بلاگزلائف سٹائل

ایسی لڑکیاں چاہئیے جو ایک تھپڑ کے بدلے مخالف کو دو رسید کریں

 

ناہید جہانگیر

لڑکی ایک تھپڑ وصول کریں تو بدلے میں تو 2 تھپڑ لگانے کے گُر جانتی ہو،ہراساں ہونے، پرس موبائل چوری ہونے کی مصیبت ہی نا آئے، وقت آ گیا ہے کہ ایک خاتون نا صرف خود کی حفاظت جانتی ہو بلکہ خاندان کو بھی کسی خطرے سے محفوظ رکھ سکتی ہو۔
سیلف ڈیفنس کسی بھی عمل کا ردعمل ہوتا ہے یا جوابی کاروائی ہوتی ہے۔ موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے لڑکی کو سیلف ڈیفنس آنا چاہئے تاکہ کسی بھی خطرے کی صورت میں خود کی حفاظت کرسکیں۔ پاکستان اور پھر خیبر پختونخوا کی اگر بات کی جائے تو خواتین کی تعلیم سے لے کر تمام حقوق پر نا صرف بات کی جاتی ہے بلکہ ان کو دلانے کے لئے جدو جہد بھی کی جاتی ہے ، جبکہ خواتین خود کی کس طرح حفاظت کریں یا کسی بھی خطرے سے خود ہی نمٹے اس حوالے سے شعوربیدار کرنے اور تربیت کی اب بھی کافی کمی ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ جرائم امریکہ میں ہوتے ہیں جبکہ چین اور جاپان جو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ہیں وہاں جرائم کی شرح سب سے کم ہے۔ اسکی سب سے بڑی وجہ سیلف ڈیفنس کی تربیت ہے۔
خواتین کو ذہنی و جسمانی دونوں صورت میں اس قابل ہونا چاہئے کہ وہ کسی بھی حملے یا مصیبت میں خود کا دفاع کریں۔ ذہنی تربیت اس طرح کرنی چاہئے کہ جب بھی کوئی مشکوک قسم کے حالات پیدا ہو تو وہ آسانی سے جان سکیں کہ شاید کوئی اسکا پیچھا کر رہا ہے یا یہ مشکوک اچانک حملہ کر سکتا ہے یا کوئی برا ہونے والا ہے اور ان حالات میں کیسے خود کو بچایا جا سکتا ہے۔

ذہنی تربیت کے بعد جسمانی طور پر خواتین کو تربیت کی بہت ضرورت ہے کہ اگر کوئی مشکل وقت آئے تو جسمانی طور پر کیسے مقابلہ کیا جائے۔
ہمارے معاشرے میں خواتین کی حفاظت مردوں کی زمہ داری سمجھی جاتی ہے لیکن وقت اور حالات بدل گئے ہیں مرد ہر وقت عورت کے ساتھ نہیں ہوتا کیوں نا ہم اپنی بچیوں کو ٹرین کریں کہ نا صرف خطرے کو محسوس کریں یا آسانی سے جانیں بلکہ کسی بھی عمل پر زبردست ردعمل ظاہر کریں۔

کہا جاتا ہے کہ لڑکی کمزور ہے لیکن کس بیس پر یہ پروف کسی کے پاس نہیں ہے
کیا ایک مرد کسی ریسلر خاتون کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے؟
کیا مرد کسی خاتون رنر کے ساتھ دوڑ لگا سکتا ہے؟
کبھی بھی نہیں تو بات صرف تربیت کی ہے ہمارے معاشرے میں کسی بھی لڑکی کو اسطرح ٹرین نہیں کیا جاتا جسطرح ایک مرد کو کیا جاتا ہے ۔ ذہانت اور قابلیت میں خواتین مردوں سے کم نہیں ہیں۔

مرد کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی تیرنا آتا ہو موجودہ صورت حال کو دیکھیں تو اگر سیلاب کی صورت میں خواتین کو تیرنا آتا ہو درخت پر چڑھ سکتی ہو تو اس میں کوئی برائی تو نہیں ہے لیکن نہیں تیرنا یا غوطہ زن صرف مرد ہی ہوتے ہیں۔
چین اور جاپان جیسے ممالک میں خواتین کی سیلف ڈیفنس پر خاص توجہ دی جاتی ہے ان کی قوت مدافعت پر کام کیا جاتا ہے۔اس طرح بھارتی حکومت سیلف ڈیفنس پر حکومتی سطح پر کام کرتا ہے۔ گرمی کی چھٹیوں میں پولیس محمکہ خواتین کو سیلف ڈیفنس کے لئے کیمپ کا اہتمام کرتا ہے۔
دنیا میں کراٹے سب سے بہترین سیلف ڈیفنس آرٹ ہے جس میں کسی بھی مسلح حملے کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ بے شمار تکنیک ہیں جس میں سیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح کسی کو بآسانی قابو کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں بھی حکومت اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے خواتین کے سیلف ڈیفنس پر کام کریں سکول ، کالج اور مدرسہ لیول پر ایسی تربیت دی جائے جس میں خواتین کو کسی بھی قدرتی آفات ، خطرے ،مصیبت کی صورت میں خود کو اور خاندان کو کسی بھی خطرے سے باحفاظت بچا سکیں۔ یہ تربیت لینے کے بعد خواتین خود کو صنف نازک نہیں بلکہ معاشرے کی با اعتماد فرد محسوس کر سکیں گی۔ سیلف ڈیفنس سے خواتین میں احساس کمتری کم ہوگی اور خود اعتمادی بڑھے گی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button