماہ میں 184 بچے جنسی تشدد یا زیادتی کا نشانہ بنے’

اسماء گل

خیبر پختونخوا میں روزانہ ایک بچہ جنسی زیادتی کا شکار ہو رہا ہے جبکہ رواں سال چار بچے جنسی تشدد کے بعد قتل بھی کیے جا چکے ہیں۔

خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 8 ماہ میں 184 بچے جنسی تشدد یا جنسی زیادتی کا نشانہ بنے، 2018 میں 145 بچے جبکہ 2019 میں 185 بچے زیادتی کا شکار ہوئے۔

اسی طرح پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچوں سے زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات پشاور، مردان، چارسدہ اور نوشہرہ میں رپورٹ ہوئے جبکہ ہنگو، کوہستان اور کرم کے اضلاع میں پچھلے دو سالوں کے دوران جنسی زیادتی کا کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2018 کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی میں ملوث 211 ملزمان، 2019 میں 264 افراد کو گرفتار کیا گیا، گھناؤنے جرم میں ملوث 235 ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی، ماضی میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بیشتر مقدمات درج نہیں ہوتے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی، واقعات کی رپورٹنگ میں اضافے کے ساتھ اعداد و شمار بھی بڑھ گئے۔

کامران بنگش زینب کے والد کے ہمراہ میڈیا ٹاک کرتے ہوئے

ادھر خیبر پختونخوا حکومت کا نمائندہ وفد وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر چارسدہ میں ڈھائی سالہ زینب کے والد سے ملنے گیا اور صوبائی حکومت کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

تین رکنی وفد میں وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش، وزیر قانون سلطان محمد اور معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمد زئی شامل تھے۔

زینب کے والدین سے ملاقات کے بعد کامران بنگش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ننھی زینب کے والدین نے صوبائی حکومت اور پولیس کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، زینب قوم کی بیٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی خود واقعہ کی نگرانی کر رہے ہیں، پولیس کی تمام ٹیکنیکل ٹیم چارسدہ پولیس کے ساتھ کارروائی میں مصروف ہے، مجرمان کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔

کامران بنگش نے میڈیا سے واقعے کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی بھی التجا کی، وزیر قانون سلطان محمد نے کہا کہ مجرمان کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے قانونی سقم بہت جلد دور کر دیں گے اور زینب قتل واقعہ میں ملوث مجرمان بہت جلد قانون کے کٹہرے میں ہوں گے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button