عوام کی آواز

افغانستان میں نیٹو فورسز کو تیل کی سپلائی کرتے ہوئے ارشاد اپنی دونوں آنکھوں سے محروم ہو گیا

محراب آفریدی

 

نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ نے اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان پر حملہ کیا اور یہ جنگ 20 سالوں تک جاری رہی جو چند ہفتے قبل اپنے اختتام کو پہنچا تاہم اس جنگ میں کئی افراد یا تو جان کی بازی ہارگئے یا پھر جانی یا مالی نقصان سے دوچار ہوئے۔
ضلع خیبر لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والا ارشاد خان بھی انہیں افراد میں شامل ہیں۔ وہ اس وقت دونوں آنکھوں سے محروم ہوگیا جس وقت وہ افغانستان میں نیٹو فورس کو تیل سپلائی کر رہا تھا۔ ارشاد خان کے مطابق جب وہ طورخم کراس کر کے باغونوں کے مقام جو جلال آباد کے قریب ہے اس وقت ان پر طالبان نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی ان کی یہ خوش قسمتی تھی کہ اس دوارن ان کی جان بچ گئی لیکن بد قسمتی سے اس واقعے میں وہ دونوں آنکھوں سے  محروم ہوگیا۔

ارشاد کے مطابق جب ان پر فائرنگ ہوئی تو سوچ رہا تھا کہ شاید یہ ان کا آخری دن ہے، ارشاد خان کے مطابق ان کی گاڑی کا فرنٹ شیشہ ٹوٹ گیا جس کے شیشے ڈائریکٹ ان کے دونوں آنکھوں پر جالگے جس کی وجہ سے موقع پر ان کے دونوں آنکھیں ضائع ہوگئی۔

ارشاد خان کا کہنا ہے کہ اس دوران ان کو طبی امداد کے لئے قریبی ہسپتال جلال آباد پہنچا دیا گیا لیکن وہاں پر علاج کی سہولت اچھی نہیں تھی بعد میں انکو پشاور منتقل کردیا گیا اس دوران علاج کے سارے اخراجات انہوں نے خود برداشت کئے جو جمع پونجی تھی وہ علاج پر خرچ ہوگئی۔
ارشاد خان نے کہا کہ 9/11 کے بعد اس خطے میں جو کچھ ہوا اس سے پوری دنیا باخبر ہے لیکن مفادات کی عینکیں پہننے والوں نے نیٹو سپلائی کے دوران درہ خیبر کے ان لوگوں کو بھلا دیا جو یا تو اپاہج ہوئے یا انکی آنکھیں ضائع ہو گئیں یا پھر انکی جانیں چلی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی کے دوران کمپنیوں کے مالکان کو مال اور گاڑیوں کے پورے معاوضے تو ملے لیکن جو غریب اور مجبور ڈرائیورز اور کنڈکٹرز نیٹو سپلائی کے دوران قتل یا زخمی کئے گئے ان کی مدد کسی نے نہیں کی۔ ارشاد خان نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے نکل گیا لیکن اس جنگ کے متاثرین ہزاروں کی تعداد میں مشکلات سے بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اس لئے ان متاثرین کی مالی مدد کی جائے ورنہ وہ نیٹو سپلائی کے تمام متاثرین کو جمع کرکے امریکی سفارت خانے کے سامنے اسلام آباد میں احتجاج کرینگے۔

نیٹو سپلائی کے دوران خیبر کے سینکڑوں افراد یا تو درہ خیبر پر، یا پھر افغانستان اور یا پھر پاکستان کے دیگر علاقوں میں نشانہ بنا دیئے گئے کوئی آنکھوں سے معذور ہوا تو کسی کی ٹانگیں ضائع ہوئی اور کسی کے جگر گوشے قتل کر دیئے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ گاڑی اور مال کی انشورنس کمپنیوں کے مالکان کو وقت پر مل رہی تھی لیکن جس کی جان چلی گئی ان کو کچھ نہیں ملا انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی امریکہ، نیٹو اور حکومت پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ جو لوگ نیٹو سپلائی کے دوران زندگی کی بازی ہار گئے ان متاثرہ خاندانوں کی بھرپور مالی مدد کی جائے تاکہ وہ مجبور خاندان مزید کسی کے محتاج نہ رہے.

گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ میں کیا ہوا تھا؟

امریکہ میں سانحہ نائن الیون کو آج 20 برس بیت گئے۔ 11 ستمبر 2001 کو 19 دہشت گردوں نے 4 کمرشل طیاروں کو اغوا کیا۔ صبح 8 بجکر 46 منٹ پر دہشت گردوں نے پہلا طیارہ نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں موجود ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت سے ٹکرایا۔ ٹھیک 17 منٹ بعد ایک اور طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جنوبی ٹاور سے ٹکرا گیا اور 9 بجکر 37 منٹ پر دہشت گردوں نے پینٹاگون کی عمارت پر طیارہ گرایا۔

دہشت گرد چوتھے طیارے سے مطلوبہ ہدف کو نشانہ نہ بنا سکے اور طیارہ پینسلوانیہ میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں 2 ہزار 750، پینٹاگون میں 184 اور پنسلوانیہ میں 40 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ تمام 19 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button