لائف سٹائل

کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن پر عمل درآمد کے لیے تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد

 

یواین ڈی پی نے چترال اور پشاور میں مختلف سرکاری محکمہ جات کے افسران اور کمیونٹی ممبران کے لئے کلائمیٹ چینچ ایڈاپٹیشن ایکشن پلان (موسمیاتی تبدیلی سے موافقت پید ا کرنے کے لئے ایکشن پلان) کے بارے میں تین روزہ جامع تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔

اس ورکشاپ کا مقصد شرکاء کو اس ایکشن پلان کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کے لئے ضروری معلومات اورمہارتوں سے آراستہ کرنا تھا جوکہ اس ایکشن پلان میں بیان کئے گئے ہیں۔ یہ تربیت یو این ڈی پی کے گلاف ٹو پراجیکٹ کے تحت منعقد کی گئی جس کو وزارت موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل کلائمیٹ چینج فنڈ (GCF)کی مالی معاونت حاصل تھی۔

اس تربیتی ورکشاپ میں ایکشن پلان اور نیشنل کلائمیٹ چینج پالیسی کی روشنی میں قدرتی آفات سے نقصانات میں کمی لانے اور کمیونٹی کو اس کے لئے پہلے سے تیار رکھنے اور خصوصی طور پر خواتین، بچوں اور معذور افراد کے حوالے سے لائحہ عمل تیارکرنا تھا۔ ورکشاپ میں شرکت کرنے والے فعال کمیونٹی ممبرز کا تعلق لویر چترال کے ارکاری اور مداک لشٹ کی وادیوں سے تھا جوکہ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹ جانے سے آنے والے سیلاب یعنی گلاف (GLOF)کے خطرات سے دوچار ہیں۔

تربیت کے دوران شرکاء کو خیبر پختونخو ا اور گلگت بلتستان کے حوالے سے موسمیاتی تبدیلی کے انڈیکیٹرز اور مستقبل میں ممکنہ طور پر پیش آنے والے خطرات کے بارے میں تفصیل سے بریفنگ دی گئی۔ اس سیشن میں گلوبل اور نیشنل کلائمیٹ چینچ پالیسیوں اور فریم ورک پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔

یو این ڈی پی کا گلاف ٹو پراجیکٹ گلگت بلتستان کے 16جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف 8 وادیوں میں کام کرکے کمیونیٹیز کو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والے والے آفات کے بارے میں جامع معلومات فراہم کررہا ہے جو انکو مقامی طور پر آفات سے نمٹنے کے لئے تیار رکھنے میں مدد دیتی ہے جس میں خواتین کو بھی برابر شریک کیا جاتا ہے۔

اس کے مقاصد میں فوڈ سیکورٹی اور ذریعہ معاش کی بہتری کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔ گلاف ٹو پراجیکٹ کے صوبائی کوارڈینیٹر شہزادہ اقتدار الملک نے اختتامی تقریب میں ورکشاپ کے شرکاء میں سرٹیفیکٹ تقسیم کئے۔ اس سے قبل اس نوعیت کا تربیتی ورکشاپ پشاور میں بھی منعقد کیا گیا تھا۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button