صحتکالم

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم ناکام کیوں؟

ارم رحمٰن

پاکستان میں 1994 سے اب تک پولیو کے خاتمے کے پروگرام میں 3,39,521 پولیو ورکرز اپنی خدمات انجام دے کر اس کے ہر اقدام میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

موجودہ وقت میں پولیو کے خاتمے کے لیے نیپ (National emergency action plan) وائلڈ پولیو وائرس ون اور ٹو (WPV1 and VDPV2) کے تدارک کے لیے پرعزم ہے۔ اس پروگرام کو دنیا کے نمایاں ماہرین کی خدمات اور معلومات حاصل ہیں؛ نیٹ ورک، جدید لیبارٹریز موجود ہیں۔

پولیو تقریباً ساری دنیا میں ختم ہو چکا تھا لیکن پاکستان اور افغانستان رہ گئے تھے جہاں پولیو کے کیسز نکلے لیکن ان دونوں سے امید تھی کہ رواں سال پولیو کا خاتمہ ہو جائے گا۔ رواں سال افغانستان میں دو کیسز ملے ہیں، پاکستان میں گزشتہ سال صرف ایک پولیو کیس بلوچستان میں نکلا تھا جبکہ رواں سال خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں 11 کیسز سامنے آئے ہیں لہذا رواں سال پاکستان میں پولیو کا ختم ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔

پولیو کے مرض سے پاک ملک کہلانے کے لیے تین سال تک کوئی کیس نہیں نکلنا چاہیے لیکن اس سال پاکستان افغانستان کے علاوہ چھوٹی سی تعداد جنوب مشرقی افریقہ میں دریافت ہوئی اور اس پولیو وائرس کی قسم پاکستانی پولیو کے وائرس کی قسم ہے۔

علاوہ ازیں پولیو کی ایسی اقسام افریقہ، ایشیاء، یورپ کے کئی حصوں میں پھیل رہی ہے اور یہ ان جگہوں پر زیادہ ہے جہاں خاطر خواہ آبادی ویکسین لگوانے سے محروم رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروز کا کہنا ہے کہ ساری دنیا میں ایسے سارے ممالک جن کو پولیو سے پاک قرار دے دیا تھا ان میں سے کئی ممالک میں پولیو کے کیسز سامنے آنا تشویش ناک بات ہے اور اس بات کی کڑی یاددہانی ہے کہ اگر ہم ہر جگہ پولیو کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو یہ ایک بار پھر ساری دنیا میں پھیل سکتا ہے۔

پاکستان میں پولیو کے ختم نہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جس کی جڑ جہالت پر مبنی ہے۔ کئی قسم کی غلط فہمیاں دماغ میں بھری ہوئی ہیں۔

پاکستان کے دورافتادہ گاؤں دیہاتوں میں اور ایسے ہی کچھ دوسرے ممالک کے بھی پسماندہ علاقوں میں جہاں پولیو کے حوالے سے تعلیم کا فقدان ہے ان کا ماننا ہے کہ یہ پولیو ویکسین بچوں کو دیگر بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔

باہر ممالک میں لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ویکسین آٹزم کا سبب بن سکتی ہے۔ نائجیریا میں پولیو ویکسین کے خلاف ردعمل کی وجہ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ لڑکیوں میں بانجھ پن اور ایڈز کا سبب بنتی ہے۔

پاکستان میں ویکسین کے خلاف یہ خیال ہے کہ یہ بچوں کو وقت سے پہلے بالغ کر کے بے حیائی کی طرف لے جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے یہ ویکسین حرام اجزا سے بنی ہے اس کے ڈراپ پینا حرام ہیں۔

حکومت پاکستان نے کتنے جید علمائے دین کے فتوے لیے کہ پولیو ویکسین بالکل حلال اور مؤثر ہے، اس کے ڈراپس لینا انسانی صحت کے لیے مفید ہیں مگر ابھی تک سب لوگ اس وہم اور بدگمانی سے نہیں نکلے اور اس ویکسین کو بچوں کو دینے سے ہچکچاتے ہیں۔

کچھ جگہ پر اس ویکسین کے مادے کو غیرمحفوظ کہا جاتا ہے کہ اس سے مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ کچھ کا دعوی ہے کہ ہمارے بزرگوں نے نہیں پیے تھے وہ تو ٹھیک رہے تھے؛ کچھ لوگ اسے بیرون ملک کمپنی کا پیسہ لوٹنے کا حربہ کہتے ہیں اور کچھ نادان اس کو مغربی سازش کا نام دیتے ہیں۔

اکثر دوردراز علاقوں میں مقامی پولیو ورکرز کو دباؤ ڈال کر Fake finger marking کروا دی جاتی ہے یعنی بچے نے قطرے پئیے نہیں اور انگلی پر نشان لگوا دیا کہ پلا دیئے گئے۔

ایک سوال جو شدت سے ذہن میں آتا ہے کہ پاکستانی عوام کا پولیو ویکسین کے خلاف اتنا شدید ردعمل اور مخالفت کیوں ہے؟ کیا ان کی یہ بدگمانی ویکسین کے بارے میں عدم آگاہی کا ثبوت ہے؟ کیا کوئی خاص عناصر ہیں جو کسی ذاتی یا سیاسی مفادات کی بنا پر پولیو خاتمہ مہم کو ناکام کرنا چاہتے ہیں؟

“بنوں” خیبر پختونخوا کا چھوٹا سا ضلع ہے، گزشتہ چند سالوں سے بدامنی اور سیکیورٹی کی تشویشناک حالات کے سبب جہاں سے لوگ نقل مکانی کرنے لگے ہیں۔ تین چار دن پہلے پولیو ورکرز پر حملہ ہوا ہے۔

اسی طرح 30 نومبر کو کوئٹہ کے نواحی علاقے میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر مسلح حملے میں 4 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔ اور اس حملے کے بعد رضاکار اور ان کے اہل خانہ بھی شدید خوفزدہ ہیں کہ یہ مہم ملتوی ہی ہو جائے تو بہتر ہو گا۔

ایسا ہی ایک حملہ 25 ستمبر 2022 کو بنوں میں دو پولیو لیڈی ورکرز پر کیا گیا، دونوں خواتین ماں بیٹی تھیں اور بی ایچ یو سے ویکسین لینے آئیں تو نرسری کے ملازمین نے حملہ کر دیا؛ تشدد، ہاتھا پائی کی، ان کے موبائل چھین لیے، پولیس کی فوری مدد نے بچایا اور ایک ملزم پکڑا گیا۔ جون میں بھی ایسا ہی واقعہ ٹانک میں رونما ہوا۔ اس حملے میں ایک پولیو ورکر اور دوسرا اہلکار جاں بحق ہو گئے۔

اتنے مشکل حالات میں جب ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا تب بھی یہ مہم رکنے نہیں پائی، پاکستان پرعزم ہے کہ اس بیماری کو جڑ سے ختم کر دیا جائے لیکن پولیو کی ہر مہم کے دوران 70,80 کیسز نکل آتے ہیں جس کی وجہ عوام کا پولیو ویکسین پر عدم اعتماد بھی ہے، وہ اپنے بچوں کو پلاتے نہیں اور اگر پلا بھی دیں تو بچوں سے کہتے ہیں تھوک دو، آخر اتنی غلط فہمی کی وجہ سمجھ نہیں آتی جبکہ پولیو ویکسین بہت مفید اور میسر ہے اور ساری دنیا میں ایک ہی ویکسین استعمال ہوتی ہے۔

پولیو ویکسین کی ہر بچے تک رسائی بلاشبہ ایک پیچیدہ عمل ہے اس لیے ایسی ہر صورتحال سے بطریق احسن نبردآزما ہونے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔

ایسی حکمت عملی اختیار کرنی ہو گی کہ پسماندہ ترین علاقے میں بھی لوگوں کو اس ویکسین کے حوالے سے خدشات دور کرنے کے لیے دلائل سے قائل کیا جائے، دیگر مذہبی بنیادوں کو بھی سمجھانا ہو گا کہ ہر والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ اچھی صحت کا بھی اہتمام و انصرام کریں، ایک صحتمند انسان ہی اپنی زندگی بھرپور طریقے سے گزار سکے گا، مزید پاکستان کی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔

اسلامی لحاظ سے بھی سمجھایا جائے کہ اللہ کو کمزور مومن سے صحتمند مومن زیادہ پسند ہے کیونکہ وہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی عمدہ طور پر انجام دے سکتا ہے۔ پاکستان کو اگر پولیو سے پاک کرنا ہے تو عوام کے ذہنوں کو پولیو ویکسین کے حوالے سے غلط فہمیوں سے پاک کرنا اشد ضروری ہے۔

Erum
ارم رحمٰن بنیادی طور پر ایک شاعرہ اور کہانی نویس ہیں، مزاح بھی لکھتی ہیں۔ سیاست سے زیادہ دلچسپی نہیں تاہم سماجی مسائل سے متعلق ان کے مضامین نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ پڑوسی ملک سمیت عالمی سطح کے رسائل و جرائد میں بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔
Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button