تعلیمی اداروں کی ایک بار پھر بندش، آخر حل کیا ہے؟

 

سٹیزن جرنلسٹ طارق عزیز

کرونا کا تیزی سے پھیلاو جاری ہے جس کی وجہ سے ایک بار پھر وفاقی حکومت نے تعلیمی اداروں کے بندش کا فیصلہ کرلیا۔ گزشتہ روز نیشنل کمانڈ اینڈ اپریشن سنٹر کے اجلاس کے بعد وزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مخصوص اضلاع میں تعلیمی ادارے 11 اپریل تک بند رہیں گے، اس سے پہلے بھی 15 مارچ سے 28 مارچ تک پنجاب کے 10 شہروں سمیت اسلام آباد،خیبرپختونخوا  اور ازاد کشمیر میں بہار کی چھٹیاں دی گئی تھی۔

اب نیشل کمانڈ اینڈ اپریشن سنٹر کے فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا کے 10 اضلاع میں کرونا صورتحال کے پیش نظر سکول بند رہیں گے جن میں پشاور،مردان،چارسدہ،صوابی،کوہاٹ، سوات،لوئر دیر،ملاکنڈ، بونیر اور نوشہرہ شامل ہے۔

جبکہ دوسری طرف حکومت نے تقریبات میں 300 سے زائد بندوں کے جمع ہونے پر پابندی لگادی ہے لیکن ایک کلاس میں ذیادہ سے ذیادہ چالیس طلباء ہوتے ہیں اسی معیار کو دیکھ کر سکولوں کی بندش کا فیصلہ سمجھ سے باہر ہے۔

سندھ حکومت نے سکولوں کو بند کرنے سے انکار کیا ہے اور 50 فیصد طلباء کو حاضری کی اجازت دے چکی ہیں، جب کہ بعض لوگ وفاقی حکومت کے اس فیصلے کو موجودہ  سیاسی منظر سے بھی جوڑ رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ حکومت سکول بند کرنے سے یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہیں اور یوں ایسے حالات میں جلسے جلوس اور ریلیوں وغیرہ کیلئے اجازت دینا بھی مناسب نہیں لیکن مثبت کیسز کے شرح کو دیکھ کر لگتا ہے کہ واقعی کرونا کے کیسز روز بروز بڑھ رہے ہیں اور رواں ہفتے روزانہ کی بنیاد پر تین ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ کرونا کب تک جاری رہے گا اور بچوں کا وقت ضائع ہونے سے بچانے کےلئے کیا کرنا چاہئے- دنیا میں جہاں پورا نظام ان لائن کیا جارہا ہے اور ذیادہ تر اداروں میں آن لائن تعلیمی سرگرمیاں جاری ہے ان حالات میں پاکستانی حکومت کو بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لئے اس کا حل نکالنا ہوگا۔

پوری دنیا کرونا کے دوران آن لائن ہوچکی ہے لیکن پاکستان میں ایسا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا۔ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے اور اسے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق بنانے کیلئے اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے اور طلباء بھی شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں. پاکستان میں حکومتوں کی ترجیحات میں بدقسمتی سے تعلیم بلکل شامل نہیں اور اس کا اندازہ تعلیم کے لئے بجٹ میں مخصوص پیسوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ جبکہ اس بار حالات اتنے ابتر ہوچکے ہیں کہ یونیورسٹی اساتذہ کو تنخواییں بھی نہیں دی جا سکی-

کرونا کی وجہ سے بچوں کا پورا سال ضائع ہورہا ہے اور اس کیلئے متبادل ڈھونڈنے کی بجائے ہم تعلیمی اداروں کی چھٹیاں کروانے کے علاوہ کچھ نہیں کررہے، طلباء اور ادارے تو شائد خوش ہے کہ انہیں چھٹیاں مل رہی ہے لیکن اس کے خطرات کا ادراک ہونا بھی ضرور ہیں کرونا اور اس جیسے دوسرے امراض و آفات سے تعلیمی سرگرمیوں کو بچانے کا واحد زریعہ یہی ہے کہ تعلیمی اداروں کو آن لائن تربیت اور سہولیات دی جائے۔ اکثر ہائیر سیکنڈری سکولوں میں آئی ٹی لیب اور ایک استاد بھی موجود ہے جس سے سکول کی طرف سے کلاسز لینے کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے لیکن تمام طلباء کے ساتھ سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ/ٹیبلٹ موجود نہیں جس کی وجہ سے ان لائن کلاسز کا تجربہ بھی کارامد نہیں ہوگا۔

گزشتہ حکومت نے لیپ ٹاپ سکیم کا آغاز کیا تھا لیکن بدقسمتی سے وہ منصوبہ بھی کرپشن الزامات کی زد میں رہا اور  جیسا کہ پاکستان میں روائت رہی ہے کہ سابقہ حکومت کے منصوبے ختم کرناضروری یے تاکہ انہیں سیاسی فائدہ نہ پہنچ سکے اسلئے اس منصوبے کو بھی ختم کیا گیا۔

ایک  ایسا سکیم شروع کرنا ضروری ہے کہ طلباء کو لیپ ٹاپ یا ٹیبلیٹ مل جائے تاکہ ان کی سرگرمیاں ائندہ کسی وباء یا دیگر وجوہات کے باعث متاثر نہ ہو۔ تعلیم کسی بھی قوم کے مستقبل کو سنوارنے کا واحد زریعہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں اپنی پہلی ترجیح تعلیم و تربیت کو دیتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button