پشاور میں دھرنا رنگ لے آیا، میرانشاہ بازار متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی شروع, بعض ناخوش

پشاور میں کئی ہفتوں تک احتجاج رنگ لے آیا، شمالی وزیرستان کے میرانشاہ بازار کے متاثرین میں معاوضوں کی تقسیم بالاخر شروع ہوگئی لیکن دوسری جانب کچھ متاثرین نے تقسیم پر اعتراضات بھی اٹھائے دئے۔

معاوضوں کی تقسیم کے سلسلے میں آج بروز اتوار میرانشاہ جرگہ ھال میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں متاثرہ جائیداد مالکان کے علاوہ ڈپٹی کمشنر شاہد علی خان، ممبر صوبائی اسمبلی میرکلام وزیر، ڈی پی او شفیع اللہ گنڈاپور، اے ڈی سی دولت خان، اے سی میرانشاہ فواد خٹک و دیگر قبائلی مشران شامل تھے۔

متاثرین میں رقوم کی تقسیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی سی شاہد علی خان نے کہا کہ مجموعی طور پر بازار کے 6969 متاثرہ دوکاندارن و جائیداد مالکان میں 5 ارب 76 ارب روپے تقسیم کئے جائیں گے جس کی آج شروعات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ جائیداد مالکان کا دیرینہ مطالبہ تھا جو کہ آج پورا ہوگا۔

اس موقع پر ایم پی اے میرکلام وزیر نے کہا کہ آج ان متاثرین کے ساتھ ساتھ یہ خود ان کے لئے بھی خوشی کا دن ہے اور مزید یہ کہ وہ معاوضوں کی ادائیگی کے طریقہ کار پر مطمئین ہیں۔

دوسری جانب چند دوکانداران نے اس طریقہ کار پر اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔

اس سلسلے میں متاثرہ دوکاندار احمد شاہ نے ٹی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان سمیت بہت سے دوکانداروں کے ویریفیکیشن کمیٹی پر تحفظات ہیں اور ایسی کمیٹی کے فیصلے انہیں قبول نہیں۔

اسی طرح ایک دوسرے دوکاندار حمزہ احمد نے بتایا کہ انہیں منظورہ شدہ 14 لاکھ کی بجائے 8 لاکھ روپے دئے گئے جبکہ 6 لاکھ کی کٹوتی کی گئی جو کہ بہت بڑی زیادتی ہے۔

ایک اور دوکاندار صدیق رحمان نے بتایا کہ منظور شدہ رقم اور وریفیکیشن کے بعد بھی آج چیک سے محروم رہا اور اس ضمن میں انصاف کا طلب گار ہوں۔

خیال رہے کہ  میرانشاہ بازار کے جائیداد مالکان و دوکاندارن نے تقریبا 3 مہینوں تک پشاور میں صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اپریشن ضرب عضب کے بعد بازار کی دوبارہ تعمیر میں ان کی جو زمین سڑکوں، کار پارکنگ یا پارکوں کے لئے لی گئی ہے اس کی انہیں 45 لاکھ فی مرلہ کے حساب سے معاوضہ دیا جائے۔

حکومت نے پہلے ان مالکان کو 15 فی مرلہ کی پیشکش کی تھی جو کہ ٹھکرائی گئی تھی۔ ان کے دھرنے کے دوران ہی صوبائی کابینہ نے ان کے مطالبات کے مطابق 45 لاکھ فی مرلہ کے حساب سے ان کے لئے 13 ارب 52 کروڑ روپے منظور کر لئے تھے لیکن مظاہرین نے تب تک دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا جب کہ چیکس ان کے ہاتھوں پر نہیں رکھے جاتیں۔ بعد میں انہوں نے دھرنا کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد رضاکارانہ طور پر ختم کردیا تھا۔

 

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close