سیاست

خیبرپختونخوا کی نومنتخب کابینہ تنقید کی زد میں

 

محمد فہیم

خیبر پختونخوا کی نو منتخب کابینہ اعلان کے ساتھ ہی تنقید کی زد میں آگئی ہے۔ کابینہ میں ایک ضلع کو ضرورت سے زیادہ نمائندگی دینے اور خاندانی سیاست کی بنیاد پر وزراء کے انتخاب کی وجہ سے بھی سوشل میڈیا پر صارفین پی ٹی آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی 15 رکنی کابینہ کا اعلان گزشتہ روز کیا گیا تھا جبکہ وزیر اعلیٰ کے 5 مشیر اور 4 معاونین بھی مقرر کردیئے گئے تھے۔

ان 24 ممبران میں 5 کا تعلق ایک ہی ضلع یعنی صوابی سے ہے۔ صوابی سے منتخب دو ممبران کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے جن میں شہرام ترکئی کے بھائی فیصل ترکئی اور اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ شامل ہیں۔ اسی طرح مشیروں میں بھی دو کا تعلق صوابی سے ہے جن میں بیرسٹر محمد علی سیف اور مشال اعظم یوسفزئی شامل ہے جبکہ ایک معاون خصوصی عبدالکریم خان بھی صوابی سے ہیں۔

عام انتخابات میں صوابی کی تمام 5 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پی ٹی آئی کامیاب ہوئی تھی تاہم دیگر اضلاع کو نظر انداز کرنے پر شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مردان کی 8 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پی ٹی آئی نے کلین سوئپ کیا جبکہ سوات کی بھی تمام 8 صوبائی اسمبلی کی نشستیں پی ٹی آئی نے جیتیں لیکن مردان سے صرف ظاہر شاہ طورو ہی کابینہ کا حصہ بن سکے۔ جبکہ سوات سے فضل حکیم کو کابینہ میں شامل کیا گیا اور امجد علی کو معاون مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح اپر اور لوئر دیر سے مجموعی طور پر 8 صوبائی حلقوں پر پی ٹی آئی نے ہی کلین سوئپ کیا لیکن لوئر دیر سے صرف لیاقت علی کو معاون خصوصی مقرر کیا گیا۔ قبائلی اضلاع سے صرف ایک عدنان قادری کابینہ میں شامل ہوسکے ہیں جبکہ ہزارہ ڈویژن میں ہری پور سے ارشد ایوب، ایبٹ آباد سے نذیر عباسی کو وزیر اور مانسہرہ کے زاہد چن زیب کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ریجنز کی بات کی جائے تو وسطی اضلاع یعنی پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ اور چارسدہ سے 10 افراد کو معاون ، مشیر اور وزیر لگایا گیا ہے۔ جنوبی اضلاع سے 4، ہزارہ ڈویژن سے 3، ملاکنڈ ڈویژن سے 5 افراد جبکہ قبائل سے ایک ممبر کابینہ کا حصہ ہے ایک مشیر کراچی سے مزمل اسلم بھی مقرر کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے صوابی پر ہونیوالی نوازشات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے جبکہ دیگر اضلاع کے پارٹی ورکرز نے بھی اپنا شکوہ اور گلہ ظاہر کیا ہے۔ اسی طرح مخالف جماعتوں کے ورکرز کی جانب سے کابینہ میں موروثیت پر بھی شدید تنقید کی گئی ہے۔ موجودہ کابینہ میں سابق سپیکر اسدقیصر کے بھائی عاقب اللہ، سابق صوبائی وزیر شہرام ترکئی کے بھائی فیصل ترکئی، سابق وفاقی وزیر پیر نورالحق قادری کے بھتیجے عدنان قادری ، عمر ایوب کے چچا زارشد ایوب اور شیر افضل مروت کے بھائی خالد لطیف کو شامل کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے کہ مذکورہ ممبران کی شمولیت میرٹ پر نہیں بلکہ رشتہ داری پر کی گئی ہے۔ یہ ممبران اہل ہونگے اور حق دار بھی ہونگے لیکن یہ تعیناتی انکی اہلیت اور قابلیت کی بجائے بھائی اور چچا کے تعلق کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button