جرائم

جنگلات میں آگ کا سلسلہ اورکزئی کے بعد باجوڑ پہنچ گیا

نبی جان اورکزئی

باجوڑ: ڈیرہ اسمعیل خان اور وہاں سے شیرانی کے پہاڑوں میں لگی آگ کا سلسلہ شانگلہ، سوات، بونیر اور ضلع اورکزئی سمیت صوبہ کے مختلف پہاڑیوں سے ہوتا ہوا ضلع باجوڑ پہنچ گیا، ضلع اورکزئی کی آگ ابھی جل رہی تھی کہ باجوڑ سے آتشزدگی کی اطلاع موصول ہو گئی، ریسکیو 1122 کے مطابق لغڑی ماموند کے قریب پہاڑ پر آگ لگنے کی اطلاع کنٹرول روم کو موصول ہوٸی ہے۔

اطلاع موصول ہونے پر ریسکیو 1122 باجوڑ کے فائر فائٹرز ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے اور پہنچتے ہی آگ بجھانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

زرائع کے مطابق ریسکیو 1122 اہلکاروں، فارسٹ ڈیپارٹمنٹ اور مقامی افراد نے ایک گھنٹے مسلسل آپریشن کے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا، آگ بجھانے کے عمل میں ریسکیو 1122 کے 6 اہلکاروں نے حصہ لیا۔

اس سے قبل ریسکیو 1122 اورکزئی کو اپر اورکزئی کے علاقہ سیفل درہ کی درگہ پہاڑی سے ریسکیو کنٹرول روم کو فائر ایمرجنسی کی کال موصول ہوئی تھی۔

ریسکیو زرائع کے مطابق ایمرجنسی کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی فائر فائٹر ٹیمیں بروقت جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئیں جہاں لگی آگ پر قابو پانے کی لیے ریسکیو آپریشن مسلسل 5 گھنٹوں سے جاری ہے۔

خیال رہے کہ مئی کے پہلے عشرے میں ڈیرہ اسمعیل خان میں واقع کوہ سلیمان میں آسمانی بجلی گرنے کے باعث آگ لگی تھی جو پھیلتے پھیلتے بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کے علاقے زمری اور شیرانی کے جنگلات تک جا پہنچی جہاں اک طرف چلغوزہ کے جنگلات جل کر راکھ ہوئے تو دوسری جانب آگ کچھ ہی دنوں میں آبادیوں تک پہنچ گئی، آگ بجھانے کی کوشش کے دوران تین افراد جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:

سلگتے جنگلات اور ہماری بے حسی

بہتر گھاس گھاس اگانے کی خاطر جنگلات جلائے گئے

ماحولیات کا عالمی دن اور خیبر پختونخوا کے سلگتے جنگلات

اس عرصہ کے دوران بلوچستان کی حکومت بے بسی کی تصویر بنی رہی تاہم اس نے خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام ضرور لگایا کہ جنگلات میں لگی آگ سے متعلق اطلاع بروقت نہیں دی گئی تھی۔ 13 مئی کو متعلقہ اضلاع شیرانی، موسی خیل، ژوب ڈویژن کے محکمہ جنگلات کے حکام نے صوبائی حکومت کو ہیلی کاپٹرز اور جدید وسائل فراہم کرنے کیلئے خط لکھا جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، دس دن بعد آگ آبادیوں کے قریب پہنچی تو صوبائی حکومت کے ذمہ دار ادارے پی ڈی ایم اے کو ہوش آیا مگر ہیلی کاپٹر آپریشن این ڈی ایم اے کی کاوشوں سے ہی ممکن بنا۔

دوسری جانب وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور وفاقی وزیر ہاؤسنگ مولانا عبدالوسع نے ژوب میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ضلع شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت کی کوششوں سے ایران نے خصوصی جہاز فراہم کر دیا ہے، کوہ سلیمان میں لگی آگ بجھانے کے دوران شہید ہونے والے تینوں افراد کے لواحقین کو دس دس لاکھ جبکہ زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دیئے جائیں گے، وفاق بھی اعلان کرے گا۔

درگہ پہاڑی میں لگی آگ کا منظر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی کے دو ہیلی کاپٹر اور ایف سی کے ونگ امدادی کاموں میں مصروف رہے، اس کے علاوہ فائر بالز، فائر سوٹ، کمبل، خیمے، چٹائیاں اور آگ بجھانے کا دیگر سامان فراہم کیا گیا۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے آگ کا نوٹس لیا اور واقعے کی تحقیقات کرانے کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت کی تھی۔

یاد رہے کہ چلغوزے کے ان جنگلات سے سالانہ 650 سے 675 ٹن چلغوزہ پیدا ہوتا ہے، 2.6 ارب روپے مالیت کے چلغوزے کی تجارت ہوتی ہے اور اب بھی مارکیٹ میں فی کلو چلغوزہ چھے سے آٹھ ہزار روپے تک فروخت ہوتا ہے۔

بعدازاں خيبر پختونخوا کے جنگلات میں 6 مختلف مقامات پر آگ لگنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ ریسکیو ذرائع 1122 کے مطابق شانگلہ کے چکیسر علی جان سر کے پہاڑوں کے جنگلات میں لکڑیاں جمع کرے ہوئے ایک ہی گھر کے 4 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جاں بحق ہونے والوں میں ایک بچی، دو بچے اور ایک خاتون شامل تھے۔

پشاور: گزشتہ دو ہفتوں کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں 200 سے زائد جنگلات میں آگ نے 14,430 ایکڑ رقبے پر جنگلات اور چراگاہوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

محکمہ جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کی مرتب کردہ ایک رپورٹ کے مطابق جنگل میں لگنے والی آگ کے 210 واقعات میں سے تقریباً 55 آتشزدگیاں مقامی لوگوں نے جان بوجھ کر شروع کیں اور 12 کو خشک موسم کی وجہ سے بتایا گیا جب کہ مزید 143 مقامات پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، یہ اعداد و شمار 23 مئی سے 9 جون کے درمیان محکمہ کے ذریعہ تیار کردہ روزانہ کی صورتحال کی رپورٹس پر مبنی ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button