خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا: ضم اضلاع میں خواتین وکلاء کی عدم موجودگی سے خواتین کو انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا

ضم اضلاع میں تعلیم کی شرح کم ہے، اور اس وجہ سے بھی خواتین فیلڈ میں کم دکھائی دیتی ہیں۔ رابعہ گل

"قبائلی اضلاع میں خواتین وکلاء کی تعداد بہت کم ہے۔ کچھ اضلاع میں خواتین وکلاء ہیں ہی نہیں جس کی وجہ سے مقامی خواتین کو انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔”

یہ کہنا تھا ضلع باجوڑ کی پہلی خاتون وکیل رابعہ گل کا جو پشاور ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ باجوڑ میں بھی کیسز ڈیل کر رہی ہیں۔ رابعہ گل کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع میں تعلیم کی شرح کم ہے، اور اس وجہ سے بھی خواتین فیلڈ میں کم دکھائی دیتی ہیں۔ رابعہ گل کے مطابق ضم اضلاع سے خواتین فیملی کیسز زیادہ درج کروا رہی ہیں۔

ضم اضلاع کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قبائلی اضلاع میں خواتین کو جائیداد سمیت کئی ایک مسائل درپیش ہیں لیکن وہ بہت کم ہی عدالتوں کا رخ کرتی ہیں کیونکہ ایک تو مقامی روایات کی وجہ سے ان کو گھر سے نکلنے کی اجازت کم ہوتی ہے، دوسرا ان کو عدالتوں کے حوالے سے بھی معلومات نہیں ہوتیں اور کورٹ کچہری کے چکر میں پڑ کر وہ اپنے لیے مزید مشکلات کھڑی نہیں کرنا چاہتیں۔

یہ بھی پڑھیں: وادی تیراہ: فائرنگ کے تبادلے میں 8 عسکریت پسند مارے گئے، 8 اہلکار جاں بحق

ان کا کہنا تھا کہ ایک اہم مسئلہ قبائلی اضلاع میں خواتین وکلاء کی کمی ہے۔ ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ عدالت کسی کام سے گئی تھی؛ وہاں ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی طرف سے خلع کا کیس دائر کیا تھا، وہ پریشان تھی کہ گھر کے مردوں سے روزانہ باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ کورٹ میں مرد وکلاء سے کیس ڈیل کروا رہی ہو: "میں کیا کروں یہاں ضم اضلاع میں خواتین وکلاء نہیں ہیں، تو کہاں جاؤں؟ بیٹی کے خلع کا مسئلہ ہے، کیس تو لڑنا ہے۔ اگر خواتین وکلاء ضم اضلاع میں آ جائیں تو یہاں کی خواتین بلاجھجھک عدالتوں میں آ سکیں گی۔”

وکالت ایک مشکل پیشہ ہے

انہوں نے بتایا کہ ان کی اپنی ایک دوست نے ایل ایل بی کی ڈگری لی ہے؛ اس کے پاس لائسنس بھی ہے لیکن وہ ایک سکول میں ٹیچنگ کر رہی ہے۔ مقامی روایات کی وجہ سے وہ وکالت کی ڈگری کے باوجود ٹیچنگ کو ترجیح دے رہی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ وکالت ایک مشکل پیشہ ہے جس میں مردوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو خواتین کے لیے تو مزید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

گوہر علی ایڈوکیٹ کا تعلق ضلع باجوڑ سے ہے؛ عرصہ چار سال سے وہ باجوڑ میں پریکٹس کر رہے ہیں اور مختلف کیسز کو ڈیل کر رہے ہیں۔ گوہر علی نے بتایا کہ ضم اضلاع میں پہلے عدالتیں نہیں تھیں کیونکہ ان علاقوں میں ایف سی آر کا قانون تھا اور یہاں وکلاء کی ضرورت نہیں تھی۔ جب قبائلی علاقے خیبر پختونخوا میں ضم ہوئے اور عدالتوں کا دائرہ اختیار ان اضلاع تک بڑھایا گیا تو یہاں وکلاء کی ضرورت محسوس ہوئی۔ گوہر علی نے بتایا کہ قبائلی اضلاع میں خواتین وکلاء نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں خواتین وکلاء کی بہت ضرورت ہے کیونکہ یہاں کے لوگ اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے کہ ایک خاتون اپنے کسی مسئلے کے حل کے لیے مرد وکیل کے پاس جائے: ”دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ خواتین اپنا مسئلہ مرد وکیل کے سامنے اس طرح سے نہیں بیان کر سکتیں جس طرح سے وہ ایک خاتون وکیل کو بتا سکتی ہیں۔ زیادہ تر کیسز فیملی کے ہوتے ہیں جن میں خواتین کی ازدواجی زندگی کے مختلف پہلو شامل ہوتے ہیں جو کسی خاتون وکیل کے سامنے ہی احسن طریقے سے بیان کئے جا سکتے ہیں۔”

گوہر علی نے امید ظاہر کی کہ آنے والے وقتوں میں ان اضلاع میں خواتین وکلاء زیادہ تعداد میں پریکٹس کر سکییں گی جس سے مقامی خواتین کو اپنے مقدمات دائر کروانے میں مدد ملے گی۔

لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں رجسٹرڈ وکلاء کی تعداد دو لاکھ 30 ہزار سے زائد ہے، اس میں خواتین وکلا کی تعداد محض چالیس ہزار ہے۔

مقدمات مرد وکلاء کا غلبہ رہتا ہے

پشاور ہائی کورٹ کی وکیل عائشہ بانو نے بتایا کہ اگرچہ بندوبستی علاقوں میں خواتین وکلاء موجود ہیں تاہم ان کی تعداد مردوں کی نسبت انتہائی کم ہے: "وکالت خواتین کے لیے ایک مشکل کام ہے، یہاں کیسز پر مرد وکلاء کا غلبہ رہتا ہے اور بہت کم ایسی خواتین ہیں جنہوں نے اس شعبے میں اپنا نام بنایا ہے۔ پشاور میں خواتین وکلاء کی تعداد قدرے زیادہ ہے تاہم باقی علاقوں میں بہت کم خواتین بارز کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔”

خیبر پختونخوا میں کتنی خواتین وکلاء پریکٹس کر رہی ہیں؟

خیبر پختونخوا بار کونسل کے اعدادو شمار کے مطابق صوبے میں اس وقت 22 ہزار وکلاء پریکٹس کر رہے ہیں جن میں سے تقریباً 15 ہزار فعال ہیں۔ کل فعال وکلا میں سے تقریباً 3200 خواتین ہیں جبکہ قبائلی اضلاع میں فعال خواتین وکلاء کی تعداد صرف 25 ہے۔

خیبر پختونخوا بار کونسل کے وائس چیئرمین صادق علی نے اس حوالے سے بتایا کہ بار کونسل خواتین وکلاء کو سامنے لانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہیں۔ ضم اضلاع سے تعلق رکھنے والی کئی خواتین وکلاء کو وظیفے دیئے جا چکے ہیں، اور اب تک 160 خواتین وکلاء کو تربیت دی جا چکی ہے جبکہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ان خواتین کی پروفیشنل گروتھ کی جاتی ہے، ساتھ میں ان کو بتایا جاتا ہے کہ ماحول سازگار ہے اور وہ بلاخوف و خطر وکالت کر سکتی ہیں۔

خواتین کیوں وکالت  کے شعبے میں نہیں آتیں؟

اس سوال کے جواب میں بار کونسل خیبر پختونخوا کے وائس چیئرمین نے بتایا کہ اکثر خواتین وُکلاء شادی کے بعد فیلڈ کو چھوڑ دیتی ہیں۔ اگرچہ خیبرپختونخوا میں خواتین وکلاء کی تعداد کم ہے تاہم دن بہ دن اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کچھ خواتین قبائلی اضلاع میں بھی پریکٹس کر رہی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین کے فیلڈ میں آنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

مہوش محب کاکاخیل دیگر خواتین کے لیے ایک رول ماڈل

اگرچہ خیبر پختونخوا، بشمول ضم اضلاع کے، میں خواتین وکلاء کی تعداد کم ہے تاہم یہاں کچھ خواتین وکلاء نے محنت سے نام کمایا ہے اور وہ دیگر خواتین کے لیے بھی رول ماڈل ہیں۔ انہی وکلاء میں سے ایک ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی مہوش محب کاکاخیل بھی ہیں۔ مہوش محب کاکاخیل 9 سال سے پشاور میں پریکٹس کر رہی ہیں اور زیادہ تر خواتین سے متعلق کیسز دیکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صنفی تشدد، ہراسگی، فیملی، سائبر کرائمز، وراثت اور جنسی زیادتی کے کیسز دیکھتی ہیں۔ مہوش محب کاکاخیل نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی ایڈوائزری ممبر بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ کے تحت ضلعی کمیٹیاں ابھی تک نہیں بن سکیں جس کے خلاف انہوں نے رٹ پٹیشن دائر کی اور پشاور ہائی کورٹ نے حکومت خیبر پختونخوا کو ہدایت کی کہ کمیٹیوں کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے عدالت عالیہ کو آگاہ کیا جائے۔ ان کمیٹیوں کے بننے سے گھریلو تشدد کا شکار خواتین کو ریلیف ملے گا کیونکہ تشدد کے کیسز پولیس تھانوں میں درج نہیں ہوتے اور توقع ہے کہ یہ کمیٹیاں خواتین کو ریلیف فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

مہوش محب کاکاخیل کے مطابق پشاور میں عوامی مقامات پر خواتین کے لیے مخصوص واش رومز نہیں تھے؛ انہوں نے اس مسئلے کو اجاگر کیا تو عوامی مقامات پر خواتین کے لیے ریسٹ رومز بنائے گئے۔

مہوش محب کاکا خیل کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں خواتین وکلاء کو کئی ایک مسائل درپیش ہیں: "جب ایک خاتون عدالت میں آتی ہے تو نہ ہی کوئی اس کو سکھاتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی تنخواہ ہوتی ہے۔ کئی خواتین وکلاء کو ہراسمنٹ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس پیشے کو خیرباد کہہ دیتی ہیں۔ ابھی میں نے صوبائی محتسب کے تعاون سے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے کہ اگر کسی خاتون کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کمیٹی سے رجوع کر سکے۔”

مہوش کے مطابق ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز میں خواتین وکلاء کے لیے کوٹہ نہیں ہے؛ خواتین کو ایگزیکٹو اور فنانس کی سیٹس پر لایا جاتا ہے لیکن اہم عہدوں پر ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ خواتین سال دو تک آتی ہیں لیکن جب ان کو پتہ چلتا ہے وکالت میں مالی مفاد نہیں، کوئی مراعات نہیں ہیں تو وہ اس کو خیرباد کہہ دیتی ہیں۔ خواتین وکلاء کے لیے مراعات ہونی چاہئیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

مہوش محب کاکاخیل نے تسلیم کیا کہ ضم اضلاع میں اگرچہ اس وقت خواتین وکلاء کی تعداد کم ہے تاہم توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ جائے گی۔ خواتین کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے ان کو بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک باعزت شعبہ ہے اور یہ سوچ غلط ہے کہ خواتین وکالت میں آگے نہیں جا سکتیں۔

مہوش محب کاکاخیل نے بتایا کہ خواتین وکلاء کی زیادہ تعداد اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ باقی خواتین کی آواز بن سکتی ہیں کیونکہ مقامی خواتین مرد وکلاء کے پاس جانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں؛ بعض اوقات انہیں وہاں ہراسمنٹ کا سامنا بھی کرنا پڑٹا ہے۔ جو خواتین معاشی طورپر کمزور ہوتی ہیں بالعموم انہیں ہی ایسے واقعات کا سامنا زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ جب خواتین وکلاء زیادہ ہوں گی تو خواتین اپنے کیسز مردوں کی بجائے خواتین کے پاس لے کر جائیں گی۔

اگرچہ ضم اضلاع میں خواتین وکلاء کی کمی اور باقی مسائل کی وجہ سے خواتین کم ہی عدالتوں کا رخ کرتی ہیں تاہم کچھ کیسز دوسروں کے لیے معشل راہ بن جاتے ہیں۔ حال ہی میں باجوڑ کی ایک خاتون کو عدالت کے ذریعے جائیداد میں حصہ مل گیا۔ باجوڑ کے عبد اللہ جان کی والدہ نے اپنے والد کی جائیداد میں حصے کے لیے عدالت کا رخ کیا، 6 سال تک کیس چلا اور چند روز قبل عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ یہ کیس اُن باقی خواتین کے لیے امید کی ایک کرن بن کر سامنے آیا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے عدالت کا رخ نہیں کرتیں۔

Show More
Back to top button