بلاگز
J
-
پاکستان میں وزیر تعلیم کیلئے ماہر تعلیم ہونا ضروری نہیں
ہر ادارے کے اپنے قواعد وضوابط اور دائرہ اختیار کے تحت اپنے فرائض ہوتے ہیں اور ادارے کے لئے اہل لوگوں کا انتخاب کر کے ہی ملک و قوم کو ترقی شاہراہ پر گامزن کیا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں -
سوشل میڈیا کی مہربانی سے آج کہانیاں ہیں نہ مطالعے کی عادت
نوجوان طبقے میں مطالعہ کا رجحان کم ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں لاعلمی اور ذہنی امراض بڑھ رہے ہیں جو کہ نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔
مزید پڑھیں -
گل پانڑہ کے رقص یا ان کو سیکیورٹی دینے میں حرج کیا ہے؟
ضلع خیبر کے باسیوں کو تو اس بات پہ خوش ہونا چاہیے تھا کہ گل پانڑہ جیسی مشہور گلوکارہ نے نہ صرف ان کے علاقے کا دورہ کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ ضلع خیبر ایک پرامن علاقہ ہے۔
مزید پڑھیں -
ویڈیو جرنلسٹ رکشہ چلانے پر مجبور
گزشتہ دنوں نوکری سے ہاتھ دھونے والے صفیر کی ویڈیو سامنے آئی جس میں صفیر احمد بے بسی اور مجبوری کے عالم میں یہ الفاظ ادا کر رہے ہیں " کھانے کو نہیں ہے، بچے بھوکے ہیں۔"
مزید پڑھیں -
‘کورونا کا شکار ہوا تو سب سے زیادہ فکر اپنی ماں کی تھی’
جنوبی وزیرستان کے حضرت علی کی والدہ خود کو ان سے دور نہیں کرنا چاہتی تھیں انہیں ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی وجہ سے ماں، بچے یا باقی گھر والے کورونا سے متاثر نہ ہو جائیں۔
مزید پڑھیں -
قبائلی صنف نازک،جائز حقوق اور ثقافتی بندشیں
میں تمام قبائلی مرد حضرات جو ایک خاندان میں ریاست کا مقام رکھتے ہیں، ان سے صنف نازک کے جائز حقوق کا مطالبہ کرتا ہوں۔
مزید پڑھیں -
کورونا وائرس۔۔ وباء یا سازش مگر ہے ایک تلخ حقیقت
اس مرض سے روزانہ لوگ مر رہے ہیں، دنیا بھر میں ایک کروڑ کے قریب متاثر تو ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں
مزید پڑھیں -
”ہال کو کھیت سمجھو اور حاضرین کو آلو، ٹماٹر یا کدو!”
صبح سویرے ابو نے ایک کال ریسیو کی اور نم آنکھوں سے مجھے بتایا، "تم نے کر دکھایا'' اور مجھے گلے لگا لیا۔
مزید پڑھیں -
پشاور کی سکھ برادری کے لئے شمشان گھاٹ کا قیام خواب بن گیا
گذشتہ کئی دہائیوں سے پشاور کی سکھ کمیونٹی کے لوگوں کی اپنی مذھبی رسومات ادا کرنے کے لئے ان کے پاس نہ تو کوئی گردوارہ موجود ھے اور نہ ھی چوتھی کے رسومات کے لئے شمشان گھاٹ۔ 1988 میں ڈسٹرکٹ مینارٹی ممبر کی حیثیت سے میں نے انسانی حقوق پر بات کی اور اپنے حقوق…
مزید پڑھیں -
چاند تاروں کو چھونے کی آشا، آسمانوں میں اڑنے کی آشا
آشا ارمان کو کہتے ہیں جس کی مٹھاس نے مجھے واپس اپنے گاؤں کے لہراتے کھتیوں اور اونچی نیچی پگڈنڈیوں اور سرسوں کے کھیتوں میں تتلیوں کے پیچھے اندھادھند دوڑنے کی یاد دلا دی۔
مزید پڑھیں