سیاست

پشاور ہائیکورٹ نے ایمل ولی خان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم خان نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں نوٹس جاری کردیا ہے۔

چیف جسٹس ابراہیم خان نے پی ٹی آئی رہنما فضل محمد خان کی جانب سے ایمل ولی خان کے خلاف دائر توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل عامر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے چیف جسٹس کے خلاف بیان دیا۔ فضل محمد خان کے وکیل نے عدالت میں ایمل ولی خان کا بیان پڑھ کر بھی سنایا۔

وکیل درخواست گزار کے مطابق ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس ملگری وکیلان کا حصہ رہے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ابرہیم خان نے کہا کہ ’ملگری وکیل کون ہے؟ ان کی کوئی پارٹی نہیں۔‘

چیف جسٹس ابراہیم خان نے کہا کہ یہ دیکھ لیں اگر میں ملگری وکیلان کا حصہ رہا ہوں تو یہ پھر اپنے ہی وکیل کو دھمکی دے رہے ہیں، سنا ہے ان کی اتنی عمر نہیں، جس وقت کی یہ بات کررہے ہیں شاید یہ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، میں انہیں نہیں جانتا۔

چیف جسٹس ابراہیم خان نے کہا کہ بیان سے تو لگتا ہے کہ وہ وکلاء پر زیادہ ہنسے ہیں، میں نے تو ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی پارٹی جوائن نہیں کرنی، مجھے سیاست کا پتا بھی چل گیا تو کوئی پارٹی جوائن نہیں کرنی۔ ہم نوٹس جاری کرتے ہیں، اگر انہوں نے وضاحت نہ دی تو پھر دیکھ لیں کہ ان کے خلاف کیا کارروائی ہوسکتی ہے۔ عدالت نے ایمل ولی خان کو نوٹس جاری کرکے 11 جنوری 2024 تک سماعت ملتوی کردی۔

فضل محمد خان کی درخواست

درخواست گزار فضل محمد خان نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ایمل ولی خان نے چیف جسٹس ہائیکورٹ کے خلاف غیر شائستہ الفاظ استعمال کیے اور چیف جسٹس پر بے بنیاد الزامات لگائے۔ ایمل ولی خان نے چیف جسٹس کو دھمکی بھی دی۔

پی ٹی آئی رہنما نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ایمل ولی عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایمل ولی خان توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں، ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button