تعلیم

سیکنڈ شفٹ پروگرام میں پڑھانے والے اساتذہ گزشتہ 4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم

آفتاب مہمند

خیبر پختونخوا کے سکولوں میں سیکنڈ شفٹ پروگرام میں پڑھانے والے اساتذہ ودیگر ملازمین گزشتہ 4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ سیکنڈ شفٹ پروگرام تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث متاثر ہونے یا بند ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کو فنڈز جاری ہونے کے باوجود بھی سیکنڈ شفٹ پروگرام کے 8 ہزار اساتذہ و ملازمین گزشتہ 4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں جسکے باعث تمام ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے بعض اساتذہ و دوسرے ملازمین نے ڈبل شفٹ پروگرام میں کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔

محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق تنخواہوں کے لئے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی ای اوز کو 3 کروڑ 33 لاکھ روپے جاری کئے ہیں۔ ایسے میں ملازمین کو تنخواہیں نہ ملنا حیران کن ہے۔ اس حوالے سے ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ تعلیم عبدالکریم کا کہنا ہے کہ سیکنڈ شفٹ پروگرام پورے صوبے میں بہترین طریقے سے چل رہا ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں کے لئے درکار فنڈز جاری کئے گئے ہیں جو جلد مل جائیں گے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور ڈی ای اوز کو جلد از جلد تنخواہیں ریلیز کرنے کیلئے کہا گیا ہے تا کہ ملازمین کو تنخواہیں ملے وہ اپنے فرائض بہتر طریقے سے انجام دیتے رہیں۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے سکولوں میں سیکنڈ شفٹ پروگرام ستمبر 2021 میں شروع کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے سیکنڈ شفٹ پروگرام کو صوبہ بھر میں تعلیمی شرح کو بڑھانے، دور دراز علاقوں میں طلبہ کی تعلیم پر توجہ دینے یعنی ڈراپ آوٹ کے تناسب کو کم کرنے، تعلیم سے دور بچوں کو تعلیم کیساتھ قریب لانے، شفٹوں کو تقسیم کرکے زیادہ بھیڑ والے سکولوں کو متوازن کرنے اور زیادہ سے زیادہ بچوں و بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے شروع کیا تھا۔

پروگرام کے تحت پرائمری سکولز کو مڈل سکولز، مڈل سکولز کو ہائی سکولز اور ہائی سکولز کو شام کی شفٹ میں ہائیر سیکنڈری سکولز میں اپ گریڈ کرنا تھا۔ سیکنڈ شفٹ سسٹم میں ابتدائی طور پر صوبے کے 16 اضلاع میں 70 سے زائد لڑکوں اور 40 سے زائد لڑکیوں کے سکولز کو شامل کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں اسکا دائرہ کار بڑھا دیا گیا اور اب صوبے کے 25 سے زائد بشمول قبائلی اضلاع میں سیکنڈ شفٹ پروگرام کے تحت بچوں و بچیوں کو تعلیم دی جارہی ہے۔

اسی حوالے سے سکولز آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر سمیع اللہ خلیل، سنئیر نائب صدر سالار اسلام طارق اور جنرل سیکرٹری محمد زمان نے ٹی این این کو بتایا کہ صوبہ بھر میں سب سے پہلے اس پروگرام کا آغاز حیات آباد کے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سے کیا گیا تھا لیکن ایک سال بعد ہی اساتذہ و دیگر ملازمین کو تنخواہیں نہ ملنے کے باعث وہاں یہ پروگرام بند ہوا۔ شروع میں ریگولر اساتذہ ہی کے ذریعے سیکنڈ شفٹ میں بھی بچوں کو پڑھایا جاتا تھا تاہم بعد ازاں صوبہ بھر میں اسی پروگرام کے تحت ہزاروں اساتذہ کو کنٹریکٹ کے بنیاد پر بھرتی کیا گیا۔

گوکہ یہ ملازمین نہ مستقل ہیں اور نہ ایسا کوئی امکان ہے کہ مستقبل میں بھی انکو ریگولرایزڈ کیا جائے گا جیسا کہ مستقل نوکریوں کیلئے اپنی ہی ایک پالیسی ہوتی ہے۔ سیکنڈ شفٹ میں پڑھانے والے اساتذہ کی ماہانہ تنخواہیں محض 25 ہزار سے 30 ہزار روپے تک ہیں اگر یہ بھی نہیں ملتی تو اساتذہ و دیگر ملازمین کیساتھ یہ سراسر ناانصافی ہوگی۔

انہوں نے ٹی این این کو بتایا کہ ہونا چاہئیے تھا کہ مزکورہ پروگرام شروع کرنے سے قبل ایک جامع پالیسی بنائی جاتی تو شائد آج ایسا نہ ہوتا۔ اگر کراچی کا مثال لی جائے تو وہاں اس جیسا پروگرام کامیابی کیساتھ چل رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں والدین بچوں کو سیکنڈ شفٹ پروگرام میں پڑھانے میں خاص دلچسپی نہیں لیتے انکا نہیں خیال کہ اس پروگرام کے تحت تعلیم کی شرح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہو۔

انکا مزید کہنا تھا کہ سیکنڈ شفٹ پروگرام متاثر ہونے یا ختم ہونے سے شرح خواندگی بری طرح کم ہو جائے گی۔ سیکنڈ شفٹ پروگرام بند ہوا تو 50 ہزار سے طلبہ پر تعلیم کے دروزے بند ہو جائیں گے اسی طرح کئی کئی اساتذہ گو کہ وہ کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں اور تنخواہیں بھی کم ہیں بے روز گار ہو جائیں گے لہذا ہونا چاہئیے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر تنخواہیں ریلیز کرکے آئندہ کیلئے بھی اس پروگرام کو جاری رکھنے کیلئے ایک جامعہ پالیسی بنائی جائے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button