”ہمارے علاقے میں چوری ڈکیتی کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر تھیں، کل ہی کی تو بات ہے”

سٹیزن جرنلسٹ شمائلہ آفریدی

پشاور سے جنوب کی طرف 35 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود پہاڑی سلسلے میں سب ڈویژن حسن خیل کا علاقہ واقع ہے جس کا کل رقبہ 261 مربع کلومیٹر اور جو 75 فیصد سنگلاخ پہاڑوں اور 25 فیصد میدانوں پر مشتمل ہے۔ سابقہ ایف آر پشاور چار اقوام جناکوڑ، اشوخیل، جواکی اور حسن خیل پر مشتمل ہے، ان چاروں اقوام کو حسن خیل سب ڈویژن بھی کہا جاتا ہے جس کی مجموعی آبادی 65000 نفوس پر مشتمل ہے۔

یہاں صدیوں سے آباد آفریدی قبیلہ اپنی منفرد تہذیبی روایات، ثقافت، بہادری اور غیرت و حمیت کی وجہ سے تاریخی حثیثت رکھتا ہے۔ بنیادی ضروریات سے محروم یہ علاقہ ہمیشہ سے امن کا گہوارہ رہا ہے، قبائل امن پسند، مہذب اور معاشرتی و ثقافتی لحاظ سے ایک الگ اور منفرد شناخت رکھتے ہے، قبائل نے ہر دور میں اندرونی و بیرونی حملہ آوروں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف سیسہ پلائی  دیوار بن کر اپنی بہادری و شجاعت کا لوہا منوایا ہے۔

2008_2007 میں دہشتگردی کی لہر نے اس علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں یہاں کا پرامن، خوشگوار اور پرسکون ماحول شدید افراتفری اور انتشار کا شکار ہوا۔ اس بدامنی اور شورش کے دوران ایف آر پشاور کے قبائل دربدر ہو گئے جس سے یہاں کا معاشرتی نظام بھی متاثر ہوا۔ آٹھ نو سالہ بدامنی کی اس لہر کے بعد علاقے کو شرپسند عناصر سے کلیئر قرار دے دیا گیا جس کے بعد ان علاقوں میں زندگی کی رونقیں پھر سے بحال ہونا شروع ہو گئیں۔

تاہم بدقسمتی سے حسن خیل سب ڈویژن میں گذشتہ ایک سال سے بدامنی نے ایک دفعہ پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ علاقے میں ٹارگٹ کلنگ، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلا ہے جبکہ دوسری طرف وقت بے وقت سرچ آپریشنوں نے بھی لوگوں کے معمولات پر برے اثرات مرتب کئے ہیں۔

آیف آر پشاور کے مکینوں کا کہنا ہی کہ فاٹا انضام کے بعد علاقے میں رات کے وقت بغیر کسی اطلاع سرچ آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آپریشن کا مقصد علاقے سے اسلحہ جمع کرنا اور مشتبہ  افراد کو حراست میں لینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہی کہ سرچ آپریشن کے نام پر رات کے اندھیرے میں چھاپوں کا یہ سلسلہ غیرآئینی، غیرقانونی، غیراخلاقی اور غیرانسانی عمل ہے۔

علاوہ ازیں سرچ آپریشن کے نام پر علاقے میں شرپسند عناصر نے خود کو سیکورٹی اہلکار ظاہر کر کے چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ دو تین مہینے کے اندر نامعلوم افراد کے ہاتھوں ایف ار پشاور میں کئی بے گناہ  افراد قتل ہوئے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل رات کے وقت چوروں اور شرپسند عناصر نے یلغار کر کے خود کو سیکورٹی اہلکار ظاہر کر کے جیناکوڑ سے تعلق رکھنے والے مختیار نامی نوجوان کے گھر گھس گئے جس کے نتیجے میں ہاتھا پائی ہوئی اور مزاحمت کے دوران مختیار کو فائرنگ کے قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل اشوخیل میں بھی تین نوجوانوں کو نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

ایف آر پشاور کی چاروں اقوام کے مشران نے علاقے میں پیھلی ہوئی بدامنی کو روکنے کیلئے گرینڈ جرگہ کر کے متفقہ طور پر 40 رکنی کمیٹی بنائی ہے۔ قومی مشران کا کہنا ہی کہ ایف آر پشاور کے قبائل امن پسند لوگ ہیں۔ نیز علاقے میں اس وقت کوٸی شرپسند یا مشتبہ اشتہاری موجود نہیں ہے۔ مشران نے اس جرگے کی وساطت سے مطالبہ کیا ہی کہ اگر ہمارے علاقے میں شرپسند دہشت گرد موجود ہیں تو اتھارٹیز نشاندہی کروائیں اس حوالے سے مشران انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کے لئے تیار رہیں گے۔ مشران حکومت کے ساتھ بھرپور تعان کریں گے لیکن رات کے وقت اچانک سے اطلاع کئے بغیر گھروں میں گھسنا غیرانسانی اور غیرقانونی عمل ہے جسے ہم اپنی روایات، چادر و چار دیواری کی پامالی سمجھتے ہیں۔

سب ڈویژن حسن خیل کے مشران نے اتحاد اتفاق کے ساتھ علاقے میں انتشار کو مزید بڑھاوا دینے کی شدید مذمت کی ہے لیکن اپنے موقف پر قائم رہنا علاقے کے قبائل کیلئے چیلنج ہو گا۔ نیز اپنے علاقے کو پہلے کی طرح پرامن بنانے میں علاقے کی تمام سیاسی سماجی شخصیات کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ سب ڈویژن حسن خیل کی چاروں اقوام اس انتشار کو ختم کرنے کیلئے یکجا ہو کر ایک پلیٹ فورم پر خود کو پرامن، امن پسند، مہذب، پڑھے لکھے اور باشعور شہری ثابت کریں۔ ہم قبائلی روایات کے پرچارک ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں چوری ڈکیتی کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر تھیں یہ ابھی کل ہی کی تو بات ہے۔

علاقے میں کوئی غدار موجود ہے جو امن کو خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے تو علاقے کے تمام کشران مشران حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر مجرموں غداروں کو گرفتار کر کے علاقے سے امن دشمنوں کا صفایا کریں۔ ہمیں اپنے علاقے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے  چاہئیں۔ ہر قسم کی دہشتگردی اور انتہا پسندی خواہ جس نام اور نعرے سے بھی ہو اور جو بھی اس میں ملوث ہو اس کے خلاف میدان میں موجود ہونا چاہیے۔

اگر آج ہم نے اپنے علاقے کا دفاع نہیں کیا اور ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیع دی تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ اگر اآج علاقے کے قبائل یکجا نہ ہوئے اور متاثرہ خاندان کو انصاف نہ دیا گیا تو اس قسم کے خونی واقعات تسلسل کے ساتھ ہوتے رہیں گے۔ ہمارے قبائل نے اس دھرتی کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، اب وقت ہی کہ ہم ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہ ہونے دیں۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو ہمارے لئے ہماری خاموشی نقصان دہ ثابت ہو گی۔

پولیس انتظامیہ اس دہشتگردی میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے سزا دیں۔ سیکیورٹی فورسز کو اگر علاقے میں کسی پر شک ہے تو وہ قبائلی مشران سے مشاورت کر کے انہیں گرفتار کریں لیکن اس طرح رات کو اطلاع کئے بغیر چھاپے مارنا ہماری پختون روایات کے منافی عمل ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر اس طرح رات میں چھاپے جاری رہے تو اس سے دوسرے شرپند عناصر غلط فائدہ اٹھائیں گے اور چوری ڈکیتی کی وارداتیں کریں گے جو ریاست کی بدنامی کا بھی باعث بنیں گی۔ علاقے میں موجود چیک پوسٹوں پر ایف سی اہلکار مغرب تک ڈیوٹی دیتے ہیں جبکہ رات کے وقت شرپسند عناصر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں جنہیں روکنے کیلئے دن کے ساتھ رات کو بھی ڈیوٹی سر انجام دینی چاہیے۔

اداروں کو چاہیے کہ بندوق کی نوک پر وقتی امن قائم نہ کریں، دیرپا امن قائم رکھنے کیلئے ضروری ہی کہ عوام کی امنگوں کے مطابق پالیسیاں ترتیب دی جائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ قبائلی عوام حکومت کی غلط پالیسیوں سے متنفر ہو کر غیرقانونی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو جائیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button