کھیل

لیگ کرکٹ کی مقبولیت اور ٹی 20 کے مستقبل کو لاحق خطرات

خیرالسلام

کھلاڑیوں کی قوت برداشت جانچنی ہو یا پھر ان کی تکنیکی صلاحیتوں کا امتحان لینا مقصود ہو وکٹ پر وقت گزارنے کے علاوہ پلیئرز کی ٹمپرامنٹ معلوم کرنے کیلئے ٹیسٹ کرکٹ کو کسوٹی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سر ڈان بریڈمین، کلائیو لائیڈ، ویون رچرڈز، حنیف محمد، عمران خان، جاوید میاںداد اور سچن ٹنڈولکر سمیت درجنوں نام ایسے ہیں جنہوں نے بام عروج تک پہنچنے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کا سہارا لیا۔ کینگروز بلے باز سر ڈان بریڈمین کی صد سالہ تقریبات منائی جانے کے باوجود یہ عظیم شخصیات ٹیسٹ کرکٹ کی بدولت دنیا بھر میں ویسے ہی شہرت رکھتے ہیں جس طرح اپنی تابناک کیریئر کے عروج کے وقت انہیں لاکھوں مداحوں سے پذیرائی ملا کرتی تھی۔

کرکٹ کی بنیاد ہی ٹیسٹ سے پڑی ہے اور آج بھی اس فارمیٹ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے جس کے بغیر گیم کا وجود بالکل پھیکا اور بے مزہ تصور کیا جاتا ہے۔ جس طرح گلوبل ٹیسٹ کرکٹ کے عنصر نے مہینوں اور دنوں کی مسافت کو گھنٹوں اور منٹوں تک محدود کر دیا ہے بالکل اسی طرح انسانی سوچ کا محور بھی انتہائی محدود ہو کر رہ گیا ہے اور آج ہم انتظار کی بجائے فوری نتائج سمیٹنے میں زیادہ فخر محسوس کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کسی بھی کھلاڑی کی تمام تر صلاحیتوں کے نکھار کا واحد ذریعہ ہے لیکن جب سے مختصر فارمیٹ کی گیم یعنی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نے شائقین اور مداحوں کو اپنا گرویدہ بنایا ہے تو ٹیسٹ کرکٹ دلچسپی کے لحاظ سے تقریباً پس منظر  میں چلی گئی ہے جبکہ کرکٹ میں دلچسپی رکھنے والا ہر دوسرا شخص نئی دریافت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا جنونی ہے۔

جس طرح ٹیسٹ کرکٹ کی بنیاد برطانوی سرزمین کو قرار دیا جاتا ہے اسی طرح ٹی ٹونٹی گیم کا آغاز بھی گوروں کی دھرتی یعنی انگلینڈ سے ہوا۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ جسے مختصراً ٹی ٹوئنٹی گیم  کا نام دیا جاتا ہے اس کا آغاز 2003 میں اس وقت ہوا جب انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے کاؤنٹی کرکٹ کو مزید وسعت دینے اور شائقین کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کی خاطر مختلف کاؤنٹی کرکٹ ٹیموں کے مابین ایک ٹورنامنٹ  کا انعقاد کرایا۔ دو ٹیموں پر مشتمل کرکٹ میچ میں ہر ٹیم کو ایک اننگز کے دوران زیادہ سے زیادہ بیس اوورز کرنے لازمی تھے۔ ایک ٹی ٹوئنٹی میچ زیادہ سے زیادہ تین گھنٹے کے دورانیہ پر مشتمل ہوتا ہے جس میں ہر اننگز تقریباً 70 تا 90 منٹوں  کے دوران مکمل ہو جاتی ہے۔ دونوں اننگز  کے درمیان 10 سے لے کر 20 منٹ کا وقفہ بھی دیا جاتا ہے یوں کل ملا کر تقریباً تین گھنٹوں کے دوران میچ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔

مختصر فارمیٹ یعنی ٹی ٹونٹی گیم کے ارتقاء کا اصل مقصد گراؤنڈ میں بیٹھے شایقین سمیت ٹیلی ویژن سکرین پر اس سے لطف اندوز ہونے والے کروڑوں ناظرین کیلئے ایک ایسا منفرد تحفہ دینا تھا جو کہ ہمیشہ نتیجہ خیز ثابت ہو اور دلچسپی کے لحاظ سے بھی اس کا کوئی ثانی نہ ہو۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے سن 2000 میں جس وقت ٹی ٹونٹی گیم کا تجرباتی بنیادوں پر آغاز کیا تو ان کا ارادہ بالکل یہ نہیں تھا کہ یہ دوسرے فارمیٹ کی جگہ لے کر دنیا بھر میں سب سے زیادہ دلچسپ ایونٹ بن جائے تاہم اس نے خلاف توقع بہت زیادہ توجہ حاصل کی اور آج یہ ہر ٹور شیڈول کا لازمی جز تصور کیا جاتا ہے تمام ممالک اپنے شیڈول دوروں میں کم از کم ایک ٹی ٹوئنٹی میچ ضرور رکھتے ہیں جبکہ انڈین پریمیر لیگ سمیت کینگروز بگ بیش کے علاوہ تقریباً تمام ممبرز ممالک اپنے ڈومیسٹک سیزن کے دوران ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کا انعقاد لازمی تصور کرتے ہیں۔

آئی پی ایل اور بگ بیش کی عالمگیر مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آج اکثر و بیشتر بین الاقوامی شہرت کے حامل کھلاڑی اپنے ملکی ٹیموں کی بجائے بھارتی لیگ میں شرکت کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں جس کی اصل وجہ ان لیگز کی پرکشش  اور دیگر لوازمات ہیں جس نے ٹی ٹونٹی گیم کو تمام انٹرنیشنل کرکٹرز کی اولین ترجیح بنا دیا ہے۔

پہلے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد سن 2004 میں جنوبی افریقہ کی سرزمین پر کیا گیا جہاں فائنل میں روایتی حریف بھارت نے پاکستان کو 5 رنز سے شکست دے کر پہلی بار چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ 2009 کا عالمی ٹائٹل پاکستان کے نام رہا جبکہ انگلینڈ 2010 کے ایڈیشن کا فاتح رہا۔ ویسٹ انڈیز نے 2012 کے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی۔ اب تک کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کا پلڑا باری رہا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ دنیا بھر کے نوجوانوں کا پسندیدہ کھیل ہے ساتھ ہی مختصر فارمیٹ کی اس گیم میں بے تحاشہ پیسہ موجود ہے جو کھلاڑی انٹرنیشنل کرکٹ میں آنے سے قبل اپنی پیاس بجھانے کی خاطر  پیپسی یا کوکا کولا کی ایک  بوتل خریدنے کی سکت نہیں رکھتا وہ بعد میں ان کا برانڈ ایمبیسڈر بن کر کروڑوں میں کھیلتا ہے۔

پاکستان کے ابھرتے ہوئے نوجوان فاسٹ بولر شاہنواز دھانی کی مثال ہمارے سامنے ہے جن کے پاس ٹرائلز دینے کے لئے جوتے تک موجود نہیں تھے تاہم ٹیلنٹ اور جذبہ و جنون سے متاثر ہو کر پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں تمام تر وسائل فراہم کئے اور سر دست شاہنواز دھانی مختصر فارمیٹ یعنی ٹی ٹوئنٹی کی ضرورت بن گئے ہیں۔

ویسے آپس کی بات ہے کہ نوجوان پیسر دھانی کارٹون کردار ہیکل اینڈ جیکل سے اچھی خاصی مماثلت رکھتے ہیں لیکن بے پناہ ٹیلنٹ کے حامل اس کردار کو مستقبل کا ہیرو بننے سے کوئی نہیں روک سکتا جس کیلئے ضروری ہے کہ انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کا زیادہ سے زیادہ ایکسپوژر حاصل ہو۔

لیگ کرکٹ کو بام عروج تک پہنچانے میں انڈین پریمیئر لیگ، بگ بیش لیگ اور اب پاکستان کی ڈومیسٹک لیگ پی ایس ایل کا اہم اور کلیدی کردار رہا ہے۔ ٹیسٹ اور ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ کے برعکس مختصر فارمیٹ کی گیم میں پیسہ اور گلیمر بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر کھلاڑی لیگ کرکٹ کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی چیز کو آڑ بنا کر دنیائے کرکٹ کے چند اہم اور چیدہ نام بھی قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر قربان کرنے سے نہیں کتراتے۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ کرکٹ بورڈ کے پاس کھلاڑیوں کی واجبات کی ادائیگی کیلئے مطلوبہ رقم کی عدم دستیابی کے باعث وہ نجی لیگز کھیلنے پر مجبور ہیں۔ اور یہ کیریبیئن کرکٹ کی تباہی کا سب سے بڑا فیکٹر ہے۔چونکہ لیگ کرکٹ کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ پذیرائی حاصل ہوتی ہے لہذا پلیئرز کا زیادہ سے زیادہ وقت نجی لیگز کھیلنے میں صرف ہوتا ہے لہذا اس سے کھلاڑیوں کے زخمی ہونے اور فٹنس مسائل پیدا ہونے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں اور یہی چیز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہی ہے جس سے لیگ کرکٹ کے تابناک مستقبل کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button