بلاگزسیاست

جمہوریت کے سوداگروں کی جیت، جمہوریت کی ہار

انصار احمد

یہ کہانی 12 اکتوبر 1999 کے بعد کے ان حالات کی ہے جب نواز شریف صاحب کراچی کی لانڈھی جیل میں جنرل مشرف کا طیارہ اغوا کرنے کے الزام میں مقید تھے اور بی بی سی پر ایک لائیو مذاکرہ دیکھ رہے تھے۔ مذاکرے کا موضوع بڑا ہی دلچسپ اور سننے والے کو اپنی جانب مبذول کرانے والا تھا، موضوع تھا: “بھارت کی اب تک (1999 تک) کی سب سے بڑی کامیابی کیا ہے؟”

نواز شریف صاحب بتاتے ہیں کہ میں اس وقت سوچ رہا تھا کہ بھارت کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی آخر کیا ہو سکتی ہے؟ اور ایسی کون سی کامیابی ہو گی جو بی بی سی جیسا صحافتی ادارہ بھارت کے تمام بقید حیات سابق وزرائے اعظم کو بلا کر لائیو چلا رہا ہے۔

ماضی میں نواز شریف کے رائٹ ہینڈ چودھری نثار علی خان کی موجودگی میں معروف صحافی اور کالم نگار رؤف کلاسرا صاحب کو جدّہ کے سرور پیلس میں انٹرویو دیتے ہوئے نواز شریف صاحب بتاتے ہیں کہ مذاکرہ شروع ہوتے ہی میزبان نے سوال کیا کہ جی بتائیں بھارت کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی یا اچیومنٹ کیا ہے؟

نواز شریف صاحب رؤف کلاسرا صاحب کو بتاتے ہیں کہ میں اس وقت حیران ہوا جب اس مذاکرے میں موجود بھارت کے تمام سابقہ حکمرانوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ 1947 سے اب تک بھارت کی سب سے بڑی اچیومنٹ “جمہوریت، اس کی روانی اور تسلسل ہے۔”

نواز شریف صاحب اسی انٹرویو میں مزید بتاتے ہیں کہ لانڈھی جیل کی کال کوٹھڑی میں بیٹھ کر بی بی سی کے اس مذاکرے سے میں نے ایک ہی نتیجہ نکالا کہ قوموں کی تحریک میں جمہوریت سب سے اہم چیز ہوتی ہے، جمہوریت کے بعد ہی کسی بھی ملک اور قوم کو دیگر کامیابیاں ملتی ہیں۔

نواز شریف صاحب کے بقول، بی بی سی پر اس مذاکرے کو سننے کے بعد میں نے اپنے آپ کو بہت شرمندہ محسوس کیا کہ ہم بھارتی حکمرانوں کی طرح بی بی سی پر بیٹھ کر پوری دنیا کے سامنے یہ دعویٰ نہیں کر سکتے جو ان چھ سابق بھارتی وزرائے اعظم نے کیا۔

نواز شریف صاحب ٹھیک کہتے ہیں، جس ملک میں آصف زرداری جیسے جمہوریت سے کھلواڑ کرنے والے سیاست دان موجود ہوں تب تک ہم یہ دعویٰ بالکل بھی نہیں کر سکتے جو بھارت کے چھ وزرائے اعظم نے بی بی سی پر بیٹھ کر کیا تھا۔ حقیقت یہی ہے یہاں اگر آمروں نے جمہوریت کا ستیاناس کیا ہے تو ہمارے یہ سیاست دان، جو خود کو جمہوریت کے چیمپئن کہتے ہوئے تھکتے نہیں، انہوں نے بھی جمہوریت کا بھرکس نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

پاکستان کے مقابلے میں پڑوسی ملک بھارت میں جمہوریت کتنی مضبوط اور اصلی شکل کی طرف گامزن ہے، اس کا اندازہ یہاں سے لگانا مشکل نہیں کہ مودی جی صاحب چائے بنانے والے سے بھارت جیسے ملک کے وزیر اعظم بن گئے اور دروپدی مرمو صاحبہ ایک معمولی کلرک سے ہوتی ہوئی بھارت کی 15ویں صدر بن گئیں۔

سوال ہمارا یہی ہے کہ پاکستان کی جمہوریت میں موروثیت کے ہوتے ہوئے کیا یہ سب ممکن ہو گا؟ یا ہمارے ہاں بس مفتی محمود سے مولانا اور مولانا سے اسعد محمود، بھٹو سے بے نظیر، بے نظیر سے زرداری اور زرداری سے بلاول، نواز شریف سے شہباز، شہباز سے حمزہ اور حمزہ سے مریم، ولی خان سے اسفندیار اور اسفندیار سے ایمل ولی، سجاد حسین قریشی سے شاہ محمود قریشی اور شاہ محمود سے زین قریشی تک کا یہ سفر یونہی جاری و ساری رہے گا؟

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آصف زرداری جیسے سیاست دانوں کے ہوتے ہوئے یہاں جمہوریت کیسے پنپ سکتی ہے؟ جب سرے عام عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کا سودا ہو گا تو پھر یہاں جمہوریت کی بنیاد کیسے مضبوط ہو گی؟ زرداری جیسے میچور سیاست دان اگر اکثریت کا لحاظ نہیں رکھیں گے تو پھر یہاں جمہوریت پنپنے کا خواب ایک خواب ہی رہے گا کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا، ایسے ماحول میں صرف آصف زرداری جیسے جمہوریت کے سوداگروں کی جیت ہو گی اور جمہوریت کی ہمیشہ شکست ہو گی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button