سیاست

”ووٹ کو عزت دو“کا نعرہ 21 اکتوبر کو گونجے گا؟

 

محمد فہیم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 24 اکتوبر تک تین بار کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیئے یعنی اب نواز شریف کو کوئی بھی گرفتار نہیں کرسکے گا۔ مسلم لیگ ن کے قائد اور تین بار کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تقریبا 4 سال کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد 21 اکتوبر کو وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ اور ان کی واپسی کیلئے مسلم لیگ ن نے فقید المثال جلسے کا اہتمام کیا ہے جس کیلئے ملک بھر سے قافلے شرکت کرینگے۔ خیبر پختونخوا سے قافلے تین الگ الگ راستوں سے جائیں گے۔ مسلم لیگ ن کے مطابق پشاور سے قافلے 20 اکتوبر کی شام کو ٹرین کے ذریعے روانہ ہونگے۔ جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے قافلے ڈیرہ اسماعیل موٹر ویز سے آئینگے جبکہ پشاور ٹول پلازہ سے بھی ایک قافلہ روانہ ہوگا جس میں ملاکنڈ ڈویژن اورہزارہ ڈویژن سے آنیوالے قافلے شامل ہونگے۔ یہ تمام قافلے موٹرویز پر اکٹھے ہوتے ہوئے لاہور پہنچیں گے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ تمام قافلوں کے اخراجات کارکنان خود برداشت کریں گے۔ صوبہ بھر میں کارکن بڑی تعداد میں شرکت کرینگے خیبرپختونخوا کی عوام بتائے گی کہ یہاں حکومت کس کی ہوگی۔ پیپلز پارٹی والے پہلے کہتے تھے نواز شریف نہیں آئے گے نواز شریف نے ڈیل کی ہے۔ پیپلز پارٹی چیئرمین کو سندھ کے علاوہ کہاں حکومت مل رہی ہے۔ امیر مقام نے کہا کہ کارکن اپنے قائد کا تاریخی استقبال کرینگے خیبر پختونخوا کے عوام بھی ان کے ساتھ ہیں۔ 21 اکتوبر کو پاکستان کی ترقی کا نیا سفر شروع ہوگا جو نواز شریف کے چوتھے بار وزیر اعظم بننے کی صورت میں کامیابی کی جانب گامزن ہوگا۔

اسلام آباد میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار ڈاکٹر سادیہ کمال اس حوالے سے کہتی ہیں کہ میاں نواز شریف کی آمد تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے واضح ہوگئی ہے اور یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ وہ چوتھی بار وزیر اعظم بنیں گے لیکن سوال یہی اٹھتا ہے کہ ”مجھے کیوں نکالا؟“ اور ”ووٹ کو عزت دو“ والا بیانیہ کہاں گیا؟ نواز شریف بلا شبہ زیرک اور تجربہ کار سیاست دان ہیں لیکن انکی واپسی کے حوالے سے چہہ مگویاں ہورہی ہیں۔ ڈاکٹر سادیہ کمال کہتی ہیں کہ نواز شریف کا استقبال تو تاریخی ہوگا لیکن حیران کن طور پر مریم نواز صرف پنجاب تک محدود رہی انہوں نے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا رخ نہیں کیا حتی کہ تینوں صوبوں میں مسلم لیگ ن کے ورکرز موجود ہیں اور ہر سیاسی رہنما کو تمام علاقوں میں جانا چاہئے لیکن اگر دیکھا جائے تو سیاسی جماعتوں نے خود کو مخصوص حلقوں تک محدود کررکھا ہے اور مسلم لیگ بھی اب پنجاب کی حد تک ہی سرگرمیاں کررہی ہے۔

یاد رہے نواز شریف نومبر 2019 کو علاج کی غرض ہے لندن گئے تھے تاہم اس کے بعد انہوں نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرلی تھی۔ انہیں ابتداء میں ڈاکٹرز نے طویل سفر نہ کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن بعد ازاں صحت مند ہونے کے بعد وہ کئی بار سعودی عرب اور دبئی کے دورے کرچکے ہیں جبکہ چھٹیاں منانے یورپ بھی گئے تھے اب نواز شریف وطن واپس لوٹ رہے ہیں اور پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت خود کرینگے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button