فیچرز اور انٹرویو

کیا ثمر بلور اپنے شہید شوہر کے مشن کو آگے لے جا پائیں گی؟

سلمان یوسفزے

‘شوہر کی شہادت کے بعد تو جیسے میری دنیا ہی ختم ہوگئی، میرے لئے خود کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا لیکن اوپر سے پارٹی اور خاندان نے مجھے سیاست کے میدان میں اتار کر مجھے مزید آزمائش میں ڈال دیا لیکن اللہ کے فضل و کرم سے میں ہر امتحان میں سے کامیاب ہوئی۔’ ثمر بلور نے ماضی کے یاداشت بیان کئے۔

ثمر بلور کے شوہر اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ہارون بشیر بلور پچھلے عام انتخابات سے گیارہ دن قبل پشاور میں ایک ورکرز کنونشن پر مبینہ خودکش حملے میں شہید ہوئے تھے۔ حملے میں پارٹی کے دیگر کئی اراکین اور ورکرز سمیت محموعی طور پر 25 لوگ شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ ان کی شہادت کی وجہ سے خالی رہ جانی والی نشست پر ضمنی انتخابات میں اے این پی نے ثمر بلور کو ٹکٹ دیا اور الیکشن میں ایک سخت مقابلے کے بعد انہوں نے کامیابی حاصل کرکے ایک تاریخ بھی رقم کی، کیونکہ وہ صوبے کی گزشتہ 16 سالہ تاریخ میں جنرل نشست پر کامیاب ہونے والی واحد خاتون کے طور پر بھی سامنے آئی ہیں۔

ٹی این این سے بات کرتے ہوئے خاتون رکن اسمبلی ثمر ہاورن بلور نے کہا کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد ان کے دل کو ایک طرح کا سکون ملا کہ شہید شوہر کے مشن کو آگے لے جانے کا موقع ملا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں قدم قدم پر مشکلات بھی پیش آتی رہیں۔

ثمر بلور کے بقول انہوں نے اپنے شہید شوہر ہارون بلور کے تقش قدم پر چلتے ہوئے اور خاندانی وراثت کو جاری رکھنے کے لئے سیاست میں قدم رکھا۔

‘شوہر کی شہادت کے بعد ہر چیز سے دل اکتا گیا تھا لیکن جب ہارون بلور سے قربت رکھنے والے کارکنوں اور ان قریبی دوستوں کو دیکھتی تو ان میں مجھے مایوسی نظر آتی پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میرا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ تو نہیں ہو سکتا لیکن کم از کم ان کارکنوں کی خاطر ہی کچھ کروں۔’ ثمر بلور نے بتایا۔

41 سالہ ثمر ہاورن بلور نے اپنی ابتدائی تعلیم سندھ کے شہر کراچی سے حاصل کی ہے۔ ان کے والد عرفان اللہ مروت بھی سیاستدان ہیں اور وہ سندھ اسمبلی کے پہلے پشتون رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ثمر ہارون بلور پاکستان کے سابق صدر مرحوم غلام اسحاق خان کی نواسی ہیں۔

انھوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے اور ان کے دو بیٹے بھی ہیں۔ ثمر ہارون بلور نے اس سے پہلے کبھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا تاہم پارٹی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔

ہارون بلور کے علاوہ ان کے والد اور ثمر بلور کے سسر بھی ایک خودکش حملے میں شہید ہوئے ہیں اس لئے اس خاندان کو شہیدوں کا خاندان بھی کہا جاتا ہے۔

ثمر بلور نے بتایا کہ شہادتوں کے باوجود ان کا سیاست میں آنا کافی مشکل اقدام تھا لیکن جب کسی انسان پر ذمہ داری آ جاتی ہے تو خدا اس انسان کا ساتھ دیتا ہے، ‘میں نے بھی صبر، ہمت اور ایک جذبے کے ساتھ عوام کی خدمت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔’

انہوں نے کہا کہ ایک خاتون ہونے کہ ناطے وہ بہت محنت سے کام کرتی ہیں کیونکہ انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ یہ ایک مرد غالب معاشرہ ہے۔

‘میری کوشش ہوتی ہے کہ خواتین کے لئے قانون سازی میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ حلقے کے لوگوں کے مسائل بھی حل کر سکوں۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں کبھی بھی یہ نہیں سوچا کہ خاتون ہونے کے ناطے مردوں کے مسائل سن اور حل نہیں کرسکتی بلکہ میری کوشش ہوتی ہے کہ خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کے مسائل بھی سنوں اور انہیں حل کر سکوں’ ثمر بلور نے بتایا۔

انہوں نے پختون معاشرے میں خواتین کو حقوق نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پشتون معاشرے میں خواتین کو بہت عزت دی جاتی ہے اور ان کو ایک الگ مقام دیا جاتا ہے لیکن جب ان کے حقوق کی بات آتی ہے تو جب تک ایک خاتون گھر کی سربراہ نہیں بنتی تب تک وہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہتی ہے۔

ٹی این این کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ثمر ہاورن بلور نے کہا کہ اسلام میں جس طرح اقلیتوں کو آئینی، اخلاقی اور دینی حقوق دیئے گئے ہیں اسی طرح اسلام نے خواتین کو بھی بنیادی حقوق دیئے ہیں لیکن پورے سال میں خواتین کے حقوق کے لیے ایک دن مختص کرنا او پھر سال بھر اس پر بات نہیں کرنا ناکافی ہے ہمیں سال بھر اس پر کوشش کرنی چاہیے۔

ثمر ہاورن بلور کے مطابق پشتون معاشرے میں ایک بہت بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ وہ خواتین کو اپنی جائیداد میں حصہ نہیں دیتے حالانکہ اسلام نے مرد کے ساتھ خواتین کو بھی جائیداد میں حصہ دینے کی تلقین کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی ہمارے خواتین کے اصل مسائل ہیں جن کے لئے قانون سازی کرنا ان کا بڑا مقصد ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button