‘جیسے ہی شاہی میں داخل ہوئے تو ایسا لگا جیسے جنت کا ٹکڑا زمین پر آگیا ہو’

 

ذیشان کاکاخیل

زندگی کی خوبصورتی دوستوں میں ہے اور اگر دوست بھائیوں جیسے ہو تو پھر تو بات ہی کچھ اور یوجاتی ہے، کئی بارقدرتی حسن سے مالا مال خیبر پختونخوا کے شمالی علاقے دیر میں واقع حسین وادیاں اور درے دیکھنے کے لئے ایک دوست کے ہاں جانے کا پلان بناتا رہا مگر کئی ایک مسائل اڑے آتے رہے اور پلان چکناہ چور ہوجاتا۔ اس بار پکاہ ارادہ کیا کہ جس حال میں بھی ہو دیر کی چھپی اور سیاحوں کی نظروں سے اوجھل خوبصورتی سے ہر حال میں محظوظ ہوں گا،ہوا کچھ یوں کہ دفاتر کے کئی دوست بیمار پڑ گئے جس کی وجہ سے دوستوں کے ذمے کے کام کا بوجھ  بھی اٹھانا پڑا 2 ماہ تک بغیر چھٹی کے ڈیوٹی دی اب وقت آگیا تھا کہ جسم اوردماغ کو نہ صرف آرام دیا جائے بلکہ آرام کے ساتھ ساتھ سکون بھی کیونکہ اب جسم کا ہر حصہ فریاد کرنے لگا تھا اور یہ ایک بہترین وقت تھا کہ قدرتی نظاروں،پرسکون ماحول،دیسی کھانوں سے اپنی تھکاوٹ دور کی جائے۔

تھکاوٹ شاید کام کی وجہ سے نہیں بلکہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے تھا،ہر جگہ اعداد و شمار گنتی کی جارہی تھی ،دفتر،گھر ،بازار اخبار،ٹی وی اور ریڈیو پر صرف ایک ہی خبر دیکھنے اور سننے کو ملتی،روز بروز کورونا کا ٹینشن بڑھتا جارہا تھا،ایسے میں ایک عزیز دوست کی کال آئی اور اس ماحول سے دور جانے کا مشورہ دیا،اور ان کی یہ بات مجھے ایسی لگی جیسے پیاسے کوشدید گرمی میں ٹھنڈا پانی پھیلا کر ان کی پیاس بوجھا دی جائے،جمعرات کا دن تھا کہ میں اور میرا دوست اپر دیر کی جنت نظیر وادیوں گھنے جنگلات اور بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان بہتی ندیوں، جنگل میں چھائی خاموشی کو تھوڑنے والی پرندوں کی سریلی آوازوں کو سننے کے لئے پشاور سے تقریبا صبح  9 بجے  روانہ ہوئے ،پشاور میں سورج آگ برسا رہا تھا  اور گرمی کی شدت برداشت سے باہر تھی مگر ہم جیسے ہی ملاکنڈ  میں داخل ہوئے تو موسم میں تبدیلی محسوس ہونے لگی، 3 بجے دیر پہنچے وہاں پر ایک دوسرا دوست گاڑی میں ہمارا انتظار کر رہا تھا،اب ہم تین دوست ہوگئے ،لیکن اب بھی ایک اور دوست کی کمی تھی جن کو ساتھ لیے بغیر ہمارا گروپ نامکمل تھا،اب اس دوست کو لینے ہم اپر دیر روانہ ہوگئے،اپر دیر پہنچ کر اس دوست کو بھی ساتھ لے لیا ،اور اپنا آگے کا سفر شروع کرنا چاہا مگر  کئی گھنٹے سفر طے کرنے کے بعد توڑا  آرام اور کھانا کھانے کا موڈ ہورہا تھا ، اس لئے وہاں پر فروخت ہونے والی مشہور کھاڑی گوشت کا مزہ لینے وہاں ایک مشہور دکان گئے اور  گپ شپ ہوئی،اب یہ تو معلوم تھا کہ ہمیں دیر دیکھنا ہے مگر یہ نہیں پتہ تھا کہ  کہا جانا ہے اورجانے کا مناسب وقت  کونسا ہوگا،اس لئے آج رات آرام کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے صبح تک مشورہ کرنے اور فریش ہونے پر چاروں دوستوں نے اکتفا کیا۔

ایک دوست جو ہمارا صبح سے انتظار میں بیٹھا تھا ،جن کا نام فرمان ہے،فرمان کے گھر روخان چلے گئے  اور  وہاں تھوڑا فریش ہوئے اور ان کے گھر سے آگے 3 گھنٹے کے فاصلے پر واقع ڈوھڈبا روانہ ہوئے،ڈوھڈ با پہنچ کر وہاں کے موسم ،دلفریب نظاروں،محسور کن ہواوں نےسفر کی تھکاوٹ اور سٹرک کی خرابی بھلا دی، ہر طرف  قدرت کی بھکری ہوئی حسن کو دیکھ کر سکون محسوس  کرنے لگے،ایسا سبزا، برف کے سفید چادر اوڑے بلند پہاڑ،نیلے آسمان کی خوبصورت نظارے دیکھنے کو مل رہے تھے جسے دیکھ کر انسان دنگ  ہو کررہ جاتا ہے ، اور اس کے بنانے والے کی کبریائی بیان کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے،ہم چار دوست اس میں ایک وہ دوست بھی شامل ہے جو پشاور سے ہی میرے ساتھ تھا ،وہ ،اور دیر میں ملنے والے 2 دوستوں نے  سطح سمندر سے کافی اونچائی پر واقع خوبصورت گراونڈ میں تربوز کھا کر اپنی پانی کالیول بڑھایا ،اور اس نظاروں کو تاحیات محفوظ کرنے کے  لئے خوب تصاویر بنا کر اس یاد گار جگہ کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیا ،سکون سے بھرے ماحول کو دیکھتے ہی دل میں ایک خواہش پیدا ہوئی کہ اگر انسان سکون چاہتا ہے تو ان کا یہاں پر ایک گھر لازمی ہونا چاہئے کیونکہ ایسا سکون جس میں مختلف پرندوں کی آوازیں ،سادہ خوراک ،لباس، سادہ طرز زندگی گزارنے والے لوگ شایداس جگہ کے علاوہ کئی نہیں ملے گے۔

نا چاہتے ہوئے بھی وہاں سے واپسی ہوئی ،اب کافی رات ہو چکی تھی دوست کے گھر پہنچے تو رات کے کھانے کا ایسا اہتمام کیا گیا تھا جس میں 10 سے زیادہ ڈشزشامل تھے جس کو دیکھتے ہی میراجی بھر گیا،مگر دوستوں کی خلوص اور اسرار پر صرف چاول اور اس کے ساتھ آلو کے بہترین قسم کے مزیدار چپس کھانے کوترجیح دی ،پشتون  قوم کی ایک  روایت ہے کہ وہ مہمانوں کا بہتر سے بہترین مہمان داری کرنے کو اپنی عزت اور اللہ کی رضا سمجھتے ہیں اس لئے اس دوست نے بھی ایسا انتظام کیا تھا جیسا کہ ہم تین نہیں 30 لوگ ان کے مہمان بنے ہیں۔

کھانے کی دسترخوان پر زیادہ تر چیزیں روایتی تھی اس لئے یہ احساس ہوا کہ آج بھی پرانی روایات زندہ ہے جونہایت  سادہ ،مصنوعیت سے پاک اور خالص ہوتی ہے بار بار منع کرنے کے بعد بھی یہی آواز سنے کو ملتی رہی کہ کھاؤ بھی آپ نے تو کچھ نہیں کھایا ، جس طرح شاندار طریقے سے ویلکم کیا گیا ویسے ہی برسوں سے چاروں ساتھ کھیلنے والے گیم لڈو میں ہمیں بری طرح ہرا کر جو شرمندگی اور بے عزتی ملی وہ عمر بھر بھولنے کے قابل نہیں ،ہم زیادہ تر 2 گروپ بن کر لڈو کھیلتے ہیں ،لیکن ہمارا یہ کھیل اتنا سنسی خیز ہوتا ہے جیسا کہ پاک بھارت کا کرکٹ میچ ،جو بھی ہارتا ہے ان کو اگلے جیت تک شرمندگی کا نا ختم ہونے والا سلسلہ برداشت کرنا پڑتا ہے اس لئے اب یہ بے عزتی  اگلے گیم اور جیت تک ہمیں ہر حال میں بھگتنی ہوگی۔

صبح ہوئی جگانے کی آوازے شروع ہوئی ،بے حد تھکاوٹ کی وجہ سے اٹھا نہیں جارہا تھا لیکن جیسے ہی سنا کہ کیا آپ نے سیاحت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ  وادی دیر میں واقع ، ایسے درے اور وادیاں نہیں دیکھنی جو آج بھی سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہیں،تو ان پرفضاء  مقامات کا سن کر نیند اڑگئی،اور فورا تیار ہوکر بہترین دیسی ناشتہ کرنے کے بعد سفر شروع کیا،یہ سفر ایک ایسی وادی کا ہے جسے  لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں، شمالی علاقہ جات میں ایسی خوبصورت وادی کا میں تصور ہی نہیں کرسکتا تھا،4 گھنٹوں کے مسلسل سفر کے بعد جیسے ہی شاہی میں داخل ہوئے تو ایسا لگا جیسے جنت کا ٹکڑا  زمین پر آگیا ہوں،اور وہ ٹکڑا تو یہ ہے جوں جوں ہم شاہی میں داخل ہوتے گئے اس کی وادی کی خوبصورتی ہمیں اپنی آسیر میں جکڑتی گئی،جیسے ہی شاہی پہنچے ٹھنڈی ہواؤں نےایسا استقبال کیا کہ دل کو پرسکون اور طبیعت کو خوشگوار بنا دیا ،اس وادی کا ہر مقام دیدنی تھا مگر وقت کی کمی کے باعث ہم نے یہاں پر واقع ایک سرکاری ریسٹ ہاوس دیکھا،جس  کو 1996 میں تعمیر کیا گیا تھا،اس کے علاوہ نیلے رنگ کے پہاڑوں  اور درختوں کے درمیان واقع گراونڈ  میں کچھ لمحے لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کا مزہ لیا،شاہی میں مشکل سے ایک ہزار لوگ آباد ہوں گے کیونکہ جہاں تک ہماری نظر جاسکتی تھی ہم نے بمشکل ہی 50 گھر دیکھے ،جمعہ کا دن تھا، اور نماز کا وقت تھا،نماز جمعہ کی سعادت لکڑیوں  سے بنے ایک خوبصورت مسجد میں حاصل ہوئی نماز سے فارغ ہوتے ہی وہاں کے ایک رہائشی سے ملاقات ہوئی اور خواہش ظاہر کی ساگ اور جو کے روٹی کی،اللہ بلا کرے اس نیک اور شفیق انسان کا جن کا نام تھا ثناء اللہ ہے جو جلدی سے گھر چلے گئے اور ہمارے لئے لسی اور روٹی لاکر بہت خلوص  ور محبت سے  پیش کی،اس لسی اور  روٹی کا جو ذائقہ تھا وہ ابھی تک ہمارے منہ میں موجود ہے۔

ہم وہاں بہتے چشموں میں بیٹھ کر وقت گزارنے لگے اور اللہ کی بنائی گئی خوبصورت وادی سے لطف اندوز ہونے لگے ،آلودگی سے پاک اور صاف ماحول،شیشے جیسا صاف و شفاف پانی،پرندوں کی آوازیں،کھیتوں میں چرنے والی بکریوں اور گائیں،تیز ہوا سے ہلنے والی درخت کے پتوں کی آوازیں،لکڑیوں سے بنے سادہ گھر ،لوگوں کے سادہ لباس اوربے تکلف زندگی گزارنے کے طرز طریقے نے میری آنکھیں کھول دی،ایسا لگا جیسے مجھے محبت ہوگئی ہے اس علاقہ کی سادگی سے یہاں کے ماحول سے ۔شاہی کا نام ہی صرف شاہی نہیں تھا بلکہ وہاں رہنے والے لوگ اور وہاں کا ماحول بھی شاہی اور شاہانہ تھا،شاہی سے 2 گھنٹے کے فاصلے پر بن شاہی کا مقام  تھا جہاں ہم نے جانے کا ارادہ کیا ،اوروہاں  روانہ بھی ہوئے جیسے ہی چیک پوسٹ پر  پہنچےتومعلوم ہو ا کہ بن شاہی پر پاک افغان بوڈر واقع ہونے کی وجہ سے ،اور حالات کی نزاکت کی وجہ سے وہاں جانے کی اجازت نہیں۔اس لئے واپس ہوکر دوبارہ شاہی آنے کو غنیمت سمجھی،وقت ضائع ہونے سے بچانے کے لئے دوپہر کا کھانا کسی کے گھر یا ہوٹل میں کھانے کے بجائے گاڑی ہی میں کھانے کو ترجیح دی اور کباب ،پکوڑے اور دوسری چیزیں لیکر مزید کئی گھنٹے دور ایک اورخوبصورت مقام  عشیری درہ اپنا سفر شروع کیا،اس درے میں واقع ایک بہترین سیاحتی مقام کا سن رکھا تھا،جس کا نام  لم چڑھ تھا،عشیری درہ  روانہ ہوتے ہی ہر طرف پہاڑ ،بہتی پانی کا شور سننےاور دیکھنے کو ملاتا رہا،سفر کے دوران اگر ہم سفر ہمارے جیسے ہو تو شاید ہی کوئی بور ہو یا تھکاوٹ کا احساس ہو،کبھی ایک دوست کا قصہ کھبی دوسرےکا قصہ، ہمیں بھی ایک دو قصے یاد تھے ،جسے سنا کر دوستوں کا دل بہلانے میں اپنا حصہ ڈالا،  پہاڑوں کے درمیان واقع درہ لم چڑھ میں بہتی ندیاں ،ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں  اور  گھنے درخت  اس  مقام کی خوبصورتی کو مزید بڑھا رہی تھی۔

راستے میں گفتگو شمالی علاقہ جات میں واقع خوبصورت مقام سے متعلق شروع ہوئی، سب نے اپنی اپنی رائے قائم کی، ایک دوست نے کہا کہ  شمالی علاقہ جات قدرتی حسن سے مالا مال  ہے،یہاں  ایک سے بڑھ کر ایک علاقہ سیاحوں کو ملک بھر سے کھینچ لاتی ہے ان علاقوں میں اپر دیر کا علاقہ عشیری درہ میں واقع لم چڑ ھ بھی ہے،لم چڑھ  اپر دیر سے صرف  3 گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے لیکن  یہاں کی خراب سٹرک  اور مناسب ٹرانسپورٹ نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے،اس کے ساتھ ساتھ لم چڑھ  میں سیاحوں کے لئے نہ تو کوئی ہوٹل موجود ہے اور نہ ہی کوئی اور سہولت ، یہ مقام شاہی سے اس طرح مختلف تھا کہ  یہاں پر فلک  پوش پہاڑ ،بہتی ندیاں ،گھنے جنگل  نے خوبصورتی میں بے تاشا اضافہ کیا تھا ،یہاں پر مقامی لوگوں نے بتایا کہ مقامی سیاحوں کے علاوہ یہاں پر نہ تو ملکی اور نہ ہی غیر ملکی سیاح آتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ خراب سٹرکیں، سہولیات کی عدم فراہمی اور سیاحوں میں اس خوبصورت مقام کی آگاہی نہ ہونا ہے۔

لم چڑ ھ میں صاف اور شفاف پانی کے  بہتےآبشار  اور اس سے پیدا ہونے والا شور جس نے ایک بار سنا وہ بار بار یہاں جانے پر مجبور ہوجاتا ہے ،اس آبشار کا حسن اس وجہ سے بھی کافی زیادہ ہے کہ آپ بغیر کسی ڈر اور خوب کے اس آبشار کے نہایت قریب جاکر  اس میں تصاویر ،ویڈیو بنا سکتے ہیں ،اور اس سے پیدا  ہونے والی نمی بھی محسوس کرسکتے ہیں،اب دس منٹ ہی بمشکل گزارے تھے کہ ٹھنڈک محسوس ہونا شروع ہوئی اور چند لمحہ بعد شدید سردی کے باعث وہاں سے مجبورا جانا پڑا۔ رات گئے تک جسم  منجمد سا رہا اور جسم  میں حرارت پیدا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا،جسم کی گرمی بڑھانے کے لئے اور رات گزارنے کے لئے ایک دوسرے دوست سے رابطہ کیا ،اب بہت دیر ہوچکی تھی لہذا اب واپس جانا مشکل تھا اس لئے رات ان کے ساتھ گزارنے پر سب دوستوں نے رضا مندی کا اظہار کیا اور ان کے گھر چلے گئے،اقرار اس دوست کا نام تھا جو نہایت ہی مہمان نواز اور شفقت کرنے والے تھے،انہوں نے ریسیو کیا اور ہماری تواضع چاول دیسی گھی ،خالص گندم سے  تیار ہونے والے روٹی سے کیا۔ مختلف موضوعات پر رات گئے تک بات چیت کی گئی اور آخر میں نرم اور گرم بستر دے کر آرام فرمانے کا کہہ کر ہم آرام فرمانے لگے۔میری دعا ہے کہ میرے سب سے پیارے دوست،عزیر،فرمان اور طارق ہمیشہ سلامت اور آباد رہے،آمین۔ یہ میرا ایک یادگار سفرتھا جو مجھے عمربھریاد رہے گا اور ہاں آپ دیر جانا مت بھولیے گا۔

 

Show More
Back to top button