بچپن کے کھیل کس کس کو یاد ہیں ؟

سعدیہ قمر

بچپن ہر شخص کی زندگی  کا سب سے خوبصورت حصہ ہوتا ہے  بچے اپنی موج مستی  میں رہتے  اور اپنی مرضی سے زندگی گزارتے ہیں، بچوں پر کسی قسم کی ذمہ داری نہیں ہوتی ، صبح گھر سے  سکول کے لیے نکلنا، پھر دوپہر کو واپس آکر کھانا کھا کر کچھ دیر کے لیے سو جانا اور پھر ٹیویشن پڑھنے جانا اور رات کو ٹی وی پر اپنی پسندیدہ کارٹون یا ڈرامہ دیکھتے دیکھتے بڑی ماں کی گود میں سوجانا۔ ایمن میری دوست ہے ایک دن ہم ساتھ بیٹھے تھے تو  وہ مجھ سے اپنے بچپن کے بارے میں باتیں کرنے لگی۔ اسکے چہرے پر ایک عجیب قسم کی خوشی نمودار ہوئی اور کہنے لگی کہ  میرا بچپن تو بہت حسین تھا، ہم  بہن بھائی اکٹھے کھیلتے تھے ، ان کھیلوں میں کچھ  کھیل لڑکیوں والے  اور کچھ لڑکوں  والے تھے لیکن میں لڑکوں او لڑکیوں دونوں کے ساتھ کھیلتی تھی کیونکہ میں نے اپنا سارا بچپن اپنے بھائی کے ساتھ گزارا ہے وہ میرا سب سے بہترین دوست  ہمیں  توڑی بہت لڑائی بھی کرتے تھے لیکن ماں کی ڈھانڈ کی وجہ سے  ہم نے کبھی ایک دوسرے کی شکایت نہیں لگائی ۔

میں آپ کو مزے کی بات باتی ہو ایمن نے مجھ سے کہا، میں نے اپنے بچپن میں چھت پر پتنگ بازی بھی کی ہے اور گلیوں میں ڈور لگانا، بنٹے کھلینا اور گولی ڈنڈا  بھی ہمارے کھیل کا حصہ تھا۔ایمن نے باتوں باتوں میں مجھ بتایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہم بہت کچھ کھو چکے ہیں  اگر ہم آج کے بچوں کا موازنہ اپنے بچپن کے ساتھ کریں  تو ہمیں واضح فرق نظر آتا ہے  کیونکہ موجودہ دور میں  ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہمارے بچے گھروں تک محدود ہوگئے ہیں  ایک تو ہر دوسرے روز ہمیں یہ خبر ضرور سننے کو ملتی ہے کہ فلاں جگہ میں  فلاں بچے کو جنسی زیادتی نشانہ بنایا گیا جو کہ  تشویش کی بات ہے اسلئے ماں باپ اپنے بچوں کو باہر جانے اور کھلنے کی اجازت نہیں دیتے اور بچے سارا دن  گھر میں کمپیوٹر یا موبائل فون پر گیمز کھیلتے  ہیں شاید اسی وجہ سے  ہمارے  بچے جسمانی طور پر زیادہ مضبوط نہیں  ہوتے اور ذرا سا کام کرنے پر تھک جاتے ہیں اس کے علاوہ بہت سے بچوں موبائل فونز اور کمپوٹرز کے  زیادہ استعمال کی وجہ سے سردرد اور نظر کی کمی کا فریاد کرتے ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے والدین بچوں میں تعاون اور جدوجہد کے یقین کا احساس دلانے کے لیے ایسے کھیلوں کا انتظام کر سکتے ہیں جو سب مل کر کھیلیں۔باری باری اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کریں اور جو بھی نتیجہ سامنے آئے اسے قبول کریں ۔ایسے کھیل کو ترجیح دی جائے جو مل جل کر کھیلیں جائیں ۔ٹیم بنا کرکھیلے جانے والے گیمز(مثلاً کیرم ،لوڈووغیرہ)کو ترجیح دی جائے۔ بچے گھر کے بڑوں میں اپنا ئیت اور قربت محسوس کرکے خود بھی ان جذبوں پر مائل ہوتے ہیں خوش گوار ماحول میں پروان چڑھنے والے بچے کا میاب زندگی گزار تےہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button