‘ساری رات اس ٹینشن میں گزاری کہ کہیں میرے ڈیٹا کا غلط استعمال نہ ہو’

ثمن خلیل

آفس سے چھٹی کے بعد میں نےسوچا کیوں نہ آج بی آر ٹی میں سفر کیا جائے اسی سوچ کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے اپنے قدم  قریبی بی آر ٹی سٹیشن کی جانب بڑھادئیے  تاہم  راستہ میں سوچا کیوں نہ کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے لوں ۔  چیزیں خریدنے کے بعد میں سٹیشن پہنچی اور چند منٹ انتظار کے بعد بس آپہنچی اور میں بس میں سوار ہوگئی۔

آج بھی حسب معمول بس میں کافی رش تھا  تو اس وجہ سے مجھے بھی دیگر خواتین کی طرح کھڑے ہوکر سفر کرنا تھا۔ بس میں میری پیچھے تین  بڑی عمر کی خواتین موجود تھی ، جونہی  بس روانہ ہوئی تو پیچھے سے کافی دھکم پھل شروع ہوئی اور ان خواتین کے دھکے رفتہ رفتہ تیز ہونے لگے  اس دوران مجھے خود کو سنبھالنے کے ساتھ خیال آیا کہ میرے بیگ میں پیسے  ہیں میں نے بیگ کو غور سے دیکھا تو وہ صحیح سلامت تھا  ۔

اسی سوچ میں گم کہ بی آر ٹی میں بہ عمر خواتین کے لئے اضافہ ہونا چاہیے تاکہ وہ بس میں آسانی سے سفر کرسکیں پیچھے سے ایک روزدار دھکا لگا اور میں گرتے گرتے بچ گئی اور اسی دوران پیچھے کھڑی  خواتین میں سے کسی نے بڑی مہارت کے ساتھ بیگ سے میرا موبائل نکل لیا تھا جو کہ اب تک مجھے پتہ نہیں تھا اور وہ خواتین  پچھلے سٹیشن میں  بس سے اتر گئی تھی۔

میں نے حسب معمول بیگ سے موبائل نکالنے کیلئے بیگ میں ہاتھ ڈالا لیکن بیگ سے موبائل نکال دیا گیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے میرے اوساں خطا ہوگئے۔ میں اپنے سٹیشن پر بس سے اتر گئی اور پریشانی کی حالات میں بیگ کی تلاشی لی لیکن بیگ میں سب کچھ موجود تھا سوائے موبائل کے۔ اسی دوران مجھے عجیب قسم کےحیالات آنے لگے اور دل میں خیال آیا کہ شائد میرا فون آفس میں رہ گیا ہوگا  میں نے خود کو تسلی دیتے ہوئے  دوبارہ آفس کا رخ کرلیا  اور لیکن افس آنے کے بعد میرا پکا یقین ہوگیا کہ میرا موبائل کسی نے چوری کرلی کیونکہ انہوں نے میرا نمبر بند کردیا تھا ۔

میں بہت پریشان تھی  لیکن آفس میں سب نے مجھ حوصلہ دیا  اور انہوں نے میری رہنمائی  کرنے کے بعد بی آر ٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور متعلق حکام کو چوری کی ورادت سے آگاہ کیا۔ میں اسی وقت  آفس سے نکل گئی شام کا وقت ہوچکا تھا  اور پولیس سٹیشن پہنچ گئی، وہاں پر ایف آئی درج کرکے پولیس نے مجھے موبائل مل جانے کی یقین دہانی کی لیکن میں پریشانی کے عالم میں گھر پہنچ گئی۔

ساری رات میں نے اس پریشانی میں گزاری کہ کہی خدانخوستہ  موبائل میں موجود میرے ڈیٹا کا غلط استعمال نہ ہو  کیونکہ موبائل میں میری تصاویر اور یونیورسٹی فرینڈز کے نمبرز محفوظ تھے۔اگلے دن میں صبح اٹھ کر جاز آفس پہنچ گئی  کافی انتظار کرنے بعد جب نمر آیا تو انہوں نے مجھے عدالت سے اسٹمپ پیپر لانے کو کہا جس پر مجھے شدید غصہ آیا کہ  اور میں واپس گھر کی طرف نکل پڑی۔

راستہ میں یہی سوچتی رہی کہ ایک موبائل فون چوری ہونے کی وجہ سے  رندگی کے کتنے کام متاثر ہوتے ہیں   اور اس کے ساتھ ذہنی اور جسمانی تکلیف بھی بندے کو  مزید پریشانی میں مبتلا کردیتا ہے  اور اگر آپ ایک لڑکی ہوں تو  ڈیٹا گم ہوجانے کی پریشانی الگ  آپ کے سر پر ہوگئی۔میں سب کو یہی بتانا چاہتی ہوں  کہ سفر کے دوران بہت احتیاط  کیا کریں  کیونکہ بعد میں آپ کو یہ مشکلات پیش آسکتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button