لکی مروت: مروت کنال میں پانی کی بندش پر 12 دن سے اہل علاقہ سراپا احتجاج

غلام اکبر مروت
مروت کنال میں پانی کی بندش کے خلاف لکی مروت کے اہل علاقہ سمیت ہزاروں زمیندار گزشتہ 12 دن سے سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مروت کنال کو پانی باران ڈیم سے فراہم کیا جاتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں میں کمی اور باران ڈیم میں پانی کی کمی کے باعث زمینداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
باران ڈیم میں ایک لاکھ کیوسک پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بروقت بارشیں نہ ہونے کے سبب وہاں پانی کی کمی ہے۔ مروت بیٹنی قومی تحریک کا مطالبہ ہے کہ مروت کنال کو کرم گڑھی ہیڈورکس سے پانی فراہم کیا جائے تاکہ زمینداروں کی فصلوں کو بچایا جا سکے۔
پانی کی تقسیم کے قانون کے مطابق کرم گڑھی ہیڈورکس سے بنوں کو 1550 کیوسک پانی فراہم کیا جانا چاہیئے، اس کے بعد اضافی پانی مروت کنال کو دیا جاتا ہے، لیکن فی الحال دریا کرم میں تقریباً 400 کیوسک پانی آرہا ہے، جس کی وجہ سے مروت کنال کو پانی فراہم کرنا ممکن نہیں ہو رہا۔
اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔ امن جرگہ کے امیر ہدایت اللہ خان عیسک خیل، نصیر خان تراب اور ممتاز سماجی کارکن ملک وقار خان کی قیادت میں ایک وفد نے مروت بیٹنی قومی تحریک کے مشران سے ملاقات کی ہے اور ایک بار پھر ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ تاہم احتجاج ابھی تک جاری ہے۔
مروت بیٹنی قومی تحریک کے رہنما انعام اللہ خان خوائیدادخیل نے کہا کہ زمینداروں کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ پہلے مروت کنال میں پانی چھوڑے، پھر گاڑیوں کی سپلائی بحال کی جائے۔
لکی مروت پولیس کے ترجمان شاہد حمید نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی، اور مذاکرات ضلعی انتظامیہ کا کام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس معمول کے مطابق گشت کر رہی ہے، اور بنوں سے پولیس کو طلب کرنے کی خبریں من گھڑت اور افواہیں ہیں۔