سیاست

نگران وزیراعلیٰ اعظم خان: ”سب کیلئے قابل قبول”

جمعہ کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ محمود خان اور اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نگران وزیراعلی کے نام پر اتفاق رائے کے بعد ریٹائرڈ بیوروکریٹ محمد اعظم خان اپنے عہدے کا حلف بھی لے چکے ہیں۔

اس پیش رفت کے بعد اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ نگراں وزیر اعلیٰ کیلئے ہمارے متفقہ امیدوار اعظم خان ہیں، ایسے شخص کا چناؤ کیا ہے جو سب کو قابل قبول ہے جبکہ سابق وزیر اعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار متفقہ طور پر نگراں وزیر اعلیٰ کے نام پر اتفاق ہوا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی نے کہا کہ اے این پی اعظم خان کی بطور نگران وزیر اعلیٰ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے، امید ہے اعظم خان صوبے کا نظام بہترین طور پر چلائیں گے۔

دوسری جانب اس نام کے اعلان کے بعد کئی لوگوں یہاں تک کہ بعض نیوز چینلز نے بھی یہ خبر نشر کی کہ عمران خان کے دورِ اقتدار میں ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو اب نگران وزیراعلی بنا دیا گیا ہے۔

درحقیقت دونوں شخصیات کے نام اور کام (پیشہ) ایک ہیں تاہم موجودہ نگران وزیراعلیٰ کا پورا نام محمد اعظم خان ہے، ان کا تعلق چارسدہ کے پڑانگ علاقے سے ہے اور وہ سابق انسپکٹر جنرل پولیس محمد عباس خان کے بھائی ہیں، وہ ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ، چیف سیکرٹری اور مختلف وزارتوں کے سیکرٹری کے طور پر کام کرنے کے علاوہ وفاقی سیکرٹری مذہبی امور بھی رہ چکے ہیں، ماضی میں وزیر خزانہ اور وفاقی سیکرٹری وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل بھی رہے ہیں۔

اعظم خان نے پشاور یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ بار ایٹ لا کی ڈگری مکمل کرنے کے لیے لنکن-ان لندن میں بھی زیرِ تعلیم رہے ہیں۔

محمد اعظم خان کا نام اپوزیشن کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جس پر محمود خان نے بھی اتفاق کیا۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ان کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ صوبے کی زیادہ تر سیاسی جماعتوں کے لئے اس لئے بھی قابل قبول ہیں کہ تقریباً تمام ساسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کے وہ خونی رشتہ دار بھی ہیں۔

بہرکیف، سابق بیوروکریٹ اور موجودہ نگران وزیر اعلیٰ سے بنیادی طور پر یہی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آئین و دستور کی مکمل پاسداری کریں گے اور صاف و شفاف الیکشن کے انعقاد کے سلسلے میں اپنا آئینی کردار ادا کریں گے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button