لائف سٹائل

خیبرپختونخوا میں 28 ہزار 882 ایکڑ پر کاشت کی گئی گندم بارشوں کی نذر ہوگئی

 

عبدالقیوم آفریدی

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خیبر پختونخوا میں کاشتکاروں کے لئے شدید نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ اپریل میں حد سے زیادہ بارشوں کے باعث صوبے کی زراعت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں سے نہ صرف مختلف شعبہ جات متاثر ہوئے بلکہ جانی اور مالی نقصان بھی ہوا ہے۔

خیبر پختونخوامیں 10 سے 30 اپریل تک ہونے والی بارشوں کے سلسلے نے صوبے کی زراعت کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ محکمہ زراعت خیبر پختونخوا کے اعدادو شمار کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں ہونے والی بارش، سیلاب اور ژالہ باری سے 36 ہزار ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق صوبے کے 15 اضلاع میں 28 ہزار 882 ایکڑ گندم بارشوں کی نذر ہوگئی۔ محکمہ زراعت خیبر پختونخوا کراپس رپوٹنگ کے مطابق 12 ہزار 900 ایکڑ اراضی پر کھڑی گندم کو بارش اور ژالہ باری نے نقصان پہنچایا ہے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈی آئی خان میں سب سے زیادہ 7 ہزار 2 سو 90 ایکڑ رقبے پر گندم کی فصل کو نقصان پہنچا ہے۔ مردان میں 5 ہزار 4 سو ایکڑ زمین پر گندم کی فصل متاثر ہوئی ہے۔

نوشہرمیں 449 ایکڑ رقبے پر گندم ،شمالی وزیرستان میں667 ایکڑ رقبے پر پھلوں کے باغات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ جنوبی وزیرستان میں 321 ایکڑ رقبے پر گندم، پھل اور سبزیوں کو شدید بارشوں اور ژالہ باری نے متاثر کیا ہے۔ پشاور میں سب سے زیادہ 12 ہزار 904 ایکڑ رقبے پر گندم ، 190 ایکڑ پر محیط سبزیوں ، 27 ایکڑ پھلوں کے باغات کو نقصان پہنچا۔ اسی طرح 5 ہزار 859 ایکڑ رقبے پر جانوروں کا چارہ بھی متاثر ہوا۔ محکمہ زراعت کے اعدادوشمار کے مطابق سوات میں مجموعی طور پر 158 ایکڑ پر گندم، پیاز، مٹر ،لہسن کے فصل متاثر ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ اورکزئی ، اپر اور لوئر چترال اور کوہاٹ میں بھی سینکڑوں ایکڑ رقبے پر محیط گندم کی فصل کے علاوہ مختلف سبزیوں اور پھلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں 4 سو ایکڑ اراضی پر کھڑی گندم کی فصل بھی متاثر ہوئی ہے جبکہ گنے کے کھیتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

ضلع چارسدہ کے کاشتکار طیب محمد زئی نے بتایا کہ حالیہ بارش اور سیلاب کی وجہ سے انہیں کافی نقصان پہنچا ہے۔دریائے خیالی کے قریب واقع منظورے گاﺅں میں باپ دادا کے زمانے سے کھیتی باڑی کرتے چلے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپریل میں معمول سے زیادہ بارشوں سے انکے گندم اور گنے کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ طیب نے بتایا کہ 5 جرب زمین پر انہوں نے گندم اگائی تھی جو کہ پک چکی تھی اور بالکل آخری مرحلے میں فصل تھی لیکن دریائے سوات پر سیلاب کی وجہ سے پانی انکے کھیتوں میں داخل ہوگیا جس سے ان کی گندم اور گنے کی فصل خراب ہوگئی۔ طیب نے مزید بتایا کہ عام طور پر اپریل اور مئی میں گندم کی فصل کٹائی کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے لیکن مطلع ابر الود رہنے اور بارش کے سلسلے نے گندم اور سبزیوں کی مخصوص دورانیے کو متاثر کیا جبکہ رہی سہی کثر سیلاب نے پوری کردی۔ انہوں نے بتایا کہ وقت بے وقت بارشوں اور درجہ حرارت میں کمی یا زیادتی کی وجہ سے کاشتکاری میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے محکمہ زراعت کو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

پشاور کے زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر داکٹر جہان بخت نے بتایا کہ وقت بے وقت بارشوں اور ژالہ باری کا ہونا اور درجہ حرارت میں معمول سے ہٹ کر کمی یا اضافے کے باعث خیبر پختونخوا میں زراعت کا شعبہ نہایت متاثر ہوا ہے۔ سمندر کے درمیان سے اٹھنے والی ہوائیں مشرق سے مغرب کی جانب چلتی ہے لیکن اس وقت درجہ حرارت بڑھ جانے کی وجہ سے ہواوں کا رخ تبدیل ہوجاتا ہے اور یہ ہوائیں مغرب سے مشرق کی طرف یہ چلنے لگتی ہے جس سے پاکستان سمیت متعدد دیگر ممالک بھی شدید بارشوں ژالہ باری کی زد میں رہی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے پہلے بھی ایسی بارشیں ہوئی ہیں جن سے زیادہ تر پاکستان کے بلوچستان اور ایران کے علاقے متاثر ہو رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان بارشوں سے دیگر شعبوں کی طرح زراعت کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

شرافت آفریدی محکمہ زراعت ایگری کلچر افیسر کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث صوبے میں مختلف فصلوں اور سبزیوں کو نقصان پہنچا ہے ہیں جن کےلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب کاشتکار خود بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے اپنی فصلوں کو بچانے کےلئے اقدامات کر سکتے ہیں جن میں زمیندار یا کاشتکار کو متعلقہ فصل کی بوائی 20 سے 30دن پہلے کرنی چاہئے۔ اور اسی طرح یہ فارمولا سبزیوں پر بھی لاگو کرنا چاہیے۔ شرافت آفریدی نے کہا کہ مثال کے طور پر اگر21 اکتوبرسے گندم کی بوائی کی جاتی ہے تو کسانوں کو چاہئے کہ اس کو بیس یا تیس دن پہلے کاشت کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے زراعت تو متاثر ہورہی ہے لیکن اب ہمیں ان اثرات کو کم کرنے کے لئے کاشتکاری کے مختلف طریقے اپنانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کاشتکار کو اس حوالے سے معلومات نہیں ہے تو وہ اپنے متعلقہ علاقے کے زرعی دفتر سے رابطہ کرکے معلومات لے سکتا ہے اور ماہرین کے مشوروں پر عمل کرکے فصلوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچایا جاسکتا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button