لائف سٹائلکالم

افضال احمد: جب اتنے بڑے فنکار کے ساتھ یہ سب ہو سکتا ہے تو عام بندے کا تو اللہ ہی حافظ!

جب تصویر دیکھی کہ ہسپتال میں افضال احمد صاحب کو الگ بیڈ میسر نہیں آیا، ایک مریض کے ساتھ ہی لٹا دیا گیا تو روح کانپ گئی

ارم رحمٰن

جب تصویر دیکھی کہ ہسپتال میں افضال احمد صاحب کو الگ بیڈ میسر نہیں آیا تو ایک مریض کے ساتھ ہی لٹا دیا گیا آکسیجن لگا کر اور اسی جگہ ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ یہ تصویر دیکھ کر روح کانپ گئی، پھر یہ مصرعہ یاد آ گیا:

مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

افضال احمد صاحب پاکستان کے نامور ترین فنکاروں میں سے ایک چمکتا درخشاں ستارے تھے؛ انتہائی خوبرو سید زادے، ایچی سن کالج لاہور کے تعلیم یافتہ، 18 سال کی عمر سے فنی دنیا میں داخل ہوئے اور اس کی چمک دمک میں 35 سال تک اضافہ کرتے رہے۔ تھیٹر، ڈرامہ اور فلمز بہت زیادہ کیں؛ اردو، پنجابی اور پشتو فلموں کے بے تاج بادشاہ بن کر ابھرے اور 90 کی دہائی میں بہت شہرت پائی۔

ہر وقت اپنی خوبصورت اور منفرد آواز سے پہچانے جانے والا، جس کی اداکاری اور جاندار آواز تھیٹر ڈراموں کی جان تھی، سلور سکرین پر فلم چلا کرتی تو سینما ہال ان کی رعب دار آواز سے گونج اٹھتا لیکن اللہ کی حکمت اور ان کی قسمت دیکھیے کہ لیجنڈری اداکار فالج کے حملوں میں اپنی قوت گویائی سے محروم ہو گیا، گزشتہ اکیس سال سے وہیل چئیر تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔

پھر 2 دسمبر 2022 کے لاہور کے ایک ٹھنڈے دن جہانِ فانی سے کوچ فرما گئے۔ انا للّٰلہ وانا علیہ راجعون!

رات گئی بات گئی۔۔۔ لیکن یہ تمام تعریفیں اور تعارف آپ کو جگہ جگہ بکھرا ملے گا؛ افضال کی ساری زندگی کا حال احوال گوگل کے ایک کلک کی مار ہے، لیکن اصل سوال اٹھتا ہے بے حسی اور بے دید ہونے کا!

مرنا سب نے ہے چاہے کوئی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر ایمان لائے یا نہیں۔ ایک مسلمان سید گھرانے کا چشم و چراغ جب تک فلم انڈسٹری کی زینت بنا رہا، ڈائریکٹر، پروڈیوسر کو نفع پہنچاتا رہا، اپنے اعزا و اقرباء کے لیے مفید رہا، ان کے نام اور دولت سے مفادات حاصل کرتے رہے تو وہ بہت اچھے تھے، نامور اور قابل ستائش لیکن جب مرحوم بیمار پڑگئے اور شدید بیماری کا شکار ہوئے؛ ظاہری سی بات ہے کہ طویل علالت مین ان کے دولت کے انبار بھی ہوں گے تو خرچ ہو گئے ہوں گے، یہاں دو باتیں قابل ذکر ہیں:

1۔ وہ لوگ کہاں گئے؛ بہن بھائی، اولاد، رشتے دار، دوست احباب جن کے لیے وہ انتہائی محترم اور باعث منفعت رہ چکے ہیں؟

2۔ اگر ان کا کوئی بھی اپنا، پیارا ان کے ساتھ ان حالات میں ساتتھ نہیں تھا تو “آرٹسٹ برادری” کہاں تھی جو “فن اور فنکار کی قدر و اہمیت” کی علمبردار بنی پھرتی ہے؟ اور ایک سوال اٹھتا ہے حکومت پر کہ ہسپتالوں کا نظام اس قدر ناقص ہے کہ ایک بیڈ پر دو دو مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

ایک حکومت پیرس بنانے کے چکر میں تھی دوسری ریاست مدینہ، کتنی شرمناک بات ہے کہ مرتے ہوئے عظیم نامور فنکار کو مرنے کے لیے ہسپتال میں الگ ایک چارپائی یا بیڈ نہیں مل سکا۔ افسوس صد افسوس!

یہاں بھی دو باتیں سامنے آتی ہیں:

1۔ جب اتنے بڑے فنکار کے ساتھ یہ سب ہو سکتا ہے تو عام بندے کا تو اللہ ہی حافظ!

2۔ ہسپتالوں کے ناقص انتظامات دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ ن لیگ کے سابق وزیراعظم اپنے علاج کے لیے لندن کیوں بھاگے؟ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انھوں نے صرف وطن عزیز کو لوٹا ہے؛ یہاں اچھی زندگی گزارنا تو بہت دور کی بات مرنا بھی بہت دشوار ہے۔

مرنا تو سب نے ہے۔ جو کل زندہ تھے آج مر چکے ہیں۔ جو آج زندہ ہیں کل وہ مر جائیں گے لیکن یہ حکمران کب ہوش میں آئیں گے؟ عمر خضر بھی پا لیں موت تو آئے گی، زندگی اللہ کے ہاتھ ہے لیکن کم از کم مرتے ہوئے بندے کے لیے مناسب دیکھ بھال کا انتظام تو کر دیں، ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی، دوا علاج اور بیڈز تو مناسب ملنے چاہئیں۔ کیا پاکستان میں مرنے کے لیے بھی ہسپتال کے بیڈ کے لیے ایڈوانس بکنگ کروانی پڑے گی، قبر کے لیے کروانی پڑتی ہے لیکن ملتان میں تو ایک بڑے ہسپتال کی لاشیں بھی چھت پر پھینک دی گئیں تھیں۔

بے حرمتی اور بربریت کی انتہا ہے کہ اس ملک میں کسی کی کوئی قدر یا اہمیت نہیں۔ جونکوں کی طرح خون چوسا،
کنگلا کیا اور اگلے کی تلاش، جب تک فنکار اس عارضی چمچماتی شوبز دنیا کی سپاٹ لائٹس میں رہتے ہیں سب داد و دہش کے ڈونگرے برساتے ہیں؛ آٹو گراف، فوٹو گراف، ایک جھلک دیکھنے کے لیے تڑپتے ترستے ہیں لیکن جیسے ہی شہرت، دولت اور حسن کا سورج ڈوبتا ہے تو کھیل ختم پیسہ ہضم!

آرٹسٹ برادری کو حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ مرتے ہوئے فنکار کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ اس کی عزت اور عزت نفس کا بھی خیال رکھا جائے۔ ایک شخص جو بوقت عروج پاکستان کی پہچان بنتا ہے زوال آتے ہی بے دردی سے دھتکار نہ دیا کریں۔ ہر عروج کو زوال ہے اور کوئی کب تک ایک ہی مقام پر کام کر سکتا ہے۔ یہ تو وقت کا پہیہ ہے جس نے چلتے رہنا ہے؛ بچہ جوان، جوان بوڑھا، ہر وقت ہیرو تو نہیں رہا جا سکتا!

آخر میں ایک اور سوال کہ اداکار ایسا کیا کرتے ہیں کہ آخری وقتوں میں قلاش ہو کر مرتے ہیں؟ طارق ٹیڈی مرحوم کا بھی المناک انجام ہوا اور بہت سے دیگر ادکار بلکہ اکثریت کا انجام دردناک تکلیفوں، ذہنی اور جذباتی اذیتوں کے علاوہ حکومت سے مدد کی اپیل اور عوام سے چندا مانگتے ہوئے ہوا۔

ایک عام بندے کے پاس تو دو وقت کی روٹی اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کا ہی بندوبست ہو جائے تو وہ خوش ہو جاتا ہے لیکن جب یہ اداکار کروڑوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں؛ ہر جگہ ان کا سکہ چلتا ہے، طوطی بولتا ہے، نام لیوا پروانوں کی طرح ان کے گرد منڈلا رہے ہوتے ہیں تو شاید تب یہ سب سمجھتے ہیں کہ یہ سب چکاچوند یوں ہی رہے گی۔ یا اگر پہلے کسی کے ساتھ ہوا ہے مگر ہمارا مقام اور ہے، یہ سب ہمارے ساتھ نہیں ہو گا۔ اسی بھول میں ساری قومیں تباہ ہوتی گئیں اور ہم بھی ان کے نقش قدم ہر ہی چل رہے ہیں۔ اب ایسے حالات کو اللہ کی حکمت کہیں یا شامت اعمال؟

عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اللہ ہدایت عطا کرے، ایمان پر خاتمہ کرے۔ آمین!

Erum
ارم رحمٰن بنیادی طور پر ایک شاعرہ اور کہانی نویس ہیں، مزاح بھی لکھتی ہیں۔ سیاست سے زیادہ دلچسپی نہیں تاہم سماجی مسائل سے متعلق ان کے مضامین نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ پڑوسی ملک سمیت عالمی سطح کے رسائل و جرائد میں بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔
Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button