سیاست

سال 2022 امن و امان کے حوالے سے کیسا رہا؟

کامران علی شاہ

حکومت اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دوسری جانب ملک میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی واقعات پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان سیاسی جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی ایک عرصے سے دہشت گردی کو قابو کرنے پر زور دے رہی ہے۔

بنوں میں سی ٹی ڈی کمپلیکس واقعہ پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سب سے پہلے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصاً سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کو منظم کرنے، سہولیات دینے اور خصوصی تربیت کے اہتمام پر زور دیا۔

ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ریاست کی رٹ کو قائم کرنے کے لئے جہاں سیکورٹی اداروں، پولیس خصوصاً سی ٹی ڈی کو ہر طرح کی سہولیات اور خصوصی تربیت کی ضرورت ہے وہیں ملک میں امن قائم کرنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد بھی انتہائی اہم ہے، بلاتفریق دہشت گرد تنظیموں سے نمٹا جائے تاکہ ہزاروں قربانیوں سے حاصل ہونے والے امن کو برقرار رکھا جا سکے۔

دہشت گردی کے حوالے سے عوام اور سیاسی جماعتوں میں پائی جانے والی تشویش میں اس وقت اضافہ ہوا جب افغانستان میں حکومت کی تبدیلی اور افغان جیلوں سے پاکستانی دہشت گرد تنظمیوں کے اراکین کی رہائی کے بعد پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ شروع ہو ا۔

2022 کے آغاز میں ہی دہشت گردوں نے لاہور کو نشانہ بنایا، 20 جنوری کو انارکلی بازار میں میں بینک کے باہر بم دھماکے سے 3 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے۔

اپریل اور مئی میں بالترتیب جامعہ کراچی اور بولٹن مارکیٹ میں دھماکے ہوئے۔ کراچی یونیورسٹی میں بلوچستان کے شدت پسند گروپ سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون شاری بلوچ نے خود کو بارودی مواد سے اڑایا جس سے تین چینی اساتذہ اور ان کا پاکستانی ڈرائیور جان سے گئے۔ بولٹن مارکیٹ میں دھماکے سے ایک راہ گیر خاتون جاں بحق ہوئی۔

بلوچستان کے شہروں کوئٹہ، پنجگور، نوشکی، کیچ اور سبی میں دہشتگردوں نے عوام کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا، سب سے زیادہ جانی نقصان کیچ میں سیکیورٹی پوسٹ پر حملے میں ہوا جہاں دس جوان شہید ہوئے۔ ان حملوں سے دہشتگردوں کا ایک نیا گروپ بلوچستان نیشنل آرمی سامنے آیا جس کے پاس سے افغانستان سے نکلنے والی امریکی افواج کے ہتھیار اور جدید ساز و سامان بھی برآمد ہوا۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کی جانب سے جدید ہتھیار کے استعمال پر سیاسی جماعتوں کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ اے این پی کے ممبر صوبائی اسمبلی سردار حسین بابک نے خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس میں امن و امان کے حوالے اس کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اب جدید ہتھیاروں سے نہ صرف بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ پولیس اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں بھی امریکی ساخت کا جدید اسلحہ استعمال ہو رہا ہے جس کے خلاف حکومت کو جلد از جلد اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔

وزارت داخلہ کی جانب سے بھی سینیٹ آف پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے جو رپورٹ جمع کرائی گئی ہے اس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے مجموعی واقعات میں اضافہ ہوا ہے، دہشت گردی کے 514 واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں سے 307 واقعات صرف خیبر پختونخوا میں پیش آئے۔ وزارت داخلہ کے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں 189، سندھ میں 12، اسلام آباد 3 جبکہ پنجاب میں دہشتگردی کے 3 واقعات ہوئے۔

وزارت داخلہ نے رپورٹ میں موقف اپنایا کہ دہشتگردی کے واقعات کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ مقامی دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی ہے اور ساتھ ہی ساتھ سرحد پار دہشتگرد تنظیموں کو کارروائیوں کی آزادی حاصل ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں کوشش کر رہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ علاقے ان کے قبضے میں ہوں اور اس کوشش کو عملی جامہ پہنانے کےلئے دہشتگرد تنظیموں نے امریکی انخلا کے بعد ترک شدہ جدید ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔ انہوں نے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس میں رات کی تاریکی میں دور تک نشانہ بنانے والے ہتھیار بھی شامل ہیں، اسی وجہ سے دہشتگردوں کو کارروائیاں بڑھانے کا موقع مل گیا۔

ایڈیشنل آئی جی آپریشنز خیبر پختونخوا محمد علی بابا خیل نے پولیس کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزارت داخلہ کی رپورٹ میں دہشت گردوں کے پاس جدید اسلحے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ نے 7 بلین ڈالر کا اسلحہ چھوڑا ہے جس کی نقل و حمل ہو رہی ہے اور پولیس پر ہونے والے حملوں میں بھی اس قسم کے اسلحے کے استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا، جدیداسلحہ کے استعمال کے ساتھ وزارت داخلہ کی رپورٹ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ دہشتگردی واقعات میں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا متاثر ہوا ہے جہاں دہشت گردی کے 3 سو سے زائد واقعات رونما ہو چکے ہیں، درجن بھر سے زائد واقعات میں تو صرف امن کمیٹیوں کے اراکین کو نشانہ بنایا گیا، پولیس پر ٹارگٹڈ حملوں میں بھی کئی پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔

سی ٹی ڈی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 3 سو سے زائد دہشت گرد حملوں میں 120 پولیس اہلکار شہید اور 117 زخمی ہوئے۔

افغان بارڈر سے قریب خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع دہشت گرد حملوں کا زیادہ نشانہ بننے جس کی وجہ سرحد پار سے دہشت گردوں کا پاکستان میں نفوذ ہے۔

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئیر محمود شاہ کے مطابق افغانستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال سے پاکستان میں بھی حالات خراب ہو گئے ہیں، دوسری بات ذمہ داریوں کے تقرر کی بھی ہے، وفاق صوبے اور صوبہ وفاق پر ذمہ داری کا بوجھ ڈال رہا ہے، ہماری منصوبہ بندی میں مرکزیت نہیں ہے اس لئے بھی دہشت گردوں کو تقویت مل رہی ہے، ہماری طرف سے بغیر سوچے سمجھے ٹی ٹی پی سے مذاکرات شروع کر دیئے گئے جس سے ان کو بڑھاوا ملا، ”اصل میں بات چیت افغانستان کی حکومت سے کرنی چاہئے، افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت کو بھی چاہئے کہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، پاکستان میں دہشت گردی کنٹرول کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ہماری مضبوط فوج ہے جو ہر قسم کے حملوں کا سدباب کرنا جانتی ہے، اگر دہشت گردی کی روک تھام چاہئے تو قومی اتفاق رائے سے بنایا گیا نیشنل ایکشن پلان ایک جامع منصوبہ ہے اور اس پر من و عن عملدرآمد سے ہی اس کی موثر روک تھام ممکن ہو سکتی ہے، نیشنل ایکشن پلان بلاتفریق دہشت گرد تنظمیوں اور تمام دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لیتا ہے۔”

دوسری جانب افغانستان کی موجودہ حکومت کئی بار اس کا ذکر کر چکی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی، افغانستان کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی شق قطر معاہدے میں بھی موجود ہے تاہم ماہر افغان امور رستم شاہ مومند کے مطابق افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت کو اس وقت بہت سے چیلجنز کا سامنا ہے جن میں پہلا چیلنج داعش، دوسرا ٹی ٹی پی جو طالبان کے حلیف سمجھے جا رہے ہیں لیکن اصل میں ایسا نہیں ہے، تیسرا ترکستان اسلامک موومنٹ ہے جس کو قابو کرنے میں طالبان کو تاحال خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

رستم شاہ مومند نے بتایا کہ طالبان کے آنے کے ساتھ ملک کی فوج اور پولیس کا نظام درہم برہم ہو گیا جس کی وجہ سے طالبان نے اپنے رضاکار جنگجوؤں سے کام لینا شروع کر دیا جن سے کئی غلطیاں ہوئیں، طالبان کے پاس تربیت یافتہ انسانی وسائل نہیں جو بارڈر اور شہروں کو کنٹرول کر سکیں، پاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے کی وجہ سے بھی افغانستان کے لوگوں میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے کیونکہ اس سے دونوں جانب کے لوگ تقسیم ہو گئے ہیں، رشتہ داریاں کٹ گئی ہیں، تجارت او ر آمدورفت پر برا اثر پڑا ہے، ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان نے افغانیوں کے لئے ویزے کا حصول بہت زیادہ مشکل بنایا ہے جس سے بے چینی بڑھ رہی ہے، تورخم سرحد پر تجارتی نقل و حمل بھی نہ ہونے کے برابر ہے جس سے افغانستان کے اندر پاکستان کے لئے نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہر افغان امور کے مطابق طالبان حکومت کی وہ گرفت اور اس کے پاس وہ وسائل نہیں ہیں کہ ٹی ٹی پی کے خلاف آزادانہ کاروائی کی جا سکے تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ طالبان حکومت بہت جلد ان کو امن سے رہنے یا پاکستان بھجوانے کا کوئی لائحہ عمل تیار کر سکتے ہیں، پاکستانی حکومت کو اس اہم مسئلے پر فوکس کرنا چاہئے اور فوری طور پر افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ گفت و شنید کرنی چاہئے کیونکہ اس صورتحال سے اور لوگ فائدہ اُٹھائیں گے اور وہ پاکستان کے لئے بہتر نہیں ہو گا۔

پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں کے خلاف سیاسی زعما، دفاعی تجزیہ کار اور ماہرین افغان امور سب یک آواز ہیں کہ وفاقی و صوبائی حکومت کو ایک پیج پر ہونا چاہئے، ان مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور دہشت گردی کی روک تھام کا ایک ہی حل نیشنل ایکشن پلان ہے جس پر من و عن عمل درآمد سے امن کو بحال رکھا جا سکتا ہے، اگر امن کوششوں کو مزید موثر بنانا ہے تو افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت سے ٹی ٹی پی کے حوالے سے بات چیت انتہائی مفید رہے گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو احسن طریقے سے بحال اور اس میں حائل تمام رکاوٹوں کا بھی متفقہ حل نکالا جا سکتا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button