لائف سٹائل

جنوبی وزیرستان: جرگہ نے صحافی کے خاندان کو علاقہ بدر کر دیا

سلمان یوسفزئی

خیبر پختونخوا کے سابقہ قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں زلی خیل قبائلی عمائدین پر مبنی جرگہ نے صحافی معراج خالد وزیر پر عائد کردہ 5 لاکھ روپے جرمانے کی عدم ادائیگی پر ان کے خاندان کو علاقے سے بے دخل کر دیا۔

اس حوالے سے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تعلق رکھنے والے صحافی معراج خالد وزیر کے والد شیر علی خان نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ان کے بیٹے معراج خالد نے سوشل میڈیا پر جرگہ کے ایک فیصلے کے خلاف ایک پوسٹ کی تھی۔ مقامی جرگہ نے صحافی کی پوسٹ کو اپنی توہین قرار دیتے ہوئے معراج خالد کے گھر کو مسمار کرنے یا پوسٹ کرنے پر 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

شیر علی خان کے بقول وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کر سکیں اس لیے انہوں نے علاقہ بدر ہونے کا فیصلہ کیا اور 25 ستمبر کی شام کو جنوبی وزیرستان سے راولپنڈی دوست کے گھر منتقل ہو گئے۔

خیال رہے کہ صحافی معراج خالد وزیر گزشتہ ایک سال سے چین میں زیرتعلیم ہیں اور وہ یہاں نجی میڈیا اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

ان کے بقول جرگہ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جب تک ہم جرمانہ ادا نہیں کریں گے تب تک ہم اپنے گھر میں رہ سکتے ہیں نہ کسی سے پناہ مانگ سکتے ہیں۔ اور اگر کسی نہ بھی ہمیں پناہ دی تو جرگہ ان پر بھی 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں صحافی معراج خالد نے ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا: ‘علاقائی رواج کے مطابق کسی بھی جھگڑے میں قصوروار شخص کا گھر مسمار کرنا غلط ہے کیونکہ اس سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے خصوصاً بچے اور خواتین۔’

صحافی معراج وزیر کے مطابق نو رُکنی روایتی جرگہ نے حال ہی میں دو فریقوں کے درمیان تنازعہ نمٹایا تھا۔ جرگہ نے ایک فریق کا گھر مسمار کر کے اس پر جرمانہ بھی عائد کیا تھا جس پر معراج خالد وزیر نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ‘ریاست کے اندر ریاست’ نہیں ہونی چاہیے۔

اِس کے بعد روایتی جرگہ نے معراج خالد وزیر کی اس تنقید پر نہ صرف اُن کا گھر مسمار کرنے کا حکم دیا بلکہ ان پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔

معراج وزیر کے مطابق ‘چونکہ سابقہ قبائلی اضلاع میں ریاست کے ہوتے ہوئے جرگہ کسی جرم میں ملوث افراد کے گھروں کو مسمار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ میں نے اپنے پوسٹ میں لکھا تھا کہ یہاں قانون کی پاسداری قائم ہے۔ اگر کوئی شخص کسی بھی غلط کام میں ملوث ہو تو یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ کسی ایک شخص کی غلطی کی سزا پورے گھرانے کو دینا غیرقانونی اقدام ہے۔’

انہوں نے کہا کہ اس پوسٹ کے بعد زلی خیل قوم کے مقامی جرگہ نے انہیں حکم دیا کہ صبح تک آپ 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کریں کیونکہ آپ نے ہماری اجازت کے بغیر پوسٹ کی ہے ورنہ ہم آپ کے گھر کو مسمار کر دیں گے: ”چونکہ یہ معاملہ میڈیا پر آ گیا تھا اور وانا میں ہمارے گھر پولیس بھی تعینات کر دی گئی تھی اس لیے گھر کو مسمار نہیں کیا گیا۔ تاہم پیر کو جرگہ نے ہمارا گھر سیل کر کے ہماری فیملی کو بے دخل کر دیا۔

معراج کے بقول بطور صحافی انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اس لیے وہ جرمانہ نہیں بھریں گے: ‘اگر جرگہ سمجھتا ہے کہ میں نہ کوئی غیرقانونی کام کیا ہے تو وہ مجھ پر عدالت میں کیس کریں۔ میں کیس لڑنے کے لیے تیار ہوں۔ عدالت جو فیصلہ کرے گی مجھے قبول ہو گا۔’

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جنوبی وزیرستان فرمان اللہ نے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بارے میں بتایا کہ ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ غیرقانونی اقدامات کی روک تھام کریں جس میں ہم کامیاب بھی ہوئے ہیں اور معراج خالد کا گھر گرانے نہیں دیا۔

اسسٹنٹ کمشنر جنوبی وزیرستان محمد ناصر نے زلی خیل قومی جرگہ کے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ فیصلے کے بعد صحافی کے گھر پولیس تعینات کر دی گئی۔ جبکہ جرگہ کو بتا دیا گیا ہے کہ کسی کے گھر کو مسمار کرنا غیرقانونی اقدام ہے اس لیے انتظامیہ انہیں اس طرح کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی رسول داوڑ نے اس حوالے سے بتایا کہ سابقہ قبائلی اضلاع میں حکومتی رٹ کمزور ہونے کی وجہ سے نام نہاد ملکان اور مشران جرگہ کے ذریعے اس قسم کے غیرقانونی فیصلے کرتے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ، اور پولیس خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔

ان کے بقول گزشتہ ماہ شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں اتمانزئی قبیلے کے جرگہ نے اس طرح دو شہریوں کے گھر نذر آتش کیے جس پر صحافیوں نے خبر بنائی۔ اس کے بعد جرگہ نے ان سمیت دیگر صحافیوں کو پیش ہونے کا حکم دیا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے کیونکہ ان کے مطابق جرگہ غیرقانونی اقدامات اٹھا رہا تھا جس کے خلاف آواز اٹھانا بطور صحافی ان کی ذمہ داری ہے۔

داوڑ کے مطابق قبائلی اضلاع میں کام کرنے والے صحافی کوشش کرتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات کو رپورٹ نہ کریں کیونکہ انہیں علم ہے کہ حکومتی رٹ کمزور ہونے کے باعث صحافی اور ان کے اہل خانہ کو خطرات کا سامان کرنا پڑ سکتا ہے۔

صحافی رسول داوڑ کے بقول فاٹا انضمام کے بعد جرگہ کی کوئی اہمیت نہیں رہی کیونکہ یہ علاقے باقاعدہ طور پر خیبر پختونخوا میں ضم ہوئے ہیں اور اب وہاں بھی، پولیس عدالت اور قانون کی عملداری موجود ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے بھی عدالت میں جرگہ کے ان اقدامات کے خلاف کیس دائر کیا تو عدالت متعلقہ شخص/ خاتون کے حق میں فیصلہ سنائے گی۔ تاہم کوئی بھی جرگہ سے ٹکر لینے کو تیار نہیں اس لیے جرگہ اپنی مرضی کے فیصلے عوام پر مسلط کرتا ہے۔

جرگہ کا موقف

زلی خیل کے نو رکنی جرگہ نے ضلعی پریس کلب وانا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی امن اور انصاف کے فروغ کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ ہم قانون اور حکومت کے خلاف نہیں جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ مقامی مسائل ہمارے روایتی جرگہ سسٹم کے ذریعے حل کیے جائیں۔

جرگہ کے رکن ملک محمد اسلم نے اس موقع پر کہا: ‘مقامی صحافی معراج خالد سوشل میڈیا پر کمیٹی کے خلاف منفی خبریں پوسٹ کر رہا تھا اس لیے اس کے خلاف یہ فیصلہ لیا گیا۔’

نگران وزیراعلی کا نوٹس

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے نگران وزیراعلی اعظم خان نے بھی اس معاملے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ نگران وزیراعلی نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ سے رابط کر کے صحافی کے اہل خانہ کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلی ہاوس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں متعلقہ ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو فوری طور ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی جائے۔ کسی بھی شخص یا گروہ کو کسی کا گھر مسمار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیراعلی کے مطابق اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کو قانون کے مطابق سزا دینا عدالتوں کا کام ہے کسی گروہ یا فرد کا نہیں۔

اِدھر صحافی معراج خالد کی جانب سے جرمانہ کی عدم ادائیگی پر ان کا گھر مسمار کرنے کے فیصلے پر قبائلی اضلاع کی صحافی برادری بھی سر تاپا احتجاج ہے۔ اس سلسلے میں 25 ستمبر کو ڈسٹرکٹ پریس کلب لدھا میں ایک گرینڈ میٹنگ منقعد ہوئی جس میں محسود پریس کلب، ٹانک پریس کلب، شمالی وزیرستان پریس کلب، وانا پریس کلب، ڈیرہ اسماعیل خان پریس کلب، دامان پریس کلب اور بیٹنی پریس کلب کے صدور کے علاوہ مقامی صحافیوں نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر صحافیوں نے جرگہ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وانا میں صحافی معراج خالد وزیر کے ساتھ ناانصافی و ظلم ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ پر جرمانہ کے بہانے ان کا گھر مسمار کرنا غیرمنصفانہ اور غیرقانونی اقدام ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔ قبائلی عمائدین خاص کر شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے صحافیوں پر اس طرح کی پابندیاں لگانے سے گریز کریں۔

نوٹ: یہ سٹوری پاکستان پریس فاؤنڈیشن( پی پی ایف) کی تحقیقاتی فیلو شپ کا حصہ ہے۔

Show More

Salman

سلمان یوسفزئی ایک ملٹی میڈیا جرنلسٹ ہے اور گزشتہ سات سالوں سے پشاور میں قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ مختلف موضوعات پر کام کررہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

Back to top button