سیاست

صحت کارڈ: قبائلی اراکین اسمبلی نے بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا

شاہد خان

قبائلی اضلاع کے لئے صحت کارڈ کی مد میں مختص کردہ فنڈز میں کٹوتی، انضمام کے وقت کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی سمیت ضم اضلاع کے حقوق کی پامالی کے خلاف، اور مطالبات کے منظور ہونے تک جہاں خیبر پختونخوا اسمبلی کے قبائلی اراکین نے بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تو پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے اپنی ہی حکومت سے بغاوت کا عندیہ دیتے ہوئے اپوزیشن ارکان کے ہمراہ احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

احتجاج اور بائیکاٹ کا اعلان کرنے والوں میں باجوڑ سے منتخب رکن اسمبلی اور پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر انور زیب، اقبال وزیر، ایم پی اے نصیر اللہ وزیر اور غازی غزن جمال سمیت قبائلی اضلاع سے منتخب دیگر اراکین شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ 23-2022 پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن اراکین کے بعد حکومتی اراکین نے بھی اپنی حکومت پر تنقید شروع کر دی۔ صوبائی وزیر انور زیب نے وفاق کی جانب سے قبائلی عوام کے صحت کارڈ کے فنڈز ختم کرنے کو قبائل دشمنی قرار دیتے اور صوبائی حکومت کو بھی قصوروار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے آتے ہی قبائلی علاقوں کے فنڈز سے اکیس ارب روپے کی کٹوتی کی، مرکز سے اپنا حق لینے کے لئے صوبہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے لیکن صوبائی حکومت بھی سن لے صوبے کے وسائل پر بھی قبائلی عوام کا پورا حق ہے، قبائلی نمائندے اس ایوان میں صرف ہاں اور ناں کرنے آتے ہیں، سرکاری نوکریوں میں بھی قبائلی نوجوانوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

انہوں نے صوبائی حکومت سے شکوہ کیا کہ کابینہ کا رکن ہونے کے باوجود 4 سال سے جاری منصوبے مکمل نہیں ہوتے، ایک ارب 32 کروڑ کے منصوبوں کے لئے صرف 4 کروڑ روپے جاری ہوئے، اپنی وزارت قبائلی عوام کے لئے قربان کرنے کو تیار ہوں۔

پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی نصیر اللہ بھی اپنی حکومت پر برس پڑے، ایوان میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام کو صحت انصاف پروگرام سے نکالنے کا اقدام ہماری حکومت میں ہوا، وفاق نے قبائلی عوام کو صوبائی بجٹ میں ایڈجسٹ کرنے کا کہا تو صوبائی حکومت نے کیوں بروقت اقدام نہیں کئے۔

انہوں نے اپنی بنیادی تنخواہ قبائلی عوام کے صحت کارڈ کو دینے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ بجٹ دستاویز میں قبائلی علاقوں کو این ایم ڈیز (نیولی مرجڈ ڈسٹرکٹس) کا نام دیا گیا، ہم نے انضمام این ایم ڈیز نہیں صوبے کا حصہ بننے کے لئے کیا تھا، ہم پر ہر وقت انضمام کا احسان نہ جتایا جائے، اگر اپنا نہیں سکتے تو پھر ہم فاٹا کی بحالی کا اعلان کرنے پر مجبور ہوں گے۔

پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی غزن جمال نے دھمکی دی کہ اگر ضم قبائلی اضلاع کو وفاقی حکومت نے اپنے فنڈز نہیں دیئے تو مرکزی حکومت کے خلاف دھرنا دیں گے، فاٹا کی بیس ہزار نوکریوں کے وعدے کہاں گئے، فاٹا کو این ایف سی ایوارڈ سے تین فیصد حصہ نہیں ملا، فاٹا کے اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر ہم سے مشاورت نہیں ہوئی، قبائل کے صحت کارڈز ختم کرنا بڑی ناانصافی ہے۔

آخر میں قبائلی اضلاع سے منتخب تمام اراکین صوبائی اسمبلی بشمول خواتین اراکین نے ایوان سے بائیکاٹ کیا اور واضح کیا کہ جب تک خدشات دور نہیں کئے جاتے بجٹ سیشن میں حصہ لیں گے نہ ہی بجٹ پاس کرنے کے عمل میں ووٹ کا استعمال کریں گے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button