جرائملائف سٹائل

”کوئی موٹرسائیکل والا سامنے سے گزرتا ہے تو مجھے انتہائی ڈر لگتا ہے”

عاصم خان

صحافی وہ افراد ہیں جو معاشرے میں پوشیدہ کہانیوں کو منظرعام پر لانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ انتہائی خطرناک مسائل سے بھی دوچار ہیں جن میں خیبر پختونخوا میں سب سے تشویش ناک خطرہ خواتین صحافیوں کو ہراسانی کا درپیش ہے۔

‎ذکیہ خان پشاور میں مقیم ایک خاتون صحافی ہیں جو بطور اینکر پرسن پی ٹی وی کے ساتھ کام کر رہی ہیں، ان پر 7 جولائی 2022 کو نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں گھس کر ان پر تیزاب پھینکنے کی کوشش کی جس کے بعد ذکیہ خان نے 26 جولائی 2022  کو تھانہ گلبہار نمبر 2 کو دفعہ 506 اور 511 کے تحت ایف آئی آر درج کرا لی۔

اس حوالے سے ذکیہ خان نے بتایا کہ کے 7 جولائی 2022 کو دو نا معلوم افراد میرے گھر آئے اور اچانک تیزاب کی بوتل کھولنے لگے، میں نے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی، میری بیٹی نے دروازہ بند کر لیا لیکن وہ تیزاب دروازے کے نیچے سے پھینکنے لگے، ”جب میں نے ایف آئی آر درج کروائی تو شروع میں ایک دو دن تک پولیس بہت فعال رہی لیکن دو دن بعد میں نے تھانے والوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر آپ ہمیں کوئی ڈائریکشن دیں گی، کسی پر شک ظاہر کریں گی تو ہی ہم انویسٹیگیشن کریں گے۔”

انہوں نے مزید کہا، ”میں ذہنی طور پر بے چینی کا شکار ہو گئی ہوں اور جب میں اپنے دفتر جاتی ہوں اور سکیورٹی گارڈ کے پاس اسلحہ دیکھتی ہوں یا راستے میں کوئی موٹرسائیکل والا سامنے سے گزرتا ہے تو مجھے انتہائی ڈر لگتا ہے اور میرے بچے بھی اسی طرح بے چینی کا شکار ہیں۔”

جب انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے آر ٹی آئی قانون کے تحت کیس کی حتمی حیثیت کے بارے میں جاننے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ اس کی معلومات دینا پولیس کا کام ہے لیکن جب متعلقہ پولیس سے آر ٹی آئی کے قانون کے تحت کیس کی حتمی حیثیت اور ان کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ان کی طرف سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔

قومی اسمبلی سے صحافیوں کے تحفظ کا قانون بھی پاس کرایا گیا ہے لیکن پھر بھی اس طرح کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی سے پاس کردہ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنل ایکٹ 2021 کے مطابق:

“حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہر صحافی اور میڈیا پیشہ ور افراد کی زندگی اور تحفظ کے حق، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 9 میں موجود ہے، کا تحفظ کیا جائے گا، اور ایسے کسی فرد کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا جائے گا۔”

”کوئی بھی شخص یا ادارہ خواہ وہ نجی ہو یا عوامی، کسی بھی ایسے عمل میں ملوث نہیں ہو گا جس سے کسی صحافی یا میڈیا پروفیشنل کی زندگی اور تحفظ کے حق کی خلاف ورزی ہو۔”

ٹرائبل نیوز نیٹ ورک (ٹی این این) میں شائع ایک ارٹیکل کے مطابق پشاور میں تقریباً 35 ورکنگ خواتین صحافی ہیں اور ان میں سے 22 پشاور پریس کلب کی مکمل ممبر ہیں، جبکہ 26 خیبر یونین آف جرنلسٹس میں رجسٹرڈ ہیں

پشاور پریس کلب کے صدر محمد ریاض کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جب ہمیں اس طرح کی کوئی شکایت ملتی ہے تو ہم متعلقہ اداروں یعنی پولیس، ایف آئی اے یا سائبر کرائم جیسے متعلقہ فارمز پر اس مسئلے کو حل کراتے ہیں۔

اسی طرح خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر ناصر حسین کا کہنا تھا  کہ خواتین خواہ وہ آفس میں کام کر رہی ہیں یا فیلڈ میں، ان کو حراسگی کا سامنا ہوتا ہے، ہمارے پاس شکایتیں آتی ہیں لیکن خواتین اپنی عزت بچانے کی خاطر ان کو سامنے نہیں لاتیں اس لئے ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہم دونوں فریقین کو بٹھا کر مسئلہ حل کرائیں۔

خاتون صحافی رفعت شاہ جو انٹرنیشنل میڈیاسے وابستہ رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میں جس ادارے میں رپورٹنگ کر رہی تھی تو اس ادارے کے ایک سیاسی پارٹی سے اختلافات کی وجہ سے ہم سب رپورٹرز کو خطرے کا سامنا تھا اور میں جہاں پر رپورٹنگ کیلئے جاتی تھی تو میں وہ انفارمیشن نہیں نکال سکتی تھی جو مجھے چاہئے ہوتی تھی اور مجھے چینل کا لوگو بھی چھپانا پڑتا تھا، ”میں ایک انٹرنیشنل ادارے کے ساتھ کام کر رہی تھی جس پر پاکستان مخالف ایجنڈا پھیلانے کے الزامات لگے اور مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی گئی اور ایک خطرناک صورتحال بن گئی اس لئے میں نے وہ نوکری چھوڑ دی۔”

رفعت نے مزید بتایا کہ یہ واقعات ان کی صحافت پر بہت اثرانداز ہوئے، ”جب مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تو میں نے انٹرنیشنل میڈیا کے ساتھ کام چھوڑ دیا اور میں نے کچھ وقت کیلئے صحافت چھوڑ دی اور پھر میں سوشل میڈیا تک محدود ہو گئی، وہاں پر بھی میں سوچ سمجھ کر معلومات اپ لوڈ کرتی ہوں کیونکہ وہاں پر بھی گالی گلوچ اور غلط قسم کے کمنٹس آتے ہیں۔”

حکومت اور بالخصوص میڈیا اداروں کو صحافیوں کی حفاظت اور انہیں ہراساںی سے بچانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر یہ مسئلہ مسلسل موجود رہا تو خواتین صحافی اپنا کام بند کر دیں گی اور معاشرے میں چھپے مسائل اور کہانیاں جنہیں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے پوشیدہ رہیں گی۔

نوٹ: یہ رپورٹ پی پی ایف کی تحقیقاتی فیلوشپ کا حصہ ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button