بلاگزلائف سٹائل

بیٹی کماتی ہے تو وہ پیاری اور اگر بیٹا کماتا ہے تو وہ پیارا

عائشہ آيان

مشہور ناول نگار عمیرہ احمد کہتی ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ محبت اور سب سے زیادہ نفرت پیسوں سے کی گئی لیکن میرے تجربے کے مطابق پیسے سے صرف محبت ہی کی جاتی ہے اور اس بات كى اہميت كا اندازه مجھے اس وقت ہوا جب میں نے ايک ڈائجسٹ مىں ايک افسانہ پڑھا جس كا عنوان تھا “ليگ پيس” (leg piece)! ميں نے بہت حيرت سے يہ نام پڑھا اور انتہائی حيرت سے میں نے وه افسانہ پڑھنا شروع كيا، مجھے اس وقت تو كچھ سمجھ نہيں آيا مگر آج كچھ دنوں سے مجھے وہى افسانہ ياد آ رہا ہے۔

افسانے كا خلاصہ کچھ يوں ہے كه ایک گھر میں اہميت صرف بيٹے كو دى جاتى تھی؛ گهر ميں كبھى كبھار چكن سالن بنتا تو ماں “ليگ پيس” ھميشه بیٹے کو دے دیتی تھی اور بیٹی خاموش نظروں سے دیکھتی رہ جاتی تھی۔

پھر كچھ سالوں بعد ايک وقت آتا ہے کہ جب بیٹا شادى كر كے اپنى بيوى كو لے كر الگ ہو جاتا ہے اور پھر جب گھر ميں كمانے والا كوئی نہيں ہوتا تو وه بیٹی نوكرى شروع کر دیتی ہے۔

اب گھر میں كمانے والى وه بیٹی ہوتى ہے، بیٹی کی پہلی تنخواہ میں ماں چكن بنا ليتى ہے، ماں بیٹی کے سامنے کھانا رکھ لیتی ہے۔ جب بیٹی کی نظر اپنے کھانے پر پڑتی ہے تو وہ دیکھتی ہے کہ اس کی پلیٹ میں ماں نے بڑے چاؤ سے “لیگ پيس” ڈالا ہوا ہوتا ہے اور تب اسے كچھ سال پرانى بات ياد آ جاتى ہے كه كس طرح ”ليگ پيس” كى طرف وه للچائی نظروں سے ديكھتى تھی مگر ”لیگ پیس” ہمیشہ صرف اس کے بھائی كو ہی ملتا تھا كيونكه وه لڑکا تھا اور پھر کمانے والا بھی وہی تھا۔ اور اب چونكہ بیٹی گھر ميں كمانے والى بن گئی تھى تو اہميت بھى اسے ہی دى جا رہى تھى۔

اب ميں یہ سوچ رہی ہوں كه اس كى ماں کو بيٹا زياده عزيز تھا يا كمانے والى بيٹى؟

بہت سوچ بچار کے بعد ميں اس نتیجے پر پہنچی کہ عزیز تو دونوں ہوتے ہیں لیکن لاڈ پیار اسی کے حصے میں آیا جو پیسے کمانے، گھر لانے کا ذریعہ تھا؛ خیال بیٹے یا بیٹی کا نہیں بلکہ پیسے کمانے والی مشین کا رکھا جا رہا تھا۔

میں کنفیوژ ہو گئی ہوں کہ بیٹے کی پیدائش پر خوشی بیٹی کی پیدائش پر خاموشی، کیا یہ خوشی بیٹے کی پیدائش کے لیے ہوتی ہے یا اس کی جوانی میں کمائی کی؟ کہ بیٹا بڑا ہو گا تو فیوچر بن جائے گا، پیسہ کمائے گا، لڑکی کا کیا ہے اسے تو کسی دوسرے کا گھر آباد کرنا ہے۔

بيٹى كا كيا ہے، پرايا دھن هے، شادى كر کے چلى جائے گى۔ ہاں! لیکن اگر بیٹی کمانے لگی بھی تو بھی کہا جاتا ہے کہ یہ تو میری بیٹی کم اور بیٹا زیادہ ہے۔

مجھے اب یہ بات سمجھ آ گئی هے كه لوگ بيٹا پيدا ہونے كا نہيں بلكه آنے والى كمائی كا سوچ كر خوشياں مناتے ہیں کیونکہ یہ بیٹا تب ہی انھیں اچھا لگتا ہے جب یہ پیسے کما کے لاتا ہے، جس دن اس نے پیسہ نہیں کمایا تو اس کے لیے سب کی محبت پھیکی پڑ جاتی ہے۔

اگر بات صرف كمائی كى نہیں ہے تو پھر بيٹيوں كو وه اہميت كيوں نہیں دى جاتى جو كمانے والے بيٹوں كو دی جاتی ہے؟ حالانكہ میں نے سبھی والدين كو ہميشه یہ كہتے ہوئے سنا ہے كہ هم نے كبھى اپنے بچوں میں کوئی فرق نہیں كيا۔ اگر سچ میں ايسا ہوتا تو ہمیں بچے ایک ہی جیسے پیارے اور دلارے ہوتے خواہ وہ کماتے یا نہ کماتے۔

لیکن یہاں اگر بیٹی کماتی ہے تو وہ پیاری اور اگر بیٹا کماتا ہے تو وہ پیارا، میں نے بہت سے ايسے گھر ديكھے ہیں جہاں بے روزگار بيٹوں كى نہیں بلكہ نوكرى كرنے والى بيٹيوں كو اہميت دى جاتى ہے كيونكہ ”وه كماتى جو ہیں۔”

كوئی مانے يا نا مانے ليكن یہ ايک حقيقت ہے، سچى اور تلخ حقيقت! یہ کہانی اگر ہر گھر کی نہیں ہے تو ہر دوسرے تیسرے گھر کی ضرور ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button