لائف سٹائلکالم

فلسفہ عدم تشدد سمجھنے کیلئے ”تشدد” کو سمجھنا ضروری ہے

ارم رحمان

کھل کے جینے دو، قید و بند کی زنجیر مٹا دو
ہمارے ہاتھوں سے ہر ظلم کی لکیر مٹا دو
ہمارے ہونٹوں پہ لگانے ہیں اگر خاموشی کے تالے
پھر دنیا سے ہر تحریر و تقریر مٹا دو
مل نہیں سکتا اگر یہاں مظلوم کو انصاف
پھر اس دھرتی سے منصف کی تصویر مٹا دو
ہے مقدر میں گھٹ گھٹ کر اگر جینا یوں ہی
ہمیں نہیں جینا سمجھتے ہو حقیر، مٹا دو

عدم تشدد کے فلسفے کو سمجھنے کے لیے “تشدد” کو سمجھنا ضروری ہے۔ صرف مارپیٹ، دھکا مکی اور اسلحے کا بے جا استعمال ہی تشدد کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہر پابندی، ہر سختی اور ہر طرح کا جبر جو کسی بھی انسان کے بنیادی حقوق کی تکمیل کے منافی ہے، تشدد ہوتا ہے۔

کسی انسان پر سب سے بڑا تشدد قتل یا زیادتی ہی نہیں ہوتا بلکہ اس انسان کو اس کے بنیادی حق “آزادی ” سے محروم کرنا ہے، غلامی اور قید کی زندگی چاہے وہ ملکی ہو یا شخصی، اگر کوئی طاقتور ملک کسی کمزور ریاست پر حملہ آوار ہوتا ہے اور اس ریاست کی رعایا سے اس کی آزادی چھین لیتا ہے اور اپنی طاقت اور ہتھیاروں کے بل بوتے پر قابض و مسلط ہو جاتا ہے یہ سب سے بڑا تشدد ہے۔

اسی طرح کوئی طاقتور ملک کسی کمزور ملک پر ایسی شرائط عائد کرتا ہے جنہیں وہ پورا نہیں کر سکتا یا اس کی عوام ان شرائط کی وجہ سے اپنی ضروریات زندگی سے محروم ہو جاتی ہے بہت بڑا تشدد ہے جس کا ازالہ اور تلافی ناممکن ہے۔

اگر شخصی آزادی کی بات کی جائے تو کسی بھی انسان کی فطرت میں مسلسل قید اور جبر میں رہنا نہیں، کسی بھی شخص کی غلامی انسان کی عزت نفس کو گوارا نہیں یہ بھی تشدد ہے اور کسی مظلوم کو مکمل اور جلدی انصاف نہ مہیا کرنا، اس سے بدترین تشدد اور کیا ہو گا کہ ایک تو ظلم و جبر کی صعوبت پھر انصاف کی عدم فراہمی، ثبوت کا مٹا دینا اور گواہان کا بک جانا۔

کسی غریب مزدور کو اس کی فوری طور پر پوری اجرت نہ دینا کیا یہ تشدد نہیں؟ کیا کسی شخص کو اس لیے بولنے نہ دیا جائے کہ وہ حق بات کرے گا، کیا یہ تشدد نہیں؟

کسی انسان کو شادی جیسے خوبصورت بندھن میں اس کی مرضی کے خلاف کسی ایسے شخص کے ساتھ باندھ دیا جائے جو اس کا ہم مزاج اور طبعیت کے موافق نہیں، اور وہ ساری زندگی ایک خوبصورت تعلق کو بوجھ سمجھ کر بھگتتا رہے، کسی بچے کو ڈگری اور نمبروں کی دوڑ میں اس قدر بھگایا جائے کہ وہ اپنے ہونے کا مقصد بھول کر ایک دنیاوی مقصد کی اندھادھند دوڑ میں لگا رہے جیسے کولہو کا بیل، اس میں اخلاقیات، صبر اور برداشت جیسے اوصاف پیدا نہ کیے جائیں، کیا یہ تشدد نہیں؟

تعصب، حسد دوسروں کی کامیابیوں میں روڑے اٹکانا اور اپنی زندگی کا مقصد صرف دوسروں کو نیچا دکھانا اور حقیر سمجھنا، کیا یہ تشدد نہیں؟

لالچی اور غاصب جو جائیدادوں اور ملکیت پہ قبضہ کر لیتے ہیں؛ یتیموں، مسکینوں اور غریبوں کو ان کے حق سے محروم کر دین، وراثت میں زندہ بہنوں کو مردہ قرار دے کر ان کا حصہ ہڑپ کر لینا اور جہیز اور تعلیم کے نام پر بیٹیوں کو ان کے شرعی حق سے محروم کرنا، بیوی کو نان نفقہ نہ دینا اور طلاق کی صورت میں عدت کا خرچہ اور حق مہر نہ دینا، اور دوسری شادی پر قدغن لگانا، خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرنا اور ان کی پسند ناپسند کا خیال رکھے بغیر ان کی زبردستی شادی کرنا اور مجبور بے سہارا عورتوں کو عزت سے روزگار کمانے نہ دینا۔۔ تیزاب گردی کرنا، عصمت دری کرنا،
بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنا جو ان کی ساری شخصیت کو ہمیشہ کے لیے تباہ ہو برباد کر دیتا ہے۔۔ کیا یہ تشدد نہیں؟

یہ سب بدترین تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ جہیز کی لمبی لمبی فہرستیں دینا اور غریب کو غریب تر اور مقروض کر دینا
یہ سب تشدد ہے۔

عوام کو زبردستی حق رائے دہی سے محروم کرنا اور ان کے دئیے ٹیکس پر حکمرانوں کا خود عیش کرنا اور سار پیسہ لے کر دوسرے ممالک میں جائیدادیں بنانا، امیروں کے بچوں کے لیے تعلیمی نظام الگ غریبوں کے لیے الگ، اسی طرح علاج معالجے کی سہولتیں امیروں کے لیے وافر اور غریبوں کے لیے قلت، پیٹ بھر کے دو وقت کی روٹی نہ ملنا اور امیروں کے کتوں کی خوراک کا باہر سے آنا۔۔ یہ سب تشدد کی مثالیں ہیں اور اس طرح کی بہت سی جو لکھی نہیں گئیں یہاں۔۔ یہ سب تشدد ہے اور یاد رکھیے جسمانی تشدد سے زیادہ خطرناک ذہنی تشدد ہوتا ہے۔

اگر ان سب کو سمجھ جائیں گے تو اس کے مخالف لفظ “عدم تشدد” خود بخود سمجھ آ جائے گا۔

تشدد ملکی سطح پر ہو یا شخصی سطح پر، تشدد ہی کہلاتا ہے اور ہر تشدد کو روکنے کے لیے ایسی حکمت عملی بنانا پڑے گی جو انسانیت اور اخلاقیات کے تقاضے پورے کرے۔ ایسا ملک اور ایسا نظام جہاں ہر مسئلے کا حل تحمل برداشت اور مکمل انصاف ہر مبنی ہو جہاں کسی امیر کو غریب پر، کسی ظالم کو مجبور پر، کسی حاکم کو ملازم پر، والدین کو بھی اولاد کے شرعی حق پر کسی قسم کی زبردستی اور جبر روا رکھنے کی اجازت نہ ہو۔

کسی بھی ملک کو دوسرے ملک پر کسی قسم کا اختیار نہیں ہو؛ اسلحے اور ہتھیاروں کا استعمال قطعی ممنوع ہو اور صرف اس لیے کوئی طاقتور ملک کسی کمزور ملک پر قبضہ نہ کر سکے یا جنگ مسلط نہ کر سکے کہ ایک طاقتور اپنی طاقت کا ناجائز مظاہرہ کر کے دنیا کو اپنی طاقت سے مرعوب اور مغلوب کر سکتا ہے۔

ان سب باتوں کا واحد حل ہے: “عدم تشدد” کی راہ پر چلنا اور شخصی آزادی کو اپنانے کا راستہ، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون جڑ سے ختم کرنے میں ہی بقا اور عافیت ہے۔

Erum
ارم رحمٰن بنیادی طور پر ایک اچھی شاعرہ اور کہانی نویس، اور اچھا مزاح لکھتی ہیں۔ سیاست سے زیادہ دلچسپی نہیں تاہم سماجی مسائل سے متعلق ان کے مضامین نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ پڑوسی ملک سمیت عالمی سطح کے رسائل و جرائد میں بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔
Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button