جرائم

ڈی پی او آفس باجوڑ کی مالی تفصیلات شیئر کرنے والے فرد کے اپنے گھر میں داخلے پر پابندی

رفاقت اللہ رزڑوال

ڈی پی او آفس باجوڑ کی مالی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے فرد پر اپنے ہی گھر میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

چند دن پہلے شاہد علی نام شخص نے ویب سائٹ پر دستیاب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر باجوڑ کے فتر کی مالی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں جس پر وضاحت طلب کرنے کی بجائے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر باجوڑ نے سول کالونی کے مین گیٹ پر موجود اہلکاروں کو ہدایت کی کہ معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے شاہد علی نامی نوجوان کو اندر آنے کی اجازت نہ دی جائے، ڈی پی او کی ہدایت کو مدنظر رکھتے ہوئے آج گیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں نے شاہد کو واپس کر دیا۔

متاثرہ نوجوان شاہد علی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ میں نے بجٹ کے حوالے سے تین دن پہلے جو معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں وہ پہلے سے ویب سائٹ پر موجود ہیں لیکن اس کو بنیاد بنا کر میرے خلاف غیرقانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ”میں سول کالونی کے اندر رہتا ہوں، آج سہ پہر جب ڈیوٹی کے بعد گھر آ رہا تھا تو سول کالونی کے مین گیٹ پر پولیس اہلکاروں نے روکا اور بتایا کہ اوپر سے ہدایات ہیں کہ ہم آپ کو اندر نہ آنے دیں۔”

شاہد خان کے مطابق میں نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس میں کچھ غلط ہے، یہ معلومات ان اداروں کو خود پبلک کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی آر کے وقت مان مانیاں ہوتی تھیں، آج کس قانون کے تحت مجھ پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے جب ہم نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر باجوڑ عبدالصمد خان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ حل ہوا ہے اور وہ اپنے گھر میں ہے لیکن جب ہم نے بتایا کہ ابھی ہمارا رابطہ ہوا، وہ باہر ہے اور پولیس اس کو اندر جانے نہیں دے رہے تو ڈی پی او نے کہا کہ میں اس کا جواب ہی نہیں دینا چاہتا اور فون بند کر دیا۔

اس حوالے سے وکیل طارق افغان کا کہنا تھا کہ ڈی پی او کے دفتر کے اخراجات اور معلومات شیئر کرنا یا عوام کو بتانا کوئی غیرقانونی کام نہیں، اس وجہ سے کسی پر پابندی لگانا بالکل بھی پولیس کا اختیار نہیں، ان کا کام لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنا ہے، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا عمل غیرقانونی ہے، ہر شہری کو آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت آئین دیتا ہے اور اس حق کی ضمانت آئین دیتا ہے کہ ہر شخص آزادانہ نقل و حرکت کرے۔

طارق افغان نے بتایا کہ جب اس بندے کا گھر سول کالونی کے اندر ہے تو عدالت کے سوا کسی کے پاس بھی یہ اختیار نہیں کہ اس پر پابندی لگائے، ڈی پی او اور ڈی سی کے پاس یہ اختیار نہیں، ہر شہری کو بغیر کسی رکاوٹ کے آنے جانے کا اختیار ہے، اس کو منع کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، قانون کی خلاف ورزی ہے، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button