تعلیمکالم

استاد: بادشاہ بننا مشکل تو بادشاہ بنانا کس قدر مشکل ہو گا!

ارم رحمٰن

کسی بھی قوم کے اصل معمار اساتذہ اکرام ہوتے ہیں؛ مربی، رہنمائی کرنے والے، مؐزکی، کسی بھی انسان کو درست اور غلط کی پہچان کروانے والے اور معلم، علم دینے والے!

علم کی اہمیت مہد سے لحد تک ہے؛ ماں کی گود بہترین درسگاہ اور اس کے بعد والدین اپنا لخت جگر اساتذہ اکرام کے حوالے اس آس اور امید پر کرتے ہیں کہ وہ ان کے معصوم ذہنوں کو علم کی روشنی سے منور کر کے ان کو صراط مستقیم پر چلنے کے قابل بنا دیں گے، ان کی اولاد تعلیم حاصل کر کے ملک اور قوم کی ترقی میں فعال کام سرانجام دے سکے گی۔

اور تاریخ گواہ ہے؛

با ادب با مراد
بے ادب بے مراد

یہ حقیقت ہے اساتذہ کا احترام کرنے والے اور ان کے سکھائے سبق پر عمل کرنے والے دنیا اور آخرت کا سفر روشن کر جاتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے سے بدعنوانیاں اور بے راہروی ختم کرنے اور باشعور قوم بنانے میں استاد ہی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے “جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ میرا استاد ہوا۔”

سکندر اعظم کا شاندار قول استاد کی عظمت کی وضاحت اس طرح کرتا ہے کہ “میں زندہ رہنے کے لیے والدین کا مقروض ہوں لیکن بہترین زندگی گزارنے کے لیے استاد کا مقروض ہوں۔”

استاد صرف دنیاوی تعلیم ہی سے روشناس نہیں کرواتے بلکہ دینی، روحانی اور ذہنی بالیدگی بھی ان کی ہی مرہون منت ہے۔ عظیم انسانوں کی زندگی کا جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ عظیم استادوں کے زانوئے تلمذ طے کرنے والے ہی انسانیت کی معراج کو پہنچتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں آج کل استاد کا رتبہ اور درجہ بالکل گر چکا ہے، ان کی قدر و منزلت ختم ہونے کے ہی مترادف ہے۔
تعلیم کا معیار گرنے کی سب سے بڑی وجہ نظام تعلیم کے خراب ہونے سے زیادہ استاد کی اہمیت سے انحراف ہے، جس شخص کا تعلیمی ریکارڈ اچھا نہیں وہ قابل قدر پیشے ڈاکٹر، انجینیر، آرمی میں نہیں جا سکا وہ دل برداشتہ ہو کر کسی سکول کالج میں استاد بھرتی ہو جاتا ہے اور اس کی اس شعبے میں عدم دلچسپی چڑاچڑاہٹ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو درست اصول و قواعد سے پڑھانے سے دور رکھتی ہے۔

تعلیمی نظام تباہ ہونے میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ استاد کی ماہانہ آمدنی اس قدر کم ہوتی ہے کہ کوئی بھی اس شعبے میں آنا نہیں چاہتا۔

معلم ہونا اتنا بڑا رتبہ ہے لیکن اب معلم ہونا تضحیک آمیز لگتا ہے؛ پرائیویٹ سکولز کی اکثریت اساتذہ اکرام کو بہت کم تنخواہ دیتی ہے جبکہ کام بہت زیادہ لیا جاتا ہے اور غیرضروری نصابی سرگرمیوں میں اتنا زیادہ تھکا دیا جاتا ہے کہ ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

یہ شعبہ تو سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے؛ دنیا کا بڑے سے بڑا، عظیم شخص کسی درسگاہ سے پڑھ کر نکلتا ہے، اس کی شخصیت کو نکھارنے میں نہ جانے کتنے اساتذہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں استاد ہونا بہت اعزاز کی بات ہے۔ یہ ایسا عہدہ اور ایسا رتبہ ہے کہ معلم کو انبیاء اکرام کا وارث قرار دیا گیا ہے۔

نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے خود فرمایا کہ مجھے “معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔” اور اس حدیث کے بعد استاد کی عظمت و رفعت کی وضاحت کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟

لیکن ہمارے ملک میں تعلیم بھی ایک مافیا کے ہاتھ لگ چکی ہے جہاں نئے سکول انگلش میڈیم کا ٹھپہ لگا کر گلی گلی میں کھولے جا رہے ہیں۔ اور یہ سب پیسہ کمانے کے ہتھکنڈے ہیں۔ ایجوکیشن مافیا کو معصوم بچوں کی کردار سازی کی قطعاً پرواہ نہیں، ان کا کام مختلف طریقوں سے والدین کی جیبیں خالی کروا کر اپنے اکاؤنٹ بھرنا ہوتا ہے۔ سادہ لوح عوام ان گلی محلوں میں بکھرے سکولز کے جال میں پھنسنے پر مجبور ہے۔

اردو میڈیم اور انگلش میڈیم کے درمیان تعلیم کا اس قدر فرق ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی اولاد کو سرکاری سکولوں میں داخل کرنا نہیں چاہتا، وہاں صرف وہ بچے داخل ہوتے ہیں جنکے والدین کی مالی حیثیت اتنی نہیں ہوتی کہ وہ انگلش میڈیم، پرائیویٹ سکول میں بچوں کو داخل کروا سکیں۔

تعلیمی معیار گرنے کی بڑی وجہ یہ فرق بھی ہے کہ سرکاری سکولوں میں استاد بننے کے لیے ایک میرٹ رکھا گیا، خاص قسم کا ٹیسٹ جس میں ہر شخص کامیاب نہیں ہوتا، نشستیں محدود ہیں اور آبادی بہت زیادہ اسی بات کا فائدہ یہ تعلیمی گینگ اٹھاتی ہے کہ اگر کوئی قابل ہے تو سرکاری استاد بنے یہاں پرائیویٹ سکول میں کیوں آتا ہے؟ اور وہاں صرف ان لوگوں کا راج ہے جو بھاری رشوت دے کر سکولز کی فرنچائز خرید لیتے ہیں اور پھر بچوں کی فیس ہو یا استاد کی تنخواہ، ہر جگہ ان کی من مانی ہی چلتی ہے۔ اور کوئی ان کی نگرانی کرنے والا نہیں ہوتا۔

ایک بڑی تعداد ممتحن کو بھی خریدنے کی کوشش کرتی ہے اور امتحانی مراکز میں نقل کرنے کا رواج بھی عام ہے۔ اور اس میں بھی استادوں کا اہم کردار ہے۔ اتنے مقدس شعبے میں کالی بھیڑیں راج کر رہی ہیں۔ کسی بھی ملک کی جڑیں کھوکھلی تب ہی ہوتی ہیں جب وہاں کے معمار بددیانت ہوں۔ ان میں نئی نسل کو باکردار اور بااخلاق بنانے کا ہنر سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا، جن کا کام صرف پیسہ کمانا ہوتا ہے۔

اگر استاد کی اہمیت کا درست اندازہ ہو جائے تو سب سے زیادہ عزت و اکرام، نوازش و انعام صرف استاد کو ہی حاصل ہو۔ اچھے اساتذہ کو حوصلہ افزائی کے سرٹیفکیٹ اور شیلڈز کے ساتھ ساتھ مالی انعامات بھی دیئے جائیں۔ جتنا میرٹ ڈاکٹر انجینئرز کا ہے اتنا ہی استاد کا بھی رکھا جائے تاکہ اس مقدس شعبے میں صرف وہ خواتین و حضرات قدم رکھیں جن کا اصل مقصد ہی استاد بننا ہو۔ ان کو اس قدر مراعات دی جائیں کہ لوگ اچھا استاد بننے کے خواہاں ہو جائیں کیونکہ بادشاہ بننا ایک مشکل عمل ہے تو بادشاہ بنانا کس قدر مشکل ہو گا۔

اور سوچیے کہ اس بادشاہ کو بنانے والا کوئی کیمیا گر اگر ہے تو وہ ایک استاد ہی ہو سکتا ہے۔ کسی بھی شعبے میں کوئی کتنا ہی ماہر ہو مگر اس کی مہارت کے پیچھے اس کی محنت سے زیادہ اس کو سکھانے والے کا ہاتھ ہوتا ہے۔ آپ ڈاکٹر، انجینئرز، پائلٹ کے علاوہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے کامیاب شخص سے پوچھ لیجیے چاہے وہ فنکار ہو، گلوکار ہو، موٹر مکینک ہو یا سنار اور لوہار ہو اپنے فن پر مہارت استاد کی سرپرستی میں کام کرنے سے ہی آتی ہے۔

ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھالنے والے کسی استاد کے ہی شاگرد ہوتے ہیں، اگر ملک کی قسمت سنوارنی ہے تو استاد کی قدر و قیمت پہچاننا ہو گی۔

ہر بچہ ایک ہیرے کی طرح ہے اور استاد ہیرا پیدا نہیں کرتا مگر ہیرے کو تراش خراش کر اس کو وہ مقام عطا کر سکنے کا ہنر رکھتا ہے جو اسے اس معاشرے کا اہم ترین انسان بنا دیتی ہے۔

یاد رکھیے! اگر مضبوط قوم کی بنیاد چاہیے تو قوم کو بہترین استاد چاہیے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button